30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اختلف فی تفسیر العبث فذکر الکردری انہ فعل فیہ غرض لیس بشرعی والمذکور فی شرح الھدایۃ وغیرھا ان العبث الفعل لغرض غیر صحیح حتی قال فی النھایۃ ما لیس بمفید فھو العبث [1] اھ فاقام الخلاف لاجل التعبیر فی احدھما بشرعی وفی الاخر بصحیح ومال سعدی افندی الی ان المراد بالصحیح ھو الشرعی اذفیہ الکلام فاشار الی نحوما نحونا الیہ ان التخصیص لخصوص المقام و لقد احسن فی البحر اذ جعل ماٰل مافی النھایۃ وغیرھا من الشروح واحد ا ولم یلتفت الی الفرق بین الغرض الغیر الصحیح وعدم الغرض ولکن کان عبارۃ العنایۃ محتملا للفرق بہ ایضا حیث نقل التعریف بما فیہ غرض غیر شرعی وبما لیس فیہ غرض صحیح ثم
عبث کی تفسیرمیں اختلاف ہے۔ بدر الدین کردری نے فرمایاوہ ایسا کام ہے جس میں کوئی ایسی غرض ہوجوشرعی نہ ہو۔ اور شرح ہدایہ وغیرہا میں ہے کہ عبث وہ کام ہے جو غرض غیر صحیح کے سبب ہو ، یہاں تك کہ نہایہ میں فرمایا : جو فائدہ مند نہیں وہی عبث ہے اھ۔ توصاحبِ بحرنے ایك میں “ شرعی “ سے تعبیر اوردوسری میں “ صحیح “ سے تعبیر کی وجہ سے اختلاف قرار دیا اور سعدی آفندی کا میلان اس طرف ہے کہ صحیح سے مراد وہی شرعی ہے اس لئے کہ کلام اسی سے متعلق ہے۔ توجس ر وش پرہم چلے اسی کی جانب انہوں نے اشارہ کردیاکہ یہ تخصیص خصوصیت مقام کے پیشِ نظر ہے۔ اوربحرمیں یہ بہت خوب کیا کہ نہایہ اوراس کے علاوہ شروح کی تعبیرات کا مآل ایك ٹھہرایا اور “ غرض غیرصحیح “ و “ عدم غرض “ کے فرق پر التفات نہ کیا۔ مگر عنایہ کی عبارت اس تفریق کابھی احتمال رکھتی تھی کیوں کہ اس میں دونوں تعریفیں نقل کیں : “ وہ جس میں غرض غیر شرعی ہواوروہ جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو “ ۔ پھرکہا کہ :
(باقی برصفحہ آئندہ)
آخر نہ دیکھا کہ مٹی سے بچانے فـــــ۱ کیلئے دامن اٹھانا غرض صحیح ہے اور نماز میں مکروہ کہ غرض مطلوب شرعی نہیں اور پیشانی فــــــ۲ سے پسینہ پونچھنا باآنکہ غرض مطلوب فی الشرع نہیں نماز میں بلا کراہت روا جبکہ ایذا دے اور شغل خاطر کا باعث ہو کہ اب اس کا ازالہ غرض مطلوب شرع ہوگیا۔ عنایہ ونہایہ و
قال ولا نزاع فی الاصطلاح[2] اھ فلہذا اجاب عنہ سعدی افندی بان النفی فی التعارف الثانی داخل علی القید [3] اھ
اقول : وھو مشکل بظاھرہ فان النفی اذا استولی علی مقید بقید صدق بانتفاء ایھما کان وانما یتم بالتحقیق الذی القینا علیك ان لا وقوع للفعل الاختیاری من دون غرض اصلا اھ منہ عفی منہ۔ (م)
اصطلاح میں کوئی نزاع نہیں اھ۔ اسی لئے سعدی آفندی نے اس کا جواب دیا کہ دوسری تعریف میں نفی قید پر داخل ہے اھ۔
اقول : اور وہ بظاہر مشکل ہے اس لئے کہ نفی جب کسی ایسی چیز پر وارد ہوتی ہے جو کسی قیدسے مقید ہے تو مقید اورقید کسی کے بھی انتفا سے نفی کا صدق ہوجاتا ہے۔ اب دونوں کے مآل میں وحدت کی بات اسی وقت تام ہوسکتی ہے جب وہ تحقیق لی جائے جو ہم نے پیش کی کہ فعل اختیار ی کا وقوع بغیر کسی غرض کے ہوتا ہی نہیں (تومالیس فیہ غرض صحیح کا مآل یہی ہوگاکہ اس کی کوئی غرض تو ضرور ہے مگرغرض صحیح ہے اوریہ صورت کہ سرے سے صحیح غیر صحیح کوئی غرض ہی نہ ہو ، واقع میں اس کا وجود نہ ہوگا ۱۲م)۱۲ منہ۔ (ت)
فــــ ۱ : مسئلہ : نماز میں مٹی سے بچانے کے لئے دامن اٹھانا مکروہ ہے ۔
فــــ ۲ : مسئلہ : نماز میں منہ پر پسینہ ایسا آیا کہ ایذا دیتا اور دل بٹتا ہے تو اس کا پونچھنا مکروہ نہیں ورنہ مکروہ تنزیہی ہے ۔
بحر وغیرہا میں ہے :
کل عمل یفید المصلی لاباس بہ لما روی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم عرق فی صلاتہ لیلۃ فسلت العرق عن جبینہ ای مسحہ لانہ کان یؤذیہ فکان مفید اواذا قام فـــــ من سجودہ فی الصیف نفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ کیلا تبقی صورۃ[4]۔
جس کام سے مصلی کو فائدہ ہواس میں حرج نہیں اس لئے کہ مروی ہے کہ حضورکوایك رات نماز میں پسینہ آیاتو حضور نے جبین مبارك سے پسینہ پونچھ دیا ، اس لئے کہ اس سے حضور کو تکلیف ہوتی تھی توپونچھنا مفید تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب گرمی کے موسم میں سجدہ سے اٹھتے تودائیں یا بائیں اپنا کپڑا جھٹك دیتے تاکہ صورت باقی نہ رہے۔ (ت)
حاشیہ سعدی افندی میں ہے :
یعنی حکایۃ صورۃ الا لیۃ [5]۔
یعنی سرین کی صورت کی نقل نہ ظاہر ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فلیس نفضہ للتراب فلا یرد ما فی البحر عن الحلیۃ انہ اذا کان یکرہ رفع الثوب کیلا یتترب لایکون نفضہ من التراب عملا مفیدا [6] اھ
ورأیتنی کتبت
تواسے جھٹکنا مٹی کی وجہ سے نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لئے وہ اعتراض واردنہ ہوگا جوبحرمیں حلیہ سے منقول ہے کہ جب خاك آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھالینامکروہ ہے تو مٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا اھ۔ اس عبارت پر میراحاشیہ
فـــــ : مسئلہ : گرمی کے موسم میں دامن پاجامہ سرین سے مل کر ان کی صورت ظاہر کرتا ہے اس سے بچنے کے لئے کپڑا داہنے بائیں نماز میں جھٹك دینا مکروہ نہیں بلکہ مطلوب ہے اور بلاحاجت کراہت ۔
علیہ اقول : الذی فـــــ۱ فی الحلیۃ ھکذاثم فی الخلاصۃ والنھایۃ وحاصلہ فــــــ۲ ان کل عمل مفید للمصلی فلا باس بفعلہ کسلت العرق عن جبینہ ونفض ثوبہ من التراب ومالیس بمفید یکرہ للمصلی الاشتغال بہ اھ واعترض علیہ بثلثۃ وجوہ[7] فقال قلت لکن اذا کان یکرہ رفع الثوب کیلا یتترب کما تقدم وانہ قد فـــ وقع الخلاف فی انہ یکرہ مسح التراب عن جبھتہ فی الصلاۃ کما سنذکرہ وانہ قد وقع
یہ ہے : اقول : حلیہ کی عبارت اس طرح ہے : پھرخلاصہ اورنہایہ میں ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مصلی کے لئے مفیدہواس کے کرنے میں حرج نہیں جیسے پیشانی سے پسینہ پونچھنا ، اورمٹی سے کپڑا جھاڑنا۔ اورجومفید نہیں ہے اس میں مشغول ہونا مصلی کے لئے مکروہ ہے اھ۔
[1] بحرالرائق کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹
[2] العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
[3] حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
[4] العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسد الصلوۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ ، البحرالرائق بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹ ، رد المحتار بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۰
[5] حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷
[6] رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع