دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

فـــــ ۳ :  تطفل الرابع عشر علیہ ۔

صحیح مسلم وسنن اربعہ میں ام المومنین ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں سرگندھواتی ہوں کیا نہاتے میں کھول دیا کروں ؟ فرمایا :

انما یکفیك ان تحثی علی رأسك ثلث حثیات [1]۔

سر پر تین لپ پانی ڈال لیا کرو یہی کافی ہے۔

آخر امر چہارم میں حدیث ابی داؤد ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے گزری کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :

اما المراۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا[2]۔

عورت کو کچھ ضرور نہیں کہ اپنا گُندھا سر کھولے ، بس تین لَپ پانی ڈال لے۔

اُم المومنین عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاحضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے طریقہ غسل میں روایت فرماتی ہیں :

ثم یصب علی رأسہ ثلث غرفات بیدیہ [3]۔  رؤیاہ عنہا رضی الله تعالی عنہا۔

پھر سر مبارك پر تین لپ ڈالتے تھے ۔

اور خود اپنا فرماتی ہیں :

لقد کنت اغتسل انا ورسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من اناء واحد وما ازید علی ان افرغ علی رأسی ثلث افراغات رواہ احمد ومسلم [4]۔

میں اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایك برتن سے نہایا کرتے اور میں اپنے سر پر تین ہی بار پانی ڈالتی یعنی جعد مبارك نہ کھولتیں ۔ اسے احمد ومسلم نے روایت کیا ت)

بااینہمہ ف۱ یہی ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :

کان رسول الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ وضؤہ للصلاۃ ثم یفیض علی رأسہ ثلث مرار ونحن نفیض علی رؤسنا خمسا من اجل للضفر [5]۔  رواہ ابو داؤد۔

رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنماز کا سا وضو کرکے سرِ اقدس پر تین بار پانی بہاتے تھے اور ہم بیبیاں سر گُندھے ہونے کی وجہ سے اپنے سروں پر پانچ بار پانی بہاتی ہیں ۔ (اس کو ابو داؤد نے روایت کیا )

اب کون کہہ سکتا ہے کہ معاذ الله امہات المومنین کا یہ فعل وسوسہ تھا حاشا بلکہ وہی اطمینان قلب جسے علماء کرام یہاں فرمارہے ہیں ۔

سابعا وھو فــــ۲  الحل صورتیں تین ہیں :
اول : یہ کہ متوضی جانتا ہے کہ میں نے تین بار دھو لیا ، ہر بار بالاستیعاب ، پھر اُس کا دل مطمئن نہ ہو اور چوتھی بار اور بہانا چاہے۔

دوم : یاد نہیں کہ تین بار پانی ڈالا یا دو بار۔

سوم : تثلیث تو معلوم ہے مگر ہر بار استیعاب میں شك ہے۔

ملّا علی صورت اولٰی سمجھے ہیں جب تو فرماتے ہیں کہ تین پورے ہونے کے بعد شك کے کیا معنے۔ اپنا شك چھوڑ ے اور جو عدد شارع صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے مقرر فرمایا اُس پر قانع رہے۔ اس صورت پر اُن کا انکار بیشك صحیح ہے مگر یہ ہرگز مرادِ علماء نہیں ، اُن کا کلام صورت شك میں ہے اور یہ صورت صورت علم ہے اور وسوسہ مردود دونا معتبر ہے۔ شك کی صورت دو٢ صورت اخیر ہیں وہی مرادِ ائمہ ہیں اور ان پر قاری کا کوئی اعتراض وارد نہیں ان میں طمانینت قلب ضرور مطلوبِ شرع ہے جن میں سے امہات المومنین کا پانچ بارپانی ڈالنا صورت اخیرہ ہے وبالله التوفیق۔

بالجملہ جس مسئلہ پر ہمارے علماء کے کلمات متظافر ہوں اپنے فہم سے اُس پر اعتراض آسان نہیں

فـــــ۱ مسئلہ : عورت کے بال گندھے ہوں اور تین بار سر پر پانی بہانے سے تثلیث میں شبہ رہے تو پانچ بار بہا سکتی ہے

فـــــ۲ : تطفل الخامس عشر علیہ۔  

معترضین ہی کی لغزش نظر ثابت ہوتی ہے اگرچہ غنیہ وبحر وقاری جیسے ماہرین ہوں والحمدلله رب العٰلمین۔

تنبیہ۷ : الحمدلله کلام اپنے منتہی کو پہنچا اور اسراف کے معنے وصور نے بھی بروجہ کامل انکشاف پایا اب بتوفیق الله تعالٰی تحقیق حکم کی طرف باگ پھیریں ۔

اقول : انصافًا چاروں قول میں کوئی ایسا نہیں ہے جسے مطروح وناقابل التفات سمجھئے۔

قول سوم کی عظمت تو محتاج بیان نہیں ، بدائع وفتح وخلاصہ کی وقعت درکنار خود ظاہر الروایۃ میں محرر المذہب کا نص ہے

قول دوم کے ساتھ حلیہ وبحر کا اوجہ کہنا ہے کہ الفاظ فتوٰی سے ہے اور امام ابو زکریا نووی کے استظہار پر نظر کیجئے تو گویا اُسی پر اجماع کا پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اسراف سے نہی پر اجماعِ علماء نقل فرما کر نہی سے کراہت تنزیہ مراد ہونے کو اظہر بتایا ۔

قول چہارم جسے علامہ شامی نے خارج از مذہب گمان فرمایا تھا اُس کی تحقیق سُن چکے اور یہ کہ وہی مختار درمختار۱ونہر الفائق۲ ومفاد۳ منتقی وجواہر۴الفتاوٰی وتبیین۵الحقائق ہے نیز زبدہ۶وحجہ۷سے مستفاد کہ ان میں بھی کراہت مطلق ہے ، جامع الرموز میں ہے :

تکرہ الزیادۃ عی الثلث کما فی الزبدۃ [6]۔

 



[1]   صحیح مسلم کتاب الحیض باب حکم ضفائر المغتسلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۰ ، سنن ترمذی ابواب الطہارۃ باب ھل تنقض المرأۃ شعرہا عندالغسل حدیث ۱۰۵ دارلفکر بیروت ۱ / ۱۶۰ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃباب ما جاء فی غسل النساء من الجنابۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۴۵ ، سنن ابی داؤد ابواب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۳

[2]   سنن ابی داؤد ابواب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن