30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فـــــ : تطفل علی العلامۃ الشریف ۔
عــــہ : اور اگر قصد غلط بھی ملحوظ کر لیجئے کہ جس فعل کی غرض فاسد ہے یہ جہلا اس سے غرض صحیح کا قصد کرے تو ان دو سے بھی عام من وجہ ہوگا ۱۲منہ۔
(۶) بے فائدہ کام۔
بحرالرائق میں نہایہ امام سغناقی سے ہے :
مالیس بمفید فھو العبث [1]
جو فائدہ مند نہ ہو وہ عبث ہے۔ ( ت)
امام سیوطی کی درنثیر میں ہے : عبثا ای لالمنفعۃ [2] عبث یعنی بے فائدہ ۔ (ت) مراقی الفلاح میں ہے :
العبث عمل لافائدۃ فیہ ولا حکمۃ تقتضیہ [3]
عبث وہ کام ہے جس میں نہ کوئی فائدہ ہو نہ کو ئی حکمت اس کی مقتضی ہو ۔ (ت)
جلالین میں ہے : عبثا لالحکمۃ [4](عبث بے حکمت۔ ت)غنیہ میں ہے :
الفرقعۃ فعل لافائدۃ فیہ فکان کالعبث [5]
(انگلیاں چٹخانا ایسا کام ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں تو یہ عبث کی طرح ہوا ۔ ( ت)
اقول : عبدالملك بن جریج تابعی نے کہ عبث کو باطل سے تفسیر کیا اسی معنے کی طرف مشیر ہے : فان الشیئ اذا خلا عن الثمرۃ بطل (کیونکہ شے کا جب کوئی ثمرہ نہ ہو تو وہ باطل ہے۔ ت) تفسیر ابن جریر میں اُن سے مروی : عبثا قال باطلا [6] (عَبث کے معنی میں کہا باطل ۔ ت)(۷) جس میں فائدہ معتد بہانہ ہو۔ تاج العروس میں ہے :
قیل العبث مالافائدۃ فیہ
کہا گیا عَبث ایساکام ہے جس میں کوئی قابل لحاظ
یعتد بھا [7]
فائدہ نہ ہو۔ ( ت)
اقول : اسی طرف کلام علّامہ ابو السعود ناظر کہ ارشاد العقل میں فرمایا :
عبثا بغیر حکمۃ بالغۃ[8] اھ فافھم
عبث جس میں کوئی حکمت بالغہ نہ ہو اھ تو اسے سمجھو ۔ (ت)
(۸) اُس کام کے قابل فائدہ نہ ہو یعنی اُس میں جتنی محنت ہو نفع اس سے کم ہو۔
اقول : اسے ہفتم سے عموم وخصوص من وجہ ہے کہ اگر کام نہایت سہل ہوا جس میں کوئی محنت معتد بہا نہیں تو فائدہ غیر معتمد بہا اُس کے قابل ہوگا اس تقدیرپر ہفتم صادق ہوگا نہ ہشتم اور اگر فائدہ فی نفسہا معتد بہا ہے مگر اُس کام کے لائق نہیں تو ہشتم صادق ہوگا نہ ہفتم۔ علّامہ شہاب کی عنایۃ القاضی میں ہے :
العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ مطلقا او عن الفائدۃ المعتد بھا اوعما یقاوم الفعل کما ذکرہ الاصولیون [9]۔
عبث لعب کی طرح کام ہے جس میں مطلقا کوئی فائدہ نہ ہویا قابل لحاظ فائدہ نہ ہو یا اس فعل کے مقابل فائدہ نہ ہو جیسا کہ اہل اصول نے ذکر کیا۔ (ت)
اقول : مقابلہ مشعر مغایرت ہے یوں یہ قول اضعف الاقوال ہوگا کہ خاص مشقت طلب کاموں سے خاص رہے گا ہاں اگر معتدبہ سے معتدبہ بنظر فعل مراد لیں تو ہفتم وہشتم ایك ہوجائیں گے اور اعتراض نہ رہے گا اور کہہ سکتے ہیں کہ تغییر تعبیر مجوز مقابلہ ہے۔
(۹) وہ کام جس کا فائدہ معلوم نہ ہو۔
اقول : اولا مراد عدم علم فاعل ہے تو حکیم کے دقیق کام جن کا فائدہ عام لوگوں کی فہم سے ورا ہو عبث نہیں ہوسکتے۔
ثانیا حکمت وغایت میں فرق ہے احکام تعبدیہ غیر معقولۃ المعنی کی حکمت ہمیں معلوم نہیں فائدہ معلوم ہے کہ الاسلام گردن نہادن۔
ثالثا عدم علم مستلزم عدم نہیں تو یہ تفسیر اُن تینوں سے اعم ہے۔ تعریفات السید میں ہے :
العبث ارتکاب امر غیر معلوم الفائدۃ [10]
عبث ایسے امر کا ارتکاب جس کا فائدہ معلوم نہ ہو ۔ (ت)
[1] بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲ / ۱۹
[2] درنثیر
[3] مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ فصل فی المکروہات دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۴۵
[4] جلالین تحت الآیۃ ۲۳ / ۱۱۵ النصف الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۲۹۱
[5] غنیۃ المستملی کراھیۃ الصلوٰۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹
[6] جامع البیان( تفسیر ابن جریر)تحت الآیۃ ۲۳ / ۵۱۱ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۸ / ۷۹
[7] تاج العروس باب الثا ء فصل العین دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۳۲
[8] ارشاد العقل السلیم تحت الآیۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع