دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اقول : جس مسئلہ پر عبارت فـــــ۲ سراج سے اعتراض فرمایا وہ خود سراج کا بھی مسئلہ ہے۔ ہندیہ میں ہے :

لوزاد علی الثلث لطمانینۃ القلب عند الشك اوبنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ ھکذا فی النھایۃ والسراج الوھاج [1]۔

شك ہونے کے وقت اطمینانِ قلب کیلئے یا دوسرے وضو کی نیت سے دھویا تو کوئی حرج نہیں ایساہی نہایہ اور سراج وہاج میں ہے ۔ (ت)

کیا کلام سراج خود اپنے مناقض ہے اور اگر ہے تو اُن کا وہ کلام احق بالقبول ہوگا جو عامہ اکابر فحول کے موافق ہے یاوہ کہ اُن سب کے اور خود اپنے بھی مخالف ہے۔ لاجرم صاحب بحر کے برادر وتلمیذ نے نہرالفائق میں ظاہر کردیا کہ سراج نے ایك مجلس میں چند بار وضو کو مکروہ کہا ہے دوبار میں حرج نہیں تو اعتراض نہ رہا۔ سراج وہاج کی عبارت یہ ہے :

لو تکرر الوضوء فی مجلس واحد مرارا لم یستحب بل یکرہ لما فیہ من الاسراف [2] اھ

اگر وضو ایك مجلس میں چند بار مکرر ہو تو مستحب نہیں بلکہ مکروہ ہے کیونکہ اس میں اسراف ہے اھ

 

فــــ۱ : مسئلہ : بعض نے فرمایا ایك جلسہ میں دوبار وضومکروہ ہے۔ بعض نے فرمایا دوبارتك مستحب اس سے زائدمکروہ ہے اور مصنف کی تحقیق کہ احادیث وکلمات ائمہ مطلق ہیں اور تحدیدوں کا ثبوت ظاہر نہیں ۔                          

فــــ۲ : تطفل علی البحر۔

وھذا ھو ماخذ ماقدمنا عن المولی النابلسی رحمہ الله تعالٰی۔

یہی اس کلام کا ماخذ ہے جو ہم نے علامہ نابلسی رحمہ الله کے حوالہ سے پیش کیا۔ (ت)

اقول :  وبالله التوفیق فـــــ ١وضوئے جدید میں کوئی غرض صحیح مقبول شرع ہے یا نہیں ، اور اگر نہیں تو واجب کہ مطلقا تجدید مکروہ وممنوع ہو اگرچہ ایك ہی بار اگرچہ مجلس بدل کر اگرچہ ایك نماز پڑھ کرکہ بیکار بہانا ہی اسراف ہے اور اسراف ناجائز ہے ، اور اگر غرض صحیح ہے مثلًا زیادت نظافت تو وہ غرض زیادت قبول کرتی ہے یا نہیں ، اگر نہیں تو ایك ہی بار کی اجازت چاہئے اگرچہ مجلس بدل جائے کہ تبدیل مجلس نامتزاید نہ کردے گا وہ کونسی غرض شرعی ہے کہ ایك جگہ بیٹھے بیٹھے تو قابل زیادت نہیں اور وہاں سے اُٹھ کر ایك قدم ہٹ کر بیٹھ جائے تو از سرنو زیادت پائے ، اور اگر ہاں تو کیا وجہ ہے کہ مجلس میں دوبارہ تکرار کی اجازت نہ ہو بالجملہ جگہ بدلنے کو اسباب میں کوئی دخل نظر نہیں آتا تو قدم قدم ہٹ کر سوبار تکرار کی اجازت اور بے ہٹے ایك بار سے زیادہ کی ممانعت کوئی وجہ نہیں رکھتی۔ احادیث بے شك مطلق ہیں اور ہمارے ائمہ کا متفق علیہ مسئلہ بھی یقینا مطلق اور ایك اور متعدد کا تفرقہ ناموجَّہ والله سبحنہ وتعالٰی اعلم۔

واشار فی الدر الی الجواب بوجہ اخر فقال لعل کراھۃ تکرارہ فی مجلس تنزیہیۃ [3] اھ ای فلا یخالف قولھم لو زاد بنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ لان الکلمۃ غالب استعمالھا فی کراھۃ التنزیہ۔

اقول :  ویبتنی علی مااختارہ ان الاسراف مکروہ تحریما لان المستثنی اذا ثبت فیہ کراھۃ التنزیہ  فلولم تکن فی المستثنی              در مختار میں ایك دوسرے طریقے پر جواب کی طرف اشارہ کیا اس کے الفاظ یہ ہیں شاید ایك مجلس کے اندر تکرار وضو کی کراہت تنزیہی ہو اھ مطلب یہ ہے کہ یہ مان لینے سے ان کے اس قول کی مخالفت نہ ہوگی کہ “ اگر وضو کی نیت سے زیادتی کی تو کوئی حرج نہیں ( فلا بأس بہ ) اس لئے کہ یہ کلمہ زیادہ تر کراہت تنزیہیہ میں استعمال ہوتا ہے

اقول : اس جواب کی بنیاد اس پر ہے جو صاحب در مختار نے اختیار کیا کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ مستثنٰی میں جب کراہت

 

فــــــ  : تطفل علی سراج الوہاج والنہر والبحر ۔

منہ الاھی لم یصح الثنیا ۔

فان قلت معھا مسألۃ الزیادۃ للطمانینۃ عند الشك وقد حکموا علیہما بحکم واحد وھو لاباس بہ وھذہ الزیادۃ مطلوبۃ قطعا لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دع مایریبك [4] فکیف یحمل علی کراھۃ التنزیہ۔

قلت المعنی لایمنع شرعا فیشمل المکروہ تنزیھا والمستحب ھذا وردہ فی ردالمحتار اخذا من ط بانھم عللوہ بانہ نور علی نور قال وفیہ اشارۃ الی ان ذالك مندوب فکلمۃ فـــــ لاباس وان کان الغالب استعمالہا فیما ترکہ اولی لکنھا قد تستعمل فی المندوب کما فی البحر من الجنائز والجھاد[5] اھ             

تنزیہیہ ثابت ہوئی تو اگرمستثنی منہ میں بھی یہی کراہت رہی ہو تو استثنا ء درست نہ ہو ا۔

اگر یہ سوال ہو کہ اس کے ساتھ بوقت شك اطمینان کے لئے زیادتی کا مسئلہ بھی توہے اوردونوں پر ایك ہی حکم لگایا گیا ہے کہ لا بأس بہ (اس میں حرج نہیں )حالانکہ کہ یہ زیادتی تو قطعا مطلوب ہے اس لئے کہ سرکار اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے شك کی حالت چھوڑ کروہ اختیار کرو جو شك سے خالی ہو تو اسے کراہت تنزیہ پر کیسے محمول کریں گے ۔

قلت میں کہوں گا(لابأس بہ) کامعنی یہ ہوگا کہ شرعًا ممنوع نہیں تویہ مکروہ تنزیہی اورمستحب دونوں کوشامل ہوگا یہ بات توہوگئی مگر ردالمحتار میں طحطاوی سے اخذ کرتے ہوئے درمختار کے جواب کی یہ تردید کی ہے کہ علماء نے اس کی علّت یہ بتائی ہے کہ وہ نور علٰی نو ر ہے۔ فرمایا : اس تعلیل میں اس کا اشارہ ہے کہ وہ مندوب ہے تولفظ “ لاباس “ اگرچہ زیادہ تر اس میں استعمال ہوتا ہے جس کاترك اولٰی ہے لیکن بعض اوقات مندوب میں بھی استعمال ہوتاہے جیسا کہ البحرالرائق کے بیان جنائز وجہاد میں ہے اھ۔ (ت)

 

فـــــ :  کلمۃ لا بأس لما ترکوہ اولٰی وقد تستعمل فی المندوب ۔  

اقول :  الندب فـــــ۱ لاینافی فـــــ۲ فی الکراھۃ فلا یبعد ان یکون مندوبا فی نفسہ لما فیہ من الفضیلۃ لکن ترکہ فی مجلس واحد اولی قال فی الحلیۃ النفل لاینافی عدم الاولویۃ [6] اھ ذکرہ فی صفۃالصّلوٰۃ مسألۃ القراء ۃ فی الاٰخریین وقال السید ط فی حواشی المراقی الکراھۃ لاتنافی الثواب افادہ العلامۃ نوح[7] اھ قالہ فی فصل الاحق بالامامۃ مسألۃ الاقتداء بالمخالف۔  نعم یرد علیہ ماذکرنا ان لااثر للمجلس فیما ھنا والله تعالٰی اعلم۔

 



[1]   الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور۱ / ۷

[2]   ردا لمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۱

[3]   الدرالمختار کتاب الطہارت مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲

[4]   صحیح البخاری کتاب البیوع باب التفسیر المشتبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷۵

[5]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن