دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِؕ- [1]۔

ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات ، اچھی با ت ، یا لوگوں میں صلح کرنے کا۔ (ت)

ہر معروف کو استثنا فرمالیا اور ہر طاعت معروف ہے تو باقی نہ رہے مگر مباح یا معاصی تو اگر لاخیر فیہ مباح کو بھی شامل ہوتا فی کثیر نہ فرماتے بلکہ فی شی من نجوٰھم لاجرم وہ معصیت کے ساتھ خاص ہے والله تعالٰی اعلم۔

حدیث۸ : حدیث صحیح جس کی طرف بارہا اشارہ گزرا احمد وسعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابو داؤد ونسائی وابن ماجہ وطحاوی عبدالله بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی ایك اعرابی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں حاضر ہوکر وضو کو پوچھا حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے انہیں وضو کر کے دکھایا جس میں ہر عضو تین تین بار دھویا پھر فرمایا :

ھکذا الوضوء فمن زاد علی ھذا اونقص فقد اساء وظلم اوظلم واساء [2] ھذا لفظ د وقد اوردہ

اسی طرح ہے وضو تو جس نے اس پر بڑھایاگھٹایا تویقینااس نے برا کیااور ظلم کیا۔ ۔ یا (فرمایا ) ظلم کیا اور برا کیا ۔ ۔ یہ ابوداؤ د کے الفاظ

مطولا مع ذکر صفۃ الوضو۔ ومثلہ لفظ الامام الطحاوی ومقتصرا علی قولہ اساء وظلم من دون شک[3]   ولفظ س وق فمن زاد علی ھذا فقد اساء وتعدی وظلم [4] ولفظ سعید وابی بکر فمن زاد او نقص فقد تعدی وظلم [5]۔

ہیں اور انہوں نے یہ حدیث طریقہ وضو کے بیان کے ساتھ طویل ذکر کی ہے ۔ اسی کے مثل امام طحاوی کے بھی الفاظ ہیں اور ان کی راویت میں بغیر شك صرف اتنا ہے کہ اس “ اس نے برا کیا اور ظلم کیا “ سعید بن منصور اور ابوبکر بن شیبہ کے الفاظ یہ ہیں جس نے زیادتی یا کمی کی تو یقینا وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔ ۔ (ت)اور نسائی و ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں : تو جس نے اس پر زیادتی کی بہ تحقیق اس نے بر اکیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔ (ان تمام روایات کا حاصل یہ ہوا کہ)

وضو اس طرح ہے جس نے اس پر بڑھایا یا گھٹایا اُس نے بُرا کیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا۔ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور مذہب اول وچہارم کی مؤید بالجملہ ان میں کوئی مذہب مطر ودو مطروح نہیں لہٰذا راہ یہ ہے کہ بتوفیق الٰہی جانبِ توفیق چلئے۔

فاقول : وبالله فــــــ التوفیق وبہ الاصول الی ذری التحقیق (تحقیق کی انتہاء تك پہنچنا الله ہی کی توفیق سے ہے۔ ت) تقدیر شرعی سے زیادہ پانی ڈالنا سہوًا ہوگا یا بحال شك یا دیدہ ودانستہ۔ اول یہ کہ تین بار استیعابًا دھو لیا اور یاد رہا کہ دو۲ ہی بار دھویا ہے۔ اور دوم یہ کہ مثلًا دو یا تین میں شبہ ہوگیا ، یہ دونوں صورتیں یقینا ممانعت سے خارج ہیں ۔

لقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم

اس لئے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا

 

فــــــ : مسئلہ : مصنف کی تحقیق مفرد۔

رفع عن امتی الخطأ والنسیان [6]وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دع مایریبك [7]۔

ارشادہے میری اُمّت سے خطاء ونسیان اٹھا لیا گیا ہے ۔ (ت)

اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے : جو شك پیدا کرے اسے چھوڑ وہ لو جس میں شك نہ ہو ۔

اور دیدہ ودانستہ کسی غرض صحیح وجائز کیلئے ہوگا یا غرض فاسد وممنوع کیلئے یا محض بلا وجہ ، برتقدیر اول کسی طرح اسراف نہیں ہوسکتا نہ اُس سے منع کی کوئی وجہ ، عام ازینکہ وہ غرض غرض مطلوب شرعی ہو جیسے منہ سے ازالہ بدبو یا پان یا چھالیہ کے ریزوں کا اخراج ، یا حسب بیانات سابقہ وضو علی الوضو کی نیت یا غرض صحیح جسمانی جیسے میل کا ازالہ یا شدت گرما میں تحصیل برودت۔ تواب نہ رہیں مگر دو صورتیں اور یہی ان اقوالِ اربعہ میں زیر بحث ہیں تحقیق معنی اسراف میں ہمارا بیان یاد کیجئے یہ وہی دو قطب ہیں جن پر اُس کا فلك دورہ کرتا ہے اور یہ بھی اُسی تقریر پر نظر ڈالے سے واضح ہوگا کہ ان صورتوں میں کی اول یعنی غرض فاسد وناروا کیلئے تقدیر شرعی پر زیادت مطلقا ممنوع وناجائز ہے اگرچہ پانی اصلا ضائع نہ ہو۔

قول اوّل کا یہی محمل ہے اور حق صریح بلکہ مجمع علیہ ہے اور اسی پر حمل کے لئے ہمارے علماء نے حدیث ہشتم کو صورت فساد اعتقاد پر محمول فرمایا یعنی جبکہ جانے کہ تقدیر شرعی سے زیادہ ہی میں سنّت حاصل ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اس نیت فاسدہ سے نہر نہیں سمندر میں ایك چُلّو بلکہ ایك بوند زیادہ ڈالنا اسراف وگناہ ناجائز ہوگا کہ اصل گناہ اُس نیت میں ہے ، گناہ کی نیت سے جو کچھ کرے گا سب گناہ ہوگا۔ رہی صورت اخیرہ کہ محض بلا وجہ زیادت ہو ، اوپر واضح ہولیا کہ یہاں تحقیق اسراف وحصول ممانعت اضاعت پر موقوف ہے تو اس صورت میں دیکھنا ہوگا کہ پانی ضائع ہوا یا نہیں ، اگر ہوا مثلًا زمین پر بہہ گیا اور کسی مصرف میں کام نہ آیا تو ضرور اسراف وناروا ہے۔ اور یہی محمل قول چہارم ہے اور یقینا صواب وصحیح بلکہ متفق علیہ ہے کون کہے گا کہ بیکار پانی ضائع کرنا جائز وروا ہے۔ باقی رہی ایك شکل کہ زیادت ہو تو بلاوجہ مگر پانی ضائع نہ ہو۔ مثلًا بلا وجہ چوتھی بار پانی اس طرح ڈالے کہ نہر میں گرے یا کسی پیڑ کے تھالے میں جسے پانی کی حاجت ہے یا کسی برتن میں جس کا پانی اسپ وگاؤ وغیرہ جانوروں کو پلایا جائے گا یا گارا بنانے کیلئے تغار میں پڑے گا یا زمین ہی پرگرا مگر موسم گرما ہے چھڑکاؤ کی حاجت ہے یا ہوا سے ریتا اڑتا ہے اس کے دبانے کی ضرورت ہے اور انہیں کے مثل اور اغراض صحیحہ جن کے سبب پانی ضائع نہ جائے۔ یہ غرضیں اگرچہ صحیح وروا ہیں ، جن کی سبب اضاعت نہ ہوگی مگر اعضا پر یہ پانی مثلًا چوتھی بار ڈالنا محض بے وجہ ہی رہا کہ یہ غرضیں تو برتن میں ڈالنا یا زمین پر بہانا چاہتی ہیں عضو پر ڈال کر گرانے کو ان میں کیا دخل تھا لاجرم وہ عبث محض رہا مگر پانی ضائع نہ ہوگیا تو اسراف کی کوئی صورت متحقق نہ ہوئی اور اس کے ممنوع وناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں یہی قول دوم وسوم کا محمل ہے اور قطعا مقبول وبے خلل ہے بلکہ اتفاق واطباق کا محمل ہے۔ اب نہ باقی رہی مگر ان دونوں قولوں پر نظر وہ ایك مقدمہ کی تقدیم چاہتی ہے۔

فاقول : وبالله التوفیق فائدہ تحقیق فـــــ معنی وحکمِ عبث میں تتبع کلمات علماء  سے اس کی تعریف وجوہِ عدیدہ پر ملے گی۔

(۱) جس فعل میں غرض غیر صحیح ہو وہ عبث ہے اور اصلا غرض نہ ہو تو سفہ۔ یہ تفسیر امام بدرالدین کردری کی ہے امام نسفی نے مستصفی پھر علامہ حلبی نے غنیہ میں اسی طرح اُن سے نقل فرما کر اس پر اعتماد کیا اور محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر اور علامہ طرابلسی نے برہان شرح مواہب الرحمن اور دیگر شراح نے شروح ہدایہ وغیرہا میں اسی کو اختیار فرمایا غنیہ حلبیہ میں ہے :

 



[1]   القرآن الکریم۴ / ۱۱۴

[2]   سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء ثلثا آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۱۸

[3]   شرح معانی الاثار کتاب الطہارۃ با ب فرض الرجلین فی وضوء الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲

[4]   سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی قصد الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴

[5]   المصنف ابن ابی شیبۃ کتاب النہارۃ باب الوضوء کم ہو مرۃ حدیث ۵۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۷

[6]   الجامع الصغیر حدیث ۴۴۶۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۷۳ ، کشف الخفاء حدیث ۱۳۹۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۸۲ ، کشف الخفاء حدیث ۱۳۰۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۶۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن