30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فـــــ ۱ : مسئلہ : ان بعض اشیاء کا بیان جن کے سبب وضوکی تجدید مطلقا بالا تفاق مستحب ہوتی ہے خوا ہ ابھی اس سے نماز وغیرہ کوئی فعل ادا کیا ہو یا نہیں مجلس بدلی ہو یا نہیں وضو پورا ہوا ہو یا نہیں تجدید ایك با ر ہو یا سو بار ۔
فـــــ۲ : فائدہ ضروریہ : ان دس فرقوں کا بیان جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور شرعا مرتد ہیں ۔
عـــــہ۱ : ۱غلام احمد قادیانی کے پیرو جو اپنے آپ کو نبی ورسول کہتا اپنے کلام کو کلامِ الٰہی بتاتا سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دیتا چارسو انبیا کی پیشگوئی جھوٹی بتاتا خاتم النبیین میں استثنا کی پچّر لگاتا وغیرہ کفریات ملعونہ ۱۲ (م)
یا چکڑالوی عـــــہ۲نیچری عـــــہ۳ یا آج کل کے تبرائی رافضی عـــــہ۴یاکذابی عـــــہ۵یا بہائمی عـــــہ۶یا شیطانی عـــــہ۷ خواتمی عـــــہ۸وہابی جن کے عقائد کفر کا بیان حسام الحرمین میں ہے۔ یا اکثر غیر عـــــہ۹ مقلد خواہ بظاہر مقلد وہابیہ کہ اُن عقائدار تداد پر مطلع ہو کر
عـــــہ۲ : یہ ایك نیا طائفہ ملعونہ حادث ہوا ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی پیروی سے منکر ہے تمام احادیث مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو صراحۃً باطل وناقابل بتاتا اور صرف قرآن عظیم کے اتباع کا ادعا رکھتا ہے اور حقیقۃً خود قرآن عظیم کا منکر ومبطل ہے ، ان خبیثوں نے اپنی نماز بھی جُدا گھڑی ہے جس میں ہر وقت کی صرف دو٢ ہی رکعتیں ہیں ۱۲۔
عـــــہ۳ : یہ باطل طائفہ ضروریات دین کا منکر ہے قرآن عظیم کے معانی قطعیہ ضروریہ میں در پردہ تاویل وتحریف وتبدیل کرتا وجودِ ملائکہ وآسمان وجن وشیطان وحشر ابدان وناروجنان ومعجزات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے انہیں ملعون تاویلوں کی آڑ میں انکاررکھتا ہے ۱۲۔
عـــــہ۴ : یہ ملاعنہ صراحۃً قرآنِ عظیم کو ناقص بتاتے اور مولٰی علی وائمہ اطہار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم سے افضل ٹھہراتے ہیں ۱۲۔
عـــــہ۵ : یہ ملاعنہ طائفہ الله تعالٰی کو بالفعل جھوٹا بتاتا اور صاف کہتا ہے کہ وقوع کذب کے معنے درست ہوگئے ۱۲۔
عـــــہ۶ : یہ گروہ لعین ہر پاگل اور چوپائے کے لئے علم غیب مان کر صاف کہتا ہے کہ جیسا علم رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو تھا ایسا علم تو ہر پاگل اور جانور کو ہوتا ہے ۱۲
عـــــہ۷ : اس شیطانی گروہ کے نزدیك ابلیس لعین کا علم رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے علم سے زیادہ بلکہ بے شمار زیادہ ہے ابلیس کی وسعت علم کو نص قطعی سے ثابت کہتا اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی وسعت علم کو باطل بے ثبوت مانتا ہے اُن کیلئے وسعتِ علم کے ماننے کو خالص شرك بتاتا مگر ابلیس کو وسعتِ علم میں خدا کا شریك جانتا ہے ۱۲۔
عـــــہ ۸ : یہ شقی گروہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر نبوت ختم ہونے کا صاف منکر ہے خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کرتا اور بمعنی آخر النبیین لینے کو خیالِ جہال بتاتا یا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے چھ یا سات مثل موجود مانتا ہے ۱۲
عـــــہ۹ : یہ بدبخت طائفہ ان ملعون ارتدادوں کو دفع تو کر نہیں سکتا بلکہ خوب جانتا ہے کہ ان سے دفع ارتداد ناممکن ہے مگر ان مرتدوں کو پیشوا اور ممدوح دینی ماننے سے بھی باز نہیں آتا الله جل وعلا ورسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے مقابل ان کی حمایت پر تُلا ہوا ہے الله ورسول کو گالیاں (باقی برصفحہ آئندہ)
اُن کو عالم دین وعمدہ مسلمین کہتے یا الله ورسول کےمقابل الله ورسول کو گالیاں دینے والوں کی حمایت کرتے ہیں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
دینا بہت ہلکا جانتا ہے مگر ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی بیان کرنے کو گالیاں دینا کہتا اور بہت سخت برا مانتا ہے اور ازانجا ف کہ اُن صریح ارتدادوں کی حمایت سے قطعًا عاجز ہے باوصف ہزاروں تقاضوں کے اُن کا نام زبان پر نہیں لاتا اور براہ گریز خدا ورسول جل وعلا و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی جناب میں اُن صریح گالیوں کو بالائے طاق رکھ کر سہل اختلاف مسئلہ عطائے بعض علوم غیبیہ کی طرف بحث کو پھیرنا چاہتا ہے پھر اس میں بھی افترا واختراع سے کام لیتا ہے اور اصل مقصود صرف اتنا کہ وہ قہر عظیم والی دشنام ہائے خدا ورسول جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمبھُول میں پڑ جائیں اور بات این وآں کی طرف منتقل ہو اس چالاکی کا موجد امر تسر کے پرچہ “ اہلحدیث “ کا ایڈیٹر ہے دیکھو چابك لیث اور ظفر الدین الطیب اور کین کش پنجہ پیچ وغیرہا ، یہ چالاك پرچہ۲۶ جمادی الاولٰی ۱۳۲۶ھ میں حسام الحرمین کا ذکر منہ پر لایا مگر یوں کہ براہ عیاری اُس کے تمام مقاصد سے دامن بچا کر دو بالائی باتوں امکانِ کذب وعلم غیب کو اس کا مبنائے بحث ٹھہرایا پھر اُن میں بھی امکانِ کذب کو الگ چھوڑ کر صرف علم غیب میں اپنی بعض فاحشہ جہالتیں دکھائیں جن کا ردبا رہا ہو چکا اسی پرچہ کے رد میں چابك لیث براہل حُدیث دومجلد میں ہے پھر ۳۰ جولائی ۲۰ اگست ۹ء کے پرچوں میں وہی انداز کہ الله ورسول جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی جناب میں گالیاں شیر مادر۔ قاہر مناظروں کے جواب سے گنگ وکر۔ اور اغوائے عوام کو مناظرہ کا نام زبان پر ، اس کے رد میں ظفر الدین الطیب چھاپ کر بھیج دیا انتالیس رات بعد پرچہ ۲۹ رمضان میں اُس کے دیکھنے کا اقرار تو کیا مگر چال وہی کہ اُس کے تمام اعتراضات سے ایك کا بھی جواب نہ دیا اور ایك بالائی لطیفہ تردید کے متعلق لکھا تھا صرف اُس کے ذکر پر اکتفا کیا کہ میری ارد ودانی پر بھی اعتراض ہے۔ اے سبحٰن الله اور وہ جو آپ کے دعوٰی ایمان پر قاہر اعتراض ہیں وہ کیا ہوئے وہ جو ثابت کیا تھا کہ تم نے محمد رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر جتنا افترا اُٹھایا اور اُس پر تمہاری حدیث دانی سے بارہ۱۲ سوال تھے وہ کدھر گئے۔ خیر اس کے جواب میں رسالہ کین کش پنجہ پیچ برایڈیٹر اے ایچ رجسٹری شدہ بھیجا آج پچپن دن ہوئے اُس کا بھی ذکر غائب ، مگر بکمال حیا بعد کے بعض پرچوں میں وہی رٹ موجود ، خدا جانے ان صاحبوں کے نزدیك مناظرہ کس شے کا (باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع