30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : ندب کراہت کے منافی نہیں توبعید نہیں کہ بربنائے فضیلت فی نفسہ مندوب ہولیکن ایك مجلس میں اس کاترك اولٰی ہو۔ حلیہ میں لکھا ہے کہ نفل خلافِ اولٰی ہونے کے منافی نہیں اھ اسے صفۃ الصلوٰۃ کے تحت بعد والی دونوں رکعتوں میں قرأت کے مسئلہ میں ذکرکیاہے اور سید طحطاوی نے حواشی مراقی میں لکھا ہے کہ کراہت ثواب کے منافی نہیں علامہ نوح نے اس کا افادہ کیااھ۔ یہ انہوں نے فصل احق بالامامۃ میں اقتدائے مخالف کے مسئلہ میں ذکرکیاہے۔ ہاں اس پر وہ اعتراض وارد ہوگا جوہم نے بیان کیاکہ “ جگہ بدلنے کو اس باب میں کوئی دخل نہیں “ ۔ والله تعالٰی اعلم ۔ (ت)
وجہ سوم یہ سب کچھ سہی پھر تجدید وضو تو بعد تکمیل وضوئے اول ہو اثنائے وضو میں تجدید کیسی۔ یہ اعتراض علامہ علی قاری کا ہے کہ مرقاۃ موضع مذکور میں اصل مسئلہ دائرہ یعنی بہ نیت وضو علی الوضو تین بار سے زیادہ اعضا ء دھونے پر ایراد کیا۔
والی ھذا اشارط اذقال علی قول الدر لقصد الوضوء علی الوضوء ظاھرہ ان نیۃ وضوء اخر متحققۃ فی الغرفۃ الرابعۃ اوالخامسۃ
اور اسی اعتراض کی طرف سید طحطاوی نے اشارہ کیا ، اس طرح کہ درمختار کی عبارت لقصد الوضوء علی الوضوء پر لکھا : س کا ظاہر یہ ہے کہ چوتھے یا پانچویں چُلّو میں دوسرے وضو کی نیت متحقق
فــــ۱ : ١معروضۃ علی العلامۃ ش ۔ فـــــ۲ : ٢ الندب لا ینافی الکراھۃ۔
ولا کراھۃ والحدیث یدل علی غیر ھذا [1] اھ
قلت وکانہ الی ھذا نظر العلامۃ فـــــ البحر فزاد علی خلاف سائر المعتمدات قید الفراغ من الاول وعزاہ لاکثر شروح الھدایۃ مع عدمہ فیھا ظنا منہ رحمہ الله تعالی انہ ھو المحمل المتعین لکلامھم فقال وعلی الاقوال کلھا لوزاد لطمانینۃ القلب عند الشك اوبنیۃ وضوء اخر بعد الفراغ من الاول فلا باس بہ لانہ نور علی نور وکذا ان نقص لحاجۃ لاباس بہ کذا فی المبسوط واکثر شروح الھدایۃ[2] اھ
ثم بعد ھذا الحمل البعید من کلامھم کل البعد تکلم فیہ باتحاد المجلس کما تقدم قال الا ان یحمل علی ما اذا اختلف المجلس وھو بعید کمالا یخفی [3]اھ
ہوجاتی ہے اور کوئی کراہت نہیں ۔ مگر حدیث کچھ اور بتا رہی ہے اھ۔
قلت شاید علامہ بحر نے اسی طرف نظر کرتے ہوئے تمام کتب معتمدہ کے برخلاف “ وضوئے اول سے فارغ ہونے “ کی قید کا اضافہ کردیااوراسے اکثر شروحِ ہدایہ کی جانب منسوب کیا ، جبکہ ان میں یہ بات نہیں ۔ صاحبِ بحر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا خیال ہے کہ ان شارحین کے کلام کا یہی مطلب متعین ہے۔ بحر کے الفاظ یہ ہیں : اورتمام اقوال پر اگر شك کی حالت میں اطمینا ن قلب کے لئے زیادہ کیا یا “ پہلے وضو سے فارغ ہونے کے بعد “ دوسرے وضو کی نیت سے زیادہ کیاتو کوئی حرج نہیں اس لئے یہ نور علٰی نور ہے۔ یوں ہی اگر کسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں ، ایساہی مبسوط اور اکثر شروحِ ہدایہ میں ہے اھ۔
پھر ان حضرات کے کلام سے یہ بالکل ہی بعید مطلب لینے کے بعداس پراتحادمجلس سے کلام کیاجوگزرا ، آگے فرمایا : مگر یہ کہ مجلس بدل جانے کی صورت پرمحمول ہو ، اور وہ بعید ہے جیسا کہ مخفی نہیں اھ۔
فـــــ : ثالث علی البحر
اقول : رحمك فـــــ۱ الله ورحمنا بك اولیس ما حملتم علیہ بعیدا فاین الزیادۃ علی الثلث فی الغسلات من التجدید بعد انھا الوضوء الاول۔
اقول : آپ پرخدا کی رحمت ہواورآپ کے طفیل ہم پر بھی رحمت ہو۔ کیاآپ نے جو مطلب لیاوہ بعید نہیں ؟ کہاں دورانِ وضو کسی عضو کوتین بارسے زیادہ دھونا اورکہاں پہلا وضو پورا کرنے کے بعد تازہ وضو کرنا(ان کے کلام میں وہ تھا اورآپ نے اس کامعنٰی یہ لیا دونوں میں کیا نسبت؟)
یہ اعتراض ضرور محتاج توجہ ہے۔
وانا اقول : وبالله استعین فـــــ۲ (میں کہتا ہوں الله تعالٰی کی مدد کے ساتھ۔ ت) شے کے فـــــ۳ اسباب وشروط ہوں یا احکام وآثار اُس کا ذکر اگرچہ مطلق ہو اُن سب کی طرف اشعار کہ مسبب ومشروط کا وجود بے سبب وشرط نہ ہوگا۔
ان عقلیا فعقلیا اوشرعیا فشرعیا کصلاۃ الظہر قبل الزوال او بدون نیۃ ۔
اگر وہ امر عقلی ہے تو اس کا وجود عقلی اور اگرشرعی ہے تووجودشرعی بے سبب وشرط نہ ہوگا جیسے قبل زوال یابے نیت ، نماز ظہر کا وجود شرعی نہیں ہوسکتا(اول فقدان سبب کی مثال ہے دوم فقدان شرط کی ۱۲م)۔
نہ شے اپنے احکام وآثار سے خالی ہوگی کہ یہ دونوں فریق دو طرف تقدم وتاخر ذاتی میں لوازم وجود شے ہیں والشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ (اگر کچھ ثابت ہوگا تو تمام لوازم کے ساتھ ثابت ہوگا۔ ت) تبیین الحقائق مسئلہ ذکاۃ الجنین میں ہے :
ای اذبحوہ وکلوہ وھذا مثل مایروی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم یعنی اسے ذبح کرلوتب کھاؤ اور یہ اسی کے مثل ہے جو مروی ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
فــــ۱ : تطفل رابع علیہ ۔
فــــ۲ : تطفل عاشر علی الغنیۃ و ثامن علی القاری و خامس علی البحر و معروضۃ علی ط وغیرھم
اذن فی اکل لحم الخیل ای اذا اذبح لان الشیئ اذا عرف شروطہ وذکر مطلقا ینصرف الیھا کقولہ تعالٰی اقم الصلاۃ ای بشروطھا[4]۔
نے گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی یعنی جب ذبح کرلئے جائیں۔ اس لئے کہ کسی شے کی شرطیں جب معروف ہوں اور ا س کومطلقًا ذکرکردیاجائے تواس کا ان شرطوں کے ساتھ ہونا ہی مراد ہوگا جیسے باری تعالٰی کا ارشاد ہے نماز قائم کر ، یعنی اس کی شرطوں کے ساتھ۔ (ت)
اب وضو دو۲ قسم ہے : ۱واجب و۲مندوب۔
واجب کا سبب معلوم ہے کہ اُس چیز کا ارادہ جو بغیر اس کے حلال نہ ہو جیسے نماز یا سجدہ یا مصحف کریم کو ہاتھ لگانا۔ اور مندوب فـــــ۱ کے اسباب کثیر میں ازانجملہ :
(۱)قہقہہ سے ہنسنا(۲)غیبت کرنا(۳)چغلی کھانا(۴)کسی کو گالی دینا(۵)کوئی فحش لفظ زبان سے نکالنا(۶)جھوٹی بات صادر ہونا(۷)حمد ونعت ومنقبت ونصیحت کے علاوہ کوئی دنیوی شعر پڑھنا (۸)غصہ آنا(۹)غیر عورت کے حُسن پر نظر۔ (۱۰)کسی کافر سے بدن چھو جانا اگرچہ کلمہ پڑھتا اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو جیسا فـــــ۲ قادیانی عـــــہ۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع