30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے قریب ہوتا ہے تو اس میں دعا بکثرت کرو (اسے مسلم ، ابو داؤد اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا )
فـــــ : تطفل تاسع علیہا۔
اور دربار شاہی میں بے اذن حاضری جرأت ہے اور سجدہ بے سبب کے لئے اذن معلوم نہیں ، ولہٰذا شافعیہ کے نزدیك حرام ہے کما صرح بہ الامام الا ردبیلی الشافعی فی الانوار جیسا کہ امام اردبیلی شافعی نے انوار میں تصریحات کی۔ ت) اس بناء پر اگر سجدہ بے سبب مکروہ ہو تو وضو کا اُس پر قیاس محض بلا جامع ہے۔ رہا علامہ شامی کا اُس کی تائید میں فرمانا کہ ہدیہ ابن عماد میں ہے :
قال فی شرح المصابیح انما یستحب الوضوء اذا صلی بالوضوء الاول صلٰوۃ کذا فی الشرعۃ والقنیۃ اھ وکذا ماقالہ المناوی فی شرح الجامع الصغیرعندحدیث من توضأ علی طھران المراد الوضوء الذی صلی بہ فرضا او نفلا کما بینہ فعل راوی الخبر ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہما فمن لم یصل بہ شیا لایسن لہ تجدیدہ اھ ومقتضی ھذا کراھتہ وان تبدل المجلس مالم یؤدبہ صلاۃ اونحوھا [1] اھ
شرح مصابیح میں فرمایا کہ وضو اسی وقت مستحب ہے جب پہلے وضو سے کوئی نماز ادا کر لی ہو ایسا شرعۃ الاسلام اور قنیہ میں ہے اھ اسی طرح وہ بھی ہے جو مناوی نے شرح جامع صغیر میں با وضو ہوتے ہوئے دس نیکیاں ملنے سے متعلق حدیث کے تحت فرمایا کہ مراد وہ وضو ہے جس سے کوئی فرض یا نفل نماز ادا کر چکا ہوجیسا کہ راوی حدیث حضرت عبد الله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما کے عمل سے اس کا بیان ظاہر ہوتا ہے تو پہلے وضو سے جس نے کوئی نماز ادا نہ کی اس کے لئے تجدید مسنون نہیں اھ ا ور اس کا مقتضا یہ ہے کہ اگر مجلس بدل جائے تو بھی دوبارہ وضو مکروہ ہو جب تك نما ز یا ایسا ہی کوئی عمل ادا نہ کر لے اھ(ت)
اقول : شرعۃ الاسلام میں اس کا پتا نہیں ، اس میں صرف اس قدر ہے :
التطھر لکل صلاۃ سنۃ النبی علیہ الصلاۃ والسلام [2]۔
ہر نماز کے لئے وضو کرنا نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی سنّت ہے۔ (ت)
ہاں سید علی زادہ نے اُس کی شرح میں مضمون مذکور شرح مصابیح سے نقل کیا اور اُس سے پہلے صاف تعمیم کا حکم دیا ،
حیث قال فالمؤمن ینبغی ان یجدد الوضوء فی کل وقت وان کان علی طہر قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من توضأ علی طھر کتب لہ عشر حسنات وقال فی شرح المصابیح تجدید الوضوء فی کل وقت انما یستجب اذا صلی بالوضوء الاول صلاۃ والا فلا [3] اھ
قلت وبہ ظھر ان قولہ کذا فی الشرعۃ ای شرحہا اشارۃ الی قولہ قال فی شرح المصابیح لاداخل تحت قال۔
ان کے الفاظ یہ ہیں : تومومن کو چاہیے کہ ہر وقت تازہ وضو کرے اگرچہ باوضو رہا ہو ، حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے جس نے باوضو ہوتے ہوئے وضو کیا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ۔ ۔ ۔ اورشرح مصابیح میں کہا کہ ہر وقت تجدید وضو مستحب ہونے کی شرط یہ ہے کہ پہلے وضو سے کوئی نماز ادا کر لی ہو ، ورنہ نہیں ۔
قلت اسی سے ظاہر ہوا کہ ابن عماد کی عبارت “ کذافی الشرعۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ایساہی شرعۃ الاسلام یعنی اسکی شرح میں ہے “ کا اشارہ ان کی عبارت “ قال فی شرح المصابیح “ (شرح مصابیح میں کہا ) کی طرف ہے ۔ یہ شرح مصابیح کے کلام میں شامل نہیں (ت)
بہرحال اولًا قنیہ کا فــــ۱ حال ضعف معلوم ہے اور شرح شرعہ بھی مبسوط ونہایہ وعنایہ ومعراج الدرایہ وکافی وفتح القدیر وحلیہ وسراج وخلاصہ وناطفی میں کسی کے معارض نہیں ہوسکتی نہ کہ اُن کا اور اُن کے ساتھ اور کتب کثیرہ سب کے مجموع کا معارضہ کرے۔ پھر اعتبار منقول عنہ کا ہے اور شرح فــــ۲ مصابیح شروح حدیث سے ہے معتمدات فقہ کا مقابلہ نہ کرے گی نہ کہ مسئلہ اتفاق
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــ ۲ : کتب شروح حدیث میں جو مسئلہ کتب فقہ کے خلاف ہو معتبر نہیں ۔
علامہ مصطفی رحمتی نے شرح مشارق ابن ملك کے نص صریح کو اسی بنا پر رد کیا اور اُسے اطلاقات کتب مذہب کے مقابل معارضہ کے قابل نہ مانا اور خود علامہ شامی نے اُسے نقل کرکے مقرر فرمایا۔
حیث قال علی قولہ لکن فی شرح المشارق لابن ملك لو وطئہا وھی نائمۃ لایحلہا للاول لعدم ذوق العسیلۃ فیہ ان ھذا الکتاب لیس موضوعا لنقل المذھب واطلاق المتون والشروح یردہ وذوق العسیلۃ للنائمۃ موجود حکما الا یری ان النائم اذا وجد البلل یجب علیہ الغسل وکذا المغمی علیہ [4]الخ
تفصیل یہ ہے کہ درمختار میں لکھا لیکن ابن ملك کی شرح المشارق میں ہے کہ اگر عورت سو رہی تھی اور اس سے وطی کی تو شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی اس لئے کہ اس کے حق میں ذوق عسیلہ (مر دکے چھتے کا مزہ پانے) کی شرط نہ پائی گئی اس پر علامہ رحمتی نے یہ اعتراض کیا : اس میں خامی یہ ہے کہ کتاب نقل مذہب کے لئے نہ لکھی گئی اور متون وشروح کے اطلاق سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ اور سونے والی کے لئے بھی مزہ پانے کی شرط حکما موجود ہے کیا دیکھا نہیں کہ سونے والا تری پائے تواس پر غسل واجب ہوجاتاہے اسی طرح وہ بھی جو بے ہوش رہا ہو ۔ (ت)
ثانیا : علامہ مناوی فــــ۱ شافعی ہیں فقہ میں اُن کا کلام نصوص فقہ حنفی کے خلاف کیا قابل ذکر۔
ثالثا : فــــ۲وہی مناوی اسی جامع صغیر کی شرح تیسیر میں کہ شرح کبیر کی تلخیص ہے اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں
فتجدید الوضوء سنۃ مؤکدۃ اذا صلی بالاول صلاۃ مّا [5]۔
توتجدید وضوء سنّتِ مؤکدہ ہے جب پہلے وضو سے کوئی بھی نماز اداکر چکا ہو۔ ( ت)
معلوم ہوا کہ لایسن سے اُن کی مراد نفی سنت مؤکدہ ہے وصاحب الدارا دری (اور صاحبِ خانہ
فــــ۱ : معروضۃ اخری علیہ۔ فـــــ۲ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
کو زیادہ علم ہوتا ہے۔ ت) اور اُس کی نفی مقتضی کراہت نہیں کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں ۔ ت)
وجہ دوم : ایك جلسہ فــــ۱ میں وضو کی تکرار مکروہ ہے۔ سراج وہاج میں اسے اسراف کہا تو قبل تبدل مجلس وضو علی الوضوء کی نیت کیونکر کرسکتا ہے۔ یہ شبہہ بحرالرائق کا ہے کہ اسی عبارت خلاصہ پر وارد فرمایا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع