دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

حلبی نے اس عبارت پرتین طرح اعتراض کیا ، وہ لکھتے ہیں : میں کہوں گا (۱)جب خاك آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھانا مکروہ ہے تومٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا (۲)اوراس بارے میں اختلاف ہے کہ نماز میں پیشانی سے مٹی صاف کرنامکروہ ہے یا نہیں جیسا کہ آگے اسے ہم ذکرکریں گے۔

 

عـــــہ :  ذکـر فیہ معترکا ولم یتخلص من

اس میں معرکہ آرائی کی جگہ بتائی ہے اور(باقی برصفحہ آئندہ)

فـــــ ۱ : مسئلہ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔

فـــــ ۲ : مسئلہ : نمازی کو ہر وہ عمل کہ نماز میں مفید ہو جائز و غیر مکروہ اور ہر وہ عمل جس کا فائدہ نماز کی طرف عائد نہ ہو کم از کم مکروہ و خلاف اولی ہے ۔

فـــــ۳ : سجدہ میں ماتھے پر لگی ہوئی مٹی اگر ایذاء دے مثلا اس میں باریك کنکریاں ہوں یا کثیر ہوں کہ آنکھوں پلکوں پر چھڑتی ہے جب تو مطلقا اسے پونچھنے میں حرج نہیں اور نہ اخیر التحیات کے ختم سے پہلے مکروہ ہے اور اس کے بعد سلام سے پہلے حرج نہیں اور سلام کے بعد اسے صاف کردینا تو مستحب ہے بلکہ اگر ریا کا خیال ہو کہ لوگ ٹیکا دیکھ کر نمازی سمجھیں جب تو اس کا باقی رکھنا حرام ہوگا۔

الندب فـــــ الی تتریب الوجہ فی السجود

(۳) اور کپڑا تو درکنار چہرے کو سجدے میں خاك آلود

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

کلامہ کبیر شیئ اقول : والاوفق الالصق باصول المذھب ان لو اٰذاہ وشغل قلبہ کأن کان فیہ صغار حصی اوکان کثیرا یتناثر علی عیونہ وجفونہ مسح مطلقا ولو فی وسط الصلوٰۃ والاکرہ فی خلال الصلوۃ ولو فی التشہد الاخیر امابعدہ وقبل السلام فقد نصوا ان لاباس بہ بلا خلاف وبعد السلام یستحب المسح دفعا للاذٰی وکراھۃ للمثلۃ ففی الخانیۃ لاباس بان یمسح جبھتہ من التراب والحشیش بعد الفراغ من الصلوٰۃ وقبلہ اذا کان یضر ذالك و یشغلہ عن الصلوۃ وان کان ذالك یکرہ فی وسط الصلوٰۃ ولا یکرہ قبل التشہد والسلام[1] اھ وفی الحلیۃ وفی التحفۃ                                                                                                                                                                                                                                                                               

ان کے کلام سے کوئی بڑی بات حاصل نہیں ہوتی۔ اقول : اصولِ مذہب سے زیادہ مطابق اور ہم آہنگ یہ ہے کہ مٹی سے اگر اسے تکلیف ہو اور اس کا دل بٹے مثلًا یہ کہ اس پر کنکریوں کے ریزے ہوں یا مٹی اتنی زیادہ ہوکہ آنکھوں اورپلکوں پرجھڑکرگرتی ہو تو اسے صاف کردے۔ مطلقًا۔ اگرچہ درمیانِ نماز میں ہو۔ ورنہ درمیانِ نماز صاف کرنامکروہ ہے اگرچہ تشہد اخیر میں ہو ، اور اس کے بعد ، سلام سے قبل صاف کرنے سے متعلق علماء کی بلا اختلاف تصریح ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اور بعدسلام صاف کرنادفع اذٰی اورکراہت مثلہ کے پیش نظر مستحب ہے۔ خانیہ میں ہے : اس میں حرج نہیں کہ پیشانی سے مٹی اورتنکا نماز سے فارغ ہونے کے بعدصاف کردے اوراس سے پہلے بھی جب کہ اس سے اسے ضررہو اور نماز سے اس کا دل بٹتاہو۔ اور اگر اس سے ضرر نہ ہو تودرمیانِ نماز مکروہ ہے اورتشہد وسلام سے پہلے مکروہ نہیں ۔ اھ۔ حلیہ میں ہے : تحفہ میں ہے کہ (باقی برصفحہ آئندہ)

 

فـــــ : مسئلہ : مستحب ہے کہ سجدہ میں سر خاك پر بلا حائل ہو ۔

فضلا عن الثوب فکون نفض

کرنے کی ترغیب آئی ہے تو یہ بات عیاں طور پر

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

فی ظاھر الروایۃ یکرہ فی وسطھا ولا باس بہ اذا قعد قدر التشہد [2]ونص علی انہ الصحیح ونص رضی الدین فی المحیط علی انہ الاصح الخ وفیھا نصوا علی انہ لاباس بان یمسح بعد مافرغ من صلوتہ قبل ان یسلم [3]قال فی البدائع بلا خلاف لانہ لوقطع الصلوٰۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ فلأن لایکرہ ادخال فعل قلیل اولی [4] الخ  وفیھا عن الذخیرۃ اذمسح جبھۃ بعد السلام یستحب لہ ذلك لانہ خرج من الصلوٰۃ وفیہ ازالۃ الاذی عن نفسہ[5] الخ

اقول :  ولو ابقاہ معاذ الله ریاء                                            ظاہر الروایہ میں یہ درمیان نماز مکروہ ہے اور جب بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اوراس پر نص فرمایا کہ یہی صحیح ہے اورمحیط میں رضی الدین نے یہ تصریح فرمائی کہ یہ اصح ہے الخ۔ اورحلیہ میں یہ بھی ہے : علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ بدائع میں فرمایا اس میں کوئی اختلاف نہیں تو فعل قلیل اختلاف نہیں کیوں کہ اس حالت میں اس کا نماز قطع کردینا مکروہ نہیں توفعل قلیل داخل کردینا بدرجہ اولٰی مکروہ نہ ہوگا۔ اورحلیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے : بعد سلام اپنی پیشانی صاف کرے تویہ اس کے لئے مستحب ہے اس لئے کہ وہ نماز سے باہر آچکا ہے اوراس میں اپنے سے گندگی(اذی) دور کرنا بھی ہے الخ۔

اقول : اور اگر معاذالله ریا کاری کے لئے  (باقی برصفحہ آئندہ)

الثوب من التراب عملا مفیدا

محلِ نظر ہے کہ مٹی سے کپڑے کو جھاڑنا کوئی مفید عمل ہے

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

الناس حرم قطعا کما لایخفی ورأیتنی کتبت علی قول البدائع لوقطع الصلوۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ مانصہ۔

اقـول  : کیف فـــــ لایکرہ مع ان الواجب علیہ الانھاء بالسلام لاالقطع بعمل غیرہ فان اراد بالقطع الانھاء منعنا القیاس لانہ مامور بہ کیف یقاس علیہ مالیس مطلوبا وھو مالم ینھھا لایقع مایقع الا فی خلالھا الا تری الی الاثنا عشریۃ قال فی الھدایۃ علی تخریج البردعی ان الخروج عن الصلوٰۃ بصنع المصلی فرض عند ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ فاعتراض ھذہ العوارض عندہ فی ھذہ الحالۃ کاعتراضھا فی خلال الصلوۃ[6] اھ وفی الفتح                                                

اسے باقی رکھے تو قطعًا حرام ہے جیسا کہ واضح ہے۔ اور بدائع کی عبارت “ اس حالت میں اس کانماز قطع کردینا مکروہ نہیں “ پرمیں نے اپنا تحریر کردہ یہ حاشیہ دیکھا:

 



[1]   فتوی قاضی خان کتاب الصلوۃ باب الحدث الصلوۃ الخ نولکشور لکھنو ص ۱ / ۵۷

[2]   تحفۃ الفقہاء کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا دارالفکر بیروت ص ۷۲

[3]   بدائع الصنائع کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی لاہور ۱ / ۲۱۹

[4]   بدائع الصنائع کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی لاہور ۱ / ۲۲۰ ، ۲۱۹

[5]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[6]   الہدایۃ کتا الصلوۃ باب الحدث فی الصلوۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۱۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن