دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

حدیث۴ : مرسل یحیٰی بن ابی عمرو کہ بیان معانی اسراف میں گزری

فی الوضوء اسراف وفی کل شیئ اسراف [1]

وضو میں اسراف ہے اور ہر شے میں اسراف ہے۔

حدیث۵ : ترمذی وابن ماجہ وحاکم حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

ان للوضوء شیطانا یقال لہ الولہان فاتقوا وسواس الماء [2]۔

بے شك وضو کیلئے ایك شیطان ہے جس کانام وَلَہان ہے تو پانی کے وسواس سے بچو۔

حدیث۶ : مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وصحیح ابن حبان ومستدرك حاکم میں عبدالله بن مغفل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

انہ سیکون فی ھذہ الامۃ قوم یعتدون فی الطہور والدعاء [3]۔

بیشك عنقریب اس اُمت میں وہ لوگ ہوں گے کہ طہارت ودعاء میں حد سے بڑھیں گے۔

اور الله عزوجل فرماتا ہے :

وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ- [4]

جو الله تعالٰی کی باندھی حدوں سے بڑھے بیشك اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔

حدیث۷ : ابو نعیم حلیہ میں انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :

لاخیر فی صب الماء الکثیر فی الوضوء وانہ من الشیطان [5]۔

وضو میں بہت سا پانی بھپکانے میں کچھ خیر نہیں اور وہ شیطان کی طرف سے ہے۔

نفی خیر اپنے فــــــ۱معنی لغوی پر اگرچہ مباح سے بھی ممکن کہ جب طرفین برابر ہیں تو کسی میں نہ خیر نہ شرو لہٰذا علامہ عمر نے نہرالفائق میں مسئلہ فــــــ۲ کراہت کلام بعد طلوع فجر تا طلوع شمس وبعد نماز فــــــ۳ عشا میں فرمایا :

المراد مالیس بخیر وانما یتحقق فی کلام ھو عبادۃ اذالمباح لاخیر فیہ کما لااثم فیہ فیکرہ فی ھذہ الاوقات کلہا [6] نقلہ السید ابو السعود فی فتح الله المعین۔

مراد وہ کلام ہے جو خیر نہ ہو اور خیر کا تحقق اسی کلام میں ہوگا جو عبادت ہو اس لئے کہ مباح میں “ کوئی خیر نہیں “ جیسے اس میں “ کوئی گناہ نہیں تو مباح کلام بھی ان اوقات میں مکروہ ہوگا اسے سید ابو السعود نے فتح الله المعین میں نہر سے نقل کیا (ت)

اقول : مگر نظرِ دقیق لیس بخیر اور لاخیر فیہ میں فرق کرتی ہے مباح ضرور ، نہ خیر نہ شر ، مگر اُس کے فعل پر مواخذہ نہیں ، اور مؤاخذہ نہ ہونا خود خیر کثیر ونفع عظیم ہے تو لاخیر فیہ وہیں اطلاق ہوگا جہاں شر حاصل ہو۔

فاصاب فــــــ۴ رحمہ الله تعالی فی قولہ المراد ما لیس بخیر وتسامح فی قولہ لاخیر فیہ فحق العبارۃ المباح لیس

بخیر کما انہ لیس بشر۔ صاحب النہر نے یہ تو ٹھیك فرمایا کہ مراد مالیس بخیر (وہ جو خیر نہیں ) اور اس میں ان سے تسامح ہوا کہ المباح لا خیر فیہ (مباح

 

فــــــ۱ : تحقیق مفاد لا خیر فیہ ۔
فــــــ ۲ مسئلہ : طلوع صبح صادق سے طلوع شمس تك دنیاوی کلام مطلقا مکروہ ہے ۔
فــــــ ۳ مسئلہ : نماز عشاء پڑھنے کے بعد بے حاجت دنیاوی باتوں میں اشتغال مکروہ ہے۔

فــــــ۴ : تطفل علی النہر ومن تبعہ ۔

بخیر کما انہ لیس بشر۔

میں کوئی خیر نہیں ) صحیح تعبیر یہ تھی کہ المباح لیس بخیر کما انہ لیس بشر مباح اچھا نہیں جیسے کہ وہ برا بھی نہیں ۔ (ت)

ولہٰذا جبکہ ہدایہ میں فرمایا :

لاخیر فی السلم فی اللحم [7]

(گوشت میں بیع سلم بہتر نہیں ۔ ت)

محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا :

ھذہ العبارۃ تاکید فی نفی الجواز [8]

( یہ عبارت نفی جواز کی تاکید کرتی ہے۔ ت)

اقول : رب عزوجل فرماتا ہے :

 



[1]   کنز العمال بحوالہ یحیی بن ابی عمر الشیبانی حدیث ۲۶۲۴۸ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۳۲۵

[2]   سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی کراھیۃ الاسراف حدیث ۵۷ دار الفکر بیروت۱ / ۱۲۲ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارت باب ما جاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۴

[3]   سنن ابو داؤد کتاب الطہارۃ باب الاسراف فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳ ، مشکوۃ المصابیح بحوالہ احمد و ابی داؤدوابن ماجہ کتاب الطہارت با ب سنن الوضو قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۴۷

[4]   القرآن الکریم ۶۵ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن