دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

ہے۔ اب بے فصل نماز وغیرہ عبادات مقصودہ یابے تبدل مجلس اعادہ وضو کی کراہت اگر ہوگی بھی تو وہاں کہ اعادہ کیلئے کوئی سبب خاص نہ ہو ورنہ بعد وجود سبب وہ بے وجہ نہیں کہ اسراف ہو۔ اور اگر مواضع خلاف میں نزاع عود بھی کرے کہ رعایت خلاف وہیں مستحب ہے کہ اپنے مذہب کا مکروہ نہ لازم آئے کما فی ردالمحتار وغیرہ تو پہلی نو دس صورتیں کہ گویا حدث معنوی ونجاست باطنی مانی گئیں اثباتے وضو میں اُن کا وقوع کیا نادر ہے اور شك فـــــ نہیں کہ دربارہ نقض ونقض وضو بعض وضو کا حکم ایك ہی ہے جس طرح وضوئے کامل پر کوئی ناقض طاری ہونے سے پورا وضو جاتا رہتا ہے اور خلال وضو میں اس کے وقوع سے جتنا وضو ہوچکا ہے اتنا ٹوٹ جاتا ہے یونہی یہ اشیا جن سے طہارت ناقص وبے نور ہوجاتی ہے جب کامل وضو پر واقع ہوں تو پورے وضو کا اعادہ مستحب ہوگا اور اثنائے وضو میں ہوں تو جتنا کر چکا ہے اُس قدر کا۔ اور بہرحال یہ وضوئے آخر یا وضو علی الوضو سے خارج نہ ہوگا کہ وضوئے اول متنقض نہ ہوا۔ اس تقریر پر نہ صرف یہی وجہ اخیر بلکہ تینوں وجہیں مندفع ہوگئیں ولله الحمد۔

فــــــ : جن باتوں سے اعادہ وضو مستحب ہے جب وہ وضو کرتے میں واقع ہوں تو مستحب ہے کہ پھر سے وضو کرے۔

صورت ثانیہ یعنی شك میں فقیر نے نہ دیکھا کہ کسی کو شك ہوماسوا ملا علی قاری کے کہ انہوں نے شك کویکسر ساقط اللحاظ کیا اور اس کے اعتبار کو وسوسہ کی طرف منجر مانا ، مرقاۃ میں فرمایا :

قلت اما قولہ (ای قول الامام النسفی فی الکافی) لطمانینۃ القلب عند الشك ففیہ ان الشك بعد التثلیث لاوجہ لہ وان وقع بعدہ فلا نھایۃ لہ وھو الوسوسۃ ولھذا اخذ ابن المبارك بظاھرہ فقال لااٰمن اذا زاد علی الثلث انہ یاثم وقال احمد واسحق لایزید یحتاط لدینہ قال ابن حجر ولقد شاھد نامن الموسوسین من یغسل یدہ فوق المئین وھو مع ذلك یعتقد ان حدثہ ھو الیقین قال واما قولہ (ای الامام النسفی) لانہ امر بترك مایریبہ ففیہ ان غسل المرۃ الاخری مما یر یبہ فینبغی ترکہ الی مالایریبہ وھو ماعینہ الشارع لیتخلص عن الریبۃ والوسو سۃ [1] اھ                                         

کافی میں امام نسفی کے قول “ شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادتی “ پر یہ کلام ہے کہ تین بار دھو لینے کے بعد شك کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اس کے بعد بھی شك واقع ہوتو اس کی کوئی انتہا نہیں اور یہی وسوسہ ہے ۔ اسی لئے حضرت ابن مبارك نے ظاہر حدیث کواختیار کرکے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تین بار سے زیادہ دھونے کی صور ت میں وہ گناہ گارہو ۔ امام احمد واسحاق نے فرمایا : تین پر زیادتی وہی کرے گا جو جنون میں مبتلا ہو اس گمان کی وجہ سے کہ وہ اپنے دین میں احتیاط سے کا م لے رہا ہے ۔ ۔ ۔ ابن حجر نے فرمایا : ہم نے ایسے وسوسہ زدہ بھی دیکھے  جو سو بار سے زیادہ ہاتھ دھوکر بھی یہ سمجھتا ہے کہ اب بھی اس کا حدث یقینا باقی ہے مولانا علی قاری آگے لکھتے ہیں کہ امام نسفی کا یہ فرمانا کہ اسے شك کی حالت چھوڑ دینے کا حکم ہے تو اس پر یہ کلام ہے کہ ایك با ر اور دھونے سے بھی اسے شك ہی رہے گا تو اسے یہی چاہیے کہ اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرے جس سے شك نہ پیدا ہو اور یہ وہی ہے جسے شارحین نے متعین فرمایا ہے تاکہ شك اور وسوسہ سے چھٹکارا پائے اھ (ت)

اقول اولا : فـــــ۱شك کیلئے منشأ صحیح ہوتا ہے مثل سہو وغفلت بخلاف وسوسہ۔ اول بلا شبہ شرعا معتبر اور فقہ میں صدہا مسائل اُس پر متفرع۔ اگر اُسے ساقط اللحاظ کریں تو شك کا باب ہی مرتفع ہوجائے گا اور ایك جمِ غفیر مسائل واحکام سے جن پر اطباق واتفاق ائمہ ہے انکار کرنا ہوگا۔

ثانیا حدیث فـــــ۲ دع مایریبك الی مالایریبك کا صریح ارشاد طرح مشکوك واخذ متیقن ہے کہ مشکوك میں ریب ہے اور متیقن بلا ریب نہ یہ کہ شك کا کچھ لحاظ نہ کرو اور امر مشکوك ہی پر قانع رہ کر یہ مالا یریبك نہ ہوا بلکہ یریبک۔

ثالثا صحیح فــــــ۳مسلم شریف میں ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

اذا شك احدکم فی صلاتہ فلا یدرکم صلی ثلثا اواربعا فلیطرح الشك ولیبن علی مااستیقن ثم یسجد سجدتین قبل ان یسلم فان کان یصلی خمسا شفعن لہ صلاتہ وان کان صلی تماما لاربع کانتا ترغیما للشیطٰن [2]۔

جب تم میں کسی کو اپنی نماز میں شك پڑے یہ نہ جانے کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار تو جتنی بات مشکوك ہے اُسے چھوڑ دے اور جس قدر پر یقین ہے اس پر بنائے کار رکھے (یعنی صورت مذکورہ میں تین ہی رکعتیں سمجھے کہ اس قدر پر یقین ہے اور چوتھی میں شك ہے تو چارنہ سمجھے لہٰذا ایك رکعت اور پڑھ کر) سلام سے پہلے سجدہ سہو کرلے اب اگر واقع میں اس کی پانچ رکعتیں ہوئیں تو یہ دونوں سجدے (گویا ایك رکعت کے قام مقام ہوکر) اس کی نماز کا دوگانہ پُورا کردیں گے (ایك رکعت اکیلی نہ رہے گی جو شرعًا باطل ہے بلکہ ان سجدوں سے مل کر ایك نفل دوگانہ جُدا گانہ ہوجائے گا) اور اگر واقع میں چار ہی ہوئیں تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلّت وخواری ہوں گے

(کہ اُس نے شك ڈال کر نماز باطل کرنی چاہی تھی اُس کی نہ چلی اور مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی رحمت سے نماز پوری کی پوری رہی)یہ اس مطلب کا خاص جزئیہ خود حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ارشادِ مقدس سے ہے۔

فـــــ۱ :  تطفل تاسع علی القاری ۔                                                           فــــــ۲  :  تطفل عاشر علیہ ۔                                   

فـــــ۳ : تطفل الحادی عشر علیہ ۔

رابعا  فــــ۱ مسند احمد میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

من صلی صلاۃ یشك فی النقصان فلیصل حتی یشك فی الزیادۃ [3]۔

جسے نماز میں کامل وناقص کا شك ہو وہ اتنی پڑھے کہ کامل وزائد میں شك ہوجائے۔

مثلًا تین اور چار میں شُبہ تھا تو یہ تمامی ونقصان میں شك ہے اسے حکم ہے کہ ایك رکعت اور پڑھے اب چار اور پانچ میں شُبہ ہوجائے گا کہ تمامی وزیادت میں شك ہے۔ یہ حدیث سے تو اُس مطلب کی دوسری تصریح ہے ہی مگر دکھانا یہ ہے کہ اس کی شرح میں خود ملّا علی قاری فرماتے ہیں :

لیبن علی الاقل المتیقن فان زیادۃ الطاعۃ خیر من نقصانھا [4]۔

یعنی کم پر بنا رکھے جتنی یقینا ادا کی ہیں کہ اگر واقع میں کامل ہوچکی تھیں اور ایك رکعت بڑھ گئی تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ایك رکعت کم رہ جائے طاعت کی افزونی اس کی کمی سے افضل ہے۔

معلوم نہیں یہ حکم وضو میں کیوں نہ جاری فرمایا حالانکہ اس کی بیشی نماز میں رکعت بڑھا دینے کے برابر نہیں ہوسکتی۔

خامسا وہ جو فـــــ۲فرمایا تثلیث کے بعد شك کی کوئی وجہ نہیں اس سے مراد علم الٰہی میں تثلیث ہولینا ہے یا علم متوضی میں ۔ برتقدیر ثانی بیشك شك کی کوئی وجہ نہیں مگر وہ ہرگز مراد نہیں کہ کلام شك میں ہے نہ علم میں ۔ اور برتقدیر اول علم الٰہی شك عبد کا کیا منافی۔ بندہ اُس پر مکلّف ہے جو اس کے علم میں ہے نہ اس پر جو علم الٰہی میں ہے جس کے علم کی طرف اسے کوئی سبیل نہیں ۔

سادسا فـــــ۳ معلوم ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمغسل میں سرِ انور پر تین بار پانی ڈالتے اور اسی کا حکم مردوں عورتوں سب کو فرمایا خاص عورتوں کے باب میں بھی یہی حکم بالتصریح ارشاد ہوا۔

فـــــ۱ :  تطفل الثانی عشر علیہ ۔                    فـــــ۲ :   تطفل الثالث عشر علیہ ۔

 



[1]   مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ تحت الحدیث۴۱۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۲۴

[2]   صحیح مسلم کتاب المساجد فصل من شک فی صلوٰۃ فلم یدرکم صلی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱۱

[3]   مسند احمد بن حنبل حدیث عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۱۹۵

[4]   مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصلوٰۃ باب السہو حدیث ۱۰۲۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۳ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن