30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فـــــ۱ : تطفل سابعا علی الغنیۃ والقاری ۔
فـــــ۲ : مصنف کی تحقیق کہ جو وضو یا غسل مستحب ہے وہ وسیلہ محضہ نہیں خود بھی مخصوص ہے۔
فـــــ۳ : مستحب سنت کی تکمیل ہے سنت واجب کی واجب فرض کی فرض ایمان کی۔
الواجبات والاداب اکمال السنن [1]۔
کا تکملہ اورآداب سنتوں کا تکملہ ۔ (ت)
درمختار باب ادر اك الفریضہ میں ہے :
یأتی بالسنۃ مطلقا ولو صلی منفرداعلی الاصح لکونھا مکملات [2]۔
سنّت کی ادائیگی کا حکم مطلقًا ہے اگر چہ تنہا نماز پڑھے یہی اصح ہے اس لئے کہ (فرائض وواجبات ) کی تکمیل کرنے والی ہیں ۔ (ت)
اُسی کی بحث تراویح میں ہے :
ھی عشرون رکعۃ حکمۃ مساواۃ المکمل للمکمل [3]
تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اس میں حکمت یہ ہے کہ مکمل ، مکمل کے برابر ہوجائے۔ (ت)
ولہذا ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ وضوئے بے نیت پر ثواب نہیں ۔ بحرالرائق میں ہے :
اعلم ان النیۃ لیست شرطافی کون الوضوء مفتاحا للصلاۃ قیدنا بقولنا فی کونہ مفتاحا لانھا شرط فی کونہ سببا للثواب علی الاصح [4]۔
واضح ہو کہ وضو کے کلید نماز بننے میں نیت شرط نہیں کلید نماز بننے کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ وضو کے سبب ثواب بننے میں بر قول اصح نیت ضرور شرط ہے۔ (ت)
اور مستحب پر ثواب ہے تو وضوئے فـــــ مستحب محتاج نیت ہوا اور وسائل محضہ محتاج نیت نہیں ہوتے۔
فـــــ : وضوئے مستحب بے نیت ادا نہ ہوگا ۔
فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے :
اذالم ینو حتی لم یقع عبادۃ سببا للثواب فھل یقع الشرط المعتبر للصلاۃ حتی تصح بہ اولا قلنا نعم لان الشرط مقصود التحصیل لغیرہ لالذاتہ فکیف حصل حصل المقصود وصار کستر العورۃ باقی شروط الصلاۃ لایفتقر اعتبار ھا الی ان تنوی[5]۔
بے نیت وضو کر لیا جس کے باعث وہ عبادت سبب ثواب نہ بن سکا تو کیا اس (بے نیت وضو ) سے نماز صحیح ہوجائے گی اور یہ اس وضوکی جگہ ہو جائے گی جس کی شرط نماز میں رکھی گئی ہے ہم جواب دیں گے ہاں اس لئے کہ شرط دوسری چیز کو بروئے کار لانے کے لئے مقصود ہے بذات خود مقصود نہیں تو یہ جیسے بھی حاصل ہومقصود حاصل ہوجائے گا جیسے ستر عورت اور باقی شرائط نماز ہیں کہ ان کے قابل اعتبار ہونے کے لئے ان میں نیت ہونے کی ضرورت نہیں ۔ (ت)
تو ثابت ہوا کہ وضوئے مستحب وسیلہ نہیں وھو المقصود والحمدلله الودود۔
تاسعا : محقق حلبی کا یہ استناد کہ اکیلا فـــــ۱سجدہ (یعنی سجدہ تلاوت وسجدہ شکر کے سوا محض سجدہ بے سبب) جبکہ عبادت مقصودہ نہ تھا تو علماء نے اُس پر حکم کراہت دیا تو وضوئے جدید کی کراہت بدرجہ اولٰی۔
اقول : خود محقق فـــــ۲رحمہ الله نے آخر غنیہ میں سجدہ نماز وسہو وتلاوت ونذر وشکر پانچ سجدے ذکر کرکے فرمایا :
اما بغیر سبب فلیس بقربۃ ولامکروہ [6] نقلہ عن المجتبی مقرا علیہ و
یعنی سجدہ بے سبب میں نہ ثواب نہ کراہت۔ غنیہ میں اسے مجتبٰی سے نقل کر کے برقرار رکھا ،
فـــــ۱ : سجدہ بے سبب کا حکم ۔ فـــــ۲ : تطفل ثامن علیہما ۔
نقلہ عن الغنیۃ فی ردالمحتار ایضا واقر ھذا ھھنا واعتمد ذاك ثمہ الا ان یحمل ماھنا علی کراھۃ التنزیہ وما ثم علی نفی المأ ثم ای کراھۃ التحریم فیتوافقان لکن یحتاج الحکم بکراھتہ ولو تنزیہا الی دلیل یفیدہ شرعا کما تقدم وھو لم یستند ھھناا لی نقل فالله تعالی اعلم۔
اور غنیہ سے اسے ردالمحتار میں بھی نقل کیا اور وضو علی الوضو کے بیان میں غنیہ کے قول (سجدہ بے سبب کی کراہت ) کوبرقرار رکھااور آخر باب سجدہ تلاوت میں سجدہ بے سبب کے غیر مکروہ ہونے پر اعتماد کیا مگر تطبیق یوں ہوسکتی ہے یہاں جو کراہت مذکور ہے وہ کراہت تنزیہیہ پر محمول ہو اور وہاں جو نفی کراہت ہے وہ نفی گناہ یعنی کراہت تحریم کی نفی پرمحمول ہو لیکن کراہت کا حکم کرنے کے لئے اگر چہ کراہت تنزیہیہ ہی ہو اس دلیل کی حاجت ہے جو شرعا اس کی کراہت بتاتی ہو جیسا کہ یہ قاعدہ ذکر ہوا اور یہاں انہوں نے کسی نقل سے استناد نہ کیا اور خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ (ت)
عاشرا : وبالله فـــــ التوفیق سجدہ سب سے زیادہ خاص حاضری دربار ملك الملوك عزجلالہ ہے۔ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
اقرب مایکون العبد من ربہ وھو ساجد فاکثروا الدعاء رواہ مسلم وابو داؤد[7] والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ ۔
[1] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الثانی واجبات الصلوٰۃ عشرۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ۱ / ۵۱ ، خزانۃ المفتین فرائض الصلوٰۃ وواجباتہا قلمی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع