30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلمان اس نفیس فائدے کو یاد رکھیں اور اپنے رب سے ڈریں جھوٹ اور غیبت ترك کریں کیا معاذ الله منہ سے پاخانہ نکلنا کسی کو پسند ہوگا باطن کی ناك کھلے تو معلوم ہو کہ جھوٹ اور غیبت میں پاخانے سے بدتر سڑاند ہو۔ رہیں وہ حدیثیں جن کی طرف علامہ شامی نے اشارہ کیا۔ جامع ترمذی بسند حسن عبدالله بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
اذا کذب العبد کذبۃ تباعد الملك عنہ مسیرۃ میل من نتن ماجاء بہ[1]رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت وابونعیم فی جحلیۃ الاولیاء [2]عنہ رضی الله تعالی عنہ ۔
جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے اُس کی بدبو کے باعث فرشتہ ایك میل مسافت تك اُس سے دُور ہوجاتا ہے۔ کتاب الصمت میں ابن ابی الدنیا اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں روایت کیا عنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(ت)
امام احمد بسند صحیح جابر بن عبداللهرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں حاضر تھے کہ ایك بدبو اُٹھی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :
اتدرون ماھذہ الریح ھذہ
جانتے ہو کہ یہ بدبو کیا ہے ، یہ ان کی بدبو ہے جو(باقی برصفحہ آئندہ)
الملك الحافظ کما ورد فی الحدیث وکذا اخبر صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن ریح منتنۃ بانھا ریح الذین یغتابون الناس والمؤمنین ولالف ذالك منا وامتلاء انوفنا منہا لا تطہر لنا کا لساکن فی محلہ الدباغین وقہقہۃ لانہالما کانت فی الصلٰوۃ جنایۃ تنقض الوضوء اوجبت نقصان الطہارۃ خارجا فکان الوضوء منہا مستحباکما ذکرہ سیدی عبد الغنی النابلسی فی نہایۃ المراد علٰی ھدیۃ ابن العمادو شعر ای قبیح للخروج من خلاف العلماء کمس ذکرہ وامرأۃ اھ[3]
فرشتہ دُور ہٹ جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے ، اسی طرح حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایك بد بو سے متعلق بتایا کہ یہ ان کی بد بو ہے جولوگوں کی اور مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں چونکہ ہمیں ان سے الفت ہوگئی ہے اور ہماری ناکیں ان سے بھری ہوئی ہیں اس لئے یہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلے میں رہنے والوں کا حال ہوتا ہے اور قہقہہ اس لئے کہ جب اندرون نماز ایساجرم ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو بیرون نماز اس سے وضو میں نقص آجا ئے گا اس لئے اس سے وضو مستحب ہواجیسا کہ سیدی عبد الغنی نابلسی نے “ نہایۃ المراد علی ہدیۃ ابن ا لعماد میں ذکر کیا ہے ۔ اور شعر یعنی برا شعر ، اپنے ذکر یا کسی عورت کا چھو جانا اھ ملتقطا(ت)
میزان امام شعرانی قدس سرہ الربانی میں ہے :
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اللّٰہ
میں نے سیدی علی الخواص رحمۃ الله تعالٰی سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ریح الذین یغتابون المومنین[4] ورواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب ذم الغیبت عنہ رضی الله تعالٰی عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں ، (اس کو ابن الدنیا نے کتاب ذم الغیبت میں روایت کیا ہے ، الله ان سے راضی ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ ت)
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ الله تعالٰی یقول وجہ من نقض الطہارۃ بالقہقہۃ اونوم الممکن فــــ۱ ١ مقعدۃ اومس فــــ۲الابط الذی فیہ صنان اومس فــــ۳ ابرص اوجذم اوکافر اوصلیب فــــ۴او غیر ذلك مماوردت فیہ الاخبار الاخذ بالاحتیاط قال وجمیع النواقض متولدۃ من الاکل ولیس لنا ناقض من غیر الاکل ابدا فلولا الاکل والشرب مااشتھینا لمس النساء ولا تکلمنا بغیبۃ ولا نمیمۃ اھ بالا لتقاط [5]۔
سنا قہقہہ سے طہارت ٹوٹ جاتی ہے ، اسی طرح وہ نیند جس میں مقعد زمین سے لگی ہو ، بغل کو کھجانا جس میں بدبو ہو ، برص والے کو یا جذامی کو یا کافر کو چھُونے سے یا صلیب کو چھونے سے ، اس کے علاوہ اور دوسری اشیاء جن کے بارے میں احادیث وارد ہیں ، احتیاط کے طور پر۔ فرمایا تمام نواقض وضو کھانے سے پیدا ہونے والے ہیں ، اور ہمارے لئے غیر اکل سے کوئی ناقض نہیں اگر کھانا پینا نہ ہوتا توعورتوں کے چھونے کی ہم میں شہوت بھی نہ ہوتی نہ ہی غیبت وچغلی ہماری زبان پر آتی اھ بالالتقاط۔ (ت)
کتاب الانوار امام یوسف اردبیلی میں ہے :
لاینقض بالکذب والشتم والغیبۃ والنمیمۃ ویستحب فی الکل للخلاف[6]
جھُوٹ ، گالی دینے ، غیبت ، چغلی سے وضو نہیں ٹوٹتا اور مستحب ان سب میں ہے کیوں کہ محل اختلاف ہے ۔ (ت)
فتح العین بشرح قرۃ العین للعلامۃ زین الشافعی تلمیذ ابن حجر المکی میں ہے :
فـــــ۱ مسئلہ : سوتے میں دونوں سرین زمین پر جمے ہوں تو وضو نہیں جاتا مگر اعادہ وضو مستحب جب بھی ہے۔
فـــــ۲ : مسئلہ : بغل کھجانے سے وضو مستحب ہے جبکہ اس میں بد بو ہو ۔
فـــــ۳ مسئلہ : جزامی یا برص والے سے مس کرنے میں بھی تجدید وضو مستحب ہے۔
فـــــ۴ : مسئلہ : صلیب جسے نصاری پوجتے ہیں اور ہنود کے بت وغیرہ کے چھونے سے بھی نیا وضو چاہیے ۔
یندب الوضوء من لمس یھودی ونظر بشھوۃ ولوالی محرم وتلفظ بمعصیۃ وغضب[7]۔
یہودی کو چھو جانے ، شہوت سے نظر کرنے اگرچہ محرم ہی کی طرف ہو ۔ ۔ معصیت کی بات زبان پر لانے اور غصہ سے وضو مستحب ہے ۔
رحمۃ الامہ فی اختلاف الائمہ میں ہے :
[1] سنن الترمذی کتاب البر والصلۃ حدیث۱۹۷۹ دار الفکر بیروت ۳ / ۳۹۲
[2] حلیۃ الاولیاء ترجمہ عبد العزیز بن ابی رواد ۴۰۰حدیث ۱۱۹۱۸دار الکتب العلمیہ بیروت ۸ / ۲۱۴
[3] ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۱
[4] مسند احمد بن حمبل عن جابر بن عبداللہ المکتب ا لاسلامی بیروت۳ / ۳۵۱
[5] میزان الشریعۃ الکبری ، با ب اسباب الحد ث دارا لکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۴۵
[6]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع