دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ [1]

عبث لعب کی طرح ہے جوفائدہ سے خالی ہو ۔ (ت)

تعریفات علامہ شریف میں ہے :

اللعب ھو فعل الصبیان یعقب التعب من غیر فائدۃ [2]اھ

اقول :   وتعقیب التعب خرج نظرا الی الغالب و لیس شرطا لازما کما لایخفی ۔                                  لعب و ہ بچوں کا کام ہے جس کے بعد تکان آتی ہے اور فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔

اقول : بعدمیں تکان ہونے کا ذکر غالب واکثر کے لحاظ سے ہوا یہ لعب کی کوئی لازمی شرط نہیں جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)

 

فـــــ۱ : مصنف کی تحقیق کہ عبث کی بارہ تعریفو ں کا حاصل ایك ہے اوراس کی تعریف جامع مانع کا استخراج ۔
فـــــ ۲ : لعب ولہوو ہزل وباطل وعبث متقارب المعنی ہیں ۔

اصول امام فخر الاسلام بزدوی قدس سرّہ میں ہے :

اما الھزل فتفسیرہ اللعب وھو ان یراد بالشیئ مالم یوضع لہ وضدہ الجد [3]

ھزل کی تفسیر لعب ہے وہ یہ کہ کسی شے سے وہ قصد کیاجائے جس کے لئے اس کی وضع نہ ہوئی اس کی ضد “ جِدّ “ ہے ۔ (ت)

اُس کی شرح کشف الاسرار میں ہے :

لیس المراد من الوضع ھھنا وضع اللغۃ لاغیر بل وضع العقل اوالشرع فان الکلام موضوع عقلا لافادۃ معناہ حقیقۃ کان اومجاز اوالتصرف الشرعی موضوع لافادۃ حکمہ فاذا ارید بالکلام غیرموضوعہ العقلی وھو عدم افادۃ معناہ اصلا ، ارید بالتصرف غیر موضوعہ الشرعی وھو عدم افادتہ الحکم اصلا فھو الھزل ولھذا فسرہ الشیخ باللعب اذاللعب مالا یفید فائدۃ اصلا وھو معنی مانقل عن الشیخ ابی منصور رحمہ الله تعالٰی ان الھزل ما لا یراد بہ معنی[4]                                 

یہاں وضع سے صرف وضع لغت مراد نہیں ۔ بلکہ وضع عقل یا وضع شرعی بھی مراد ہے۔ اس لئے کہ عقلًا کلام کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے معنی کاافادہ کرے خواہ وہ معنی حقیقی ہویا مجازی۔ اورتصرف شرعی کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے حکم کا افادہ کرے۔ توجب کلام کامقصد وہ ہو جس کے لئے عقلًا اس کی وضع نہ ہوئی۔ وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔ اور تصرف کا مقصد وہ ہو جس کے لئے شرعًا اس کی وضع نہ ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو وہ ھزل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لئے شیخ نے ھزل کی تفسیر لعب سے فرمائی اس لئے کہ لعب وہ ہے جوبالکل کوئی فائدہ نہ دے اور یہی اس کا مطلب ہے جو شیخ ابو منصور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے منقول ہے کہ ہزل وہ ہے جس سے کوئی معنی مقصود نہ ہو۔ (ت)

تو تفسیر ۶ ، ۱۲ کا حاصل ایك ہے ولہٰذا مصباح میں عبث من باب تعب لعب

وعمل مالافائدۃ فیہ[5] (عبث باب تعب(سمع) سے ہے اس کا معنی کھیل کیا اور بے فائدہ کام کیا ۔ ت) اور منتخب میں عبث بفتتحین بازی وبے فائدہ بطور عطفِ تفسیری لکھا۔

ثانیا اقول : جس طرح عاقل سے کوئی فعل اختیاری صادر نہ ہوگا جب تك تصّور بوجہ مَّا وتصدیق بفائدۃ مّا نہ ہو یونہی انسان کے ہوش وحواس جب تك حاضر ہیں بے کسی شغل کے نہیں رہتا خواہ عقلی ہو جیسے کسی قسم کا تصور یا عملی جیسے جوارح سے کوئی حرکت تو کسی قسم کا شغل ہو نفس کیلئے اُس میں اپنی عادت کا حصول اور اپنے مقتضی کا تیسر ہے اور یہ خود اُس کیلئے ایك نوع نفع ہے اگرچہ دین ودنیا میں سوا ایك عادت بے معنے کی تحصیل کے اور کوئی ثمر ونفع اُس پر مترتّب نہ ہو یابایں معنی کوئی فعل اختیاری فاعل کیلئے اصلا فائدہ سے عاری محض نہ ہوگا ہاں یہ ممکن کہ وہ فائدہ قضیہ شرع بلکہ قضیہ عقل سلیم کے نزدیك بھی مثل لافائدہ محض غیر معتد بہا ہو بلکہ ممکن کہ اُس کا مآل ضرربحت ہو جیسے کفار کی عبادات شاقہ  عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ(۳) تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ(۴) [6] عمل کریں مشقّت جھیلیں اور نتیجہ یہ کہ بھڑکتی آ گ میں غرق ہوں گے تو ۶ سے مقصود وہی ۷ ہے ۔

ثالثا : یہ بھی ظاہر کہ کوہ کندن وکاہ برآور دن ہر عاقل کے نزدیك حرکتِ عبث ہے تو مقدار فائدہ وفعل میں اگرچہ تساوی درکار نہیں تفاوت فاحش بھی نہ ہونا ضرور ۸ سے یہی مراد اور معتدبہ بنظر فعل ہونے سے یہی ہفتم کا مفاد۔ فائدہ کا فی نفسہا کوئی امر عظیم مہتم بالشان ہونا ہرگز ضرور نہیں بلکہ جیسا کام اُسی کے قابل فائدہ معتد بہا ہے وھذا ما کنا اشـرنا الیہ (یہ وہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ ت)

رابعا : لذتِ لعب شرع کریم وعقل سلیم کے نزدیك فائدہ معتد بہا نہیں جبکہ فـــــــ لہو مباح ہو اور تعب کے بعد اُس سے ترویح قلب مقصود اب نہ وہ عبث رہے گا نہ حقیقۃً لعب اگرچہ صورت لعب ہو ۔

ولہٰذا حدیث میں ہے حضور سید اکرم رحمت عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

فــــــ : مسئلہ : عبادت ومحنت دینیہ کے بعد دفع کلال وملال وحصول تازگی وراحت کے لئے احیانا کسی امر مباح میں مشغولی جیسے جائز اشعار عاشقانہ کا پڑھنا سننا شرعا مباح بلکہ مطلوب ہے ۔

الھوا والعبوا فانی اکرہ ان یری فی دینکم غلظۃ رواہ البیہقی[7]۔ فی شعب الایمان عن المطلب بن عبدالله المخزومی رضی الله تعالی عنہ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن