30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رابعا : فـــ۱ صرف وسیلہ ہی ہوکر مشروع ہوتا تو ایك بار کوئی فعل مقصود کرلینے کے بعد بھی تجدید مکروہ ہی رہتی کہ پہلا وضو جب تك باقی ہے وسیلہ باقی ہے تو دوبارہ کرنا تحصیل حاصل وبیکار واسراف ہے۔
خامسا : بلکہ فـــــ۲ چاہئے تھا کہ شرع مطہر وضو میں تثلیث بھی مسنون نہ فرماتی کہ وسیلہ تو ایك بار دھونے سے حاصل ہوگیا اب دوبارہ سہ بارہ کس لئے۔
سادسا : رزین فــــ۳نے عبدالله فــــ۴ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا مرتین مرتین وقال ھو نور علٰی نور [1]۔
یعنی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے وضو میں اعضائے کریمہ دو دوبار دھوئے اور فرمایا یہ نور پر نور ہے۔
ایك ہی بار کے دھونے میں نور حاصل تھا پھر دوبارہ اور سہ بارہ نور پر نور لینا فضول نہ ہوا تو اس پر اور زیادت کیوں فضول ہوگی حالانکہ اُنہی رزین کی حدیث میں ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
الوضوء علی الوضوء نور علٰی نور[2]
وضو پر وضو نور پر نور ہے۔ (ت)
سابعا ابو داؤد وترمذی وابن ماجہ عبدالله بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
من توضا علی طھر کتب لہ عشر
جو باوضو وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں
فــــ۱ : تطفل رابعۃ علی الغنیۃ والقاری ۔ فــــ ۲ : تطفل خامس علیہما ۔
فــــ ۳ : تطفل سادس علیہما۔ فــــ ۴ : وضو پر وضو کے مسائل ۔
حسنات [3]۔
لکھی جائیں ۔
مناوی نے تیسیر میں کہا : ای عشر وضوءات [4]یعنی دس بار وضو کرنے کا ثواب لکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ حدیثوں میں فصل نماز وغیرہ کی قید نہیں تو مشایخ کرام کا اتفاق اور حدیث کریم کا اطلاق دونوں متوافق ہیں اسی بنا پر سیدی عارف بالله علّامہ عبدالغنی نابلسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے یہاں محقق حلبی کا خلاف فرمایا ، ردالمحتار میں ہے :
لکن ذکر سیدی عبدالغنی النابلسی ان المفہوم من اطلاق الحدیث مشروعیتہ ولو بلا فصل بصلاۃ اومجلس اخرو لااسراف فیما ھو مشروع اما لوکررہ ثالثا او رابعا فیشترط لمشروعیتہ الفصل بما ذکروا لاکان اسرافا محضا اھ فتامل [5]اھ۔
اقول : لکن فـــــ اطلاق الحدیثین یشمل الثالث والرابع ایضا وایضا اذالم یکن اسرافا فی الثانی لم یکن فی
سیدی عبدالغنی النابلسی نے فرمایا کہ حدیث کے اطلاق کا مفہوم تو یہ ہے کہ یہ مشروع ہے خواہ اس کے درمیان کسی نماز یا کسی مجلس سے فصل نہ ہواور جو چیز مشروع ہو اس میں اسراف نہیں ہوتا ، لیکن اگر تیسری چوتھی مرتبہ کیا تو اُس کی مشروعیت کیلئے اُن چیزوں سے فصل ضروری ہے جن کا ذکر کیا گیا ہے ور نہ تو محض اسراف ہوگا اھ تو تا مل کرو اھ۔ (ت)
اقول : لیکن دونوں حدیثوں کا اطلاق تو تیسری اور چوتھی بار کو بھی شامل ہے اور یہ بھی ہے کہ جب دوسری بار میں اسراف نہ ہوا
فـــــ : تطفل علی المولی النابلسی ۔
الثالث والرابع وکان المولی النابلسی قدس سرہ القدسی نظر الی لفظ الوضوء علی الوضوء فھما وضواٰن فحسب وکذلك من توضأ علی طھر۔
اقول : ووھنہ لایخفی فقولہ تعالی وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ [6] لایدل ان ھناك وھنین فقط وکان الشامی الی ھذا اشار بقولہ تأمل وسیاتی ماخذ کلام العارف مع الکلام علیہ قریبا ان شاء الله تعالٰی۔
تو تیسری چوتھی بار میں بھی نہ ہوگا ، شاید علامہ نابلسی قدس سرہ کی نظر لفظ وضو علی الوضوء پر ہے کہ یہ صرف دو وضو ہوتے ہیں اور یہی حال اس کا ہے جس نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا ۔
اقول : اس خیال کی کمزوری مخفی نہیں ، دیکھیے ارشاد باری تعالٰی وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ (کمزوری پرکمزوری)یہ نہیں بتاتا کہ وہاں صرف دو ہی کمزوریاں ہیں شاید شامی نے لفظ “ تأمل “ سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے تأمل کرو اور علامہ شامی نے سیدی العارف کے کلام کا جو حصہ ذکر نہیں کیا وہ آ گے ان شاء الله تعالٰی اس پر کلام کے ساتھ جلدی آئے گا۔ (ت)
ثامنا اقول : فـــ۱ حل یہ ہے کہ جو وضو فرض ہے وہ وسیلہ ہے کہ شرط صحت یا جواز ہے اور شروط وسائل ہوتے ہیں مگر جو وضو مستحب فــــ۲ہے وہ صرف ترتبِ ثواب کیلئے مقرر فرمایا جاتا ہے تو قصد ذاتی سے خالی نہیں اگرچہ اُس سے عمل مستحب فیہ میں حُسن بڑھے کہ مستحب فـــــ۳ کی یہی شان ہے کہ وہ اکمال سنن کیلئے ہوتا ہے اور سنن اکمال واجب اور واجب اکمال فرض۔
اقول : اور فرض اکمال ایمان کیلئے اس سے اُن کا غیر مقصود ہونا لازم نہیں آتا۔ خلاصہ وبزازیہ وخزانۃ المفتین میں ہے :
الواجبات اکمال الفرائض والسنن اکمال
واجبات فرائض کا تکملہ ہیں اور سنتیں واجبات
[1] مشکوٰۃ المصابیح باب سنن الوضوء الفصل الثالث قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۷
[2] کشف الخفاء حدیث۲۸۹۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۳۰۳
[3] سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ با ب الرجل یجددا لوضومن غیر حدیث آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹ ، سنن التررمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو لکل الصلوٰۃ حدیث ۵۹ دار الفکر بیروت۱ /
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع