دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اسی طرح مختار الصحاح میں اسراف کو تبذیر اور تبذیر کو اسراف سے تفسیر کیا۔

(۲) اُن میں فرق ہے تبذیر خاص معاصی میں مال برباد کرنے کا نام ہے ابنِ جریر عبدالرحمن بن زید بن اسلم مولائے امیر المومنین عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :

لاتبذر تبذیرا لا تعط فی المعاصی[1]

لاتبذر تبذیرا “ کا معنی “ معاصی میں نہ دے “ ۔ (ت)

اقول : اس تقدیر پر اسراف تبذیر سے عام ہوگا کہ ناحق صرف کرنا عبث میں صرف کو بھی شامل اور عبث مطلقًا گناہ نہیں تو از انجا کہ اسراف ناجائز ہے یہ صرف معصّیت ہوگا مگر جس میں صرف کیا وہ خود معصیت نہ تھا اور عبارت “ لاتعط فی المعاصی “ (اس کی نافرمانی میں مت دے۔ ت) کا ظاہر یہی ہے کہ وہ کام خود ہی معصیت ہو بالجملہ تبذیر کے مقصود وحکم دونوں معصیت ہیں اور اسراف کو صرف حکم میں معصیت لازم ،

وھذا ھو المشتھر الیوم و وقع فی التاج عن شیخہ عن ائمۃ الاشتقاق ان التبذیر یشمل الاسراف فی عرف اللغۃ اہ[2]  ، وبہ صرح العلامۃ الشہاب فی عنایۃ القاضی و

اوراس وقت یہی مشہور ہے ، اور تاج العروس میں اپنے شیخ کی روایت سے اشتقاق سے نقل کیا ہے کہ لغت کے عرف میں تبذیر ، اسراف کوشامل ہے اھ-اسکی صراحت علّامہ شہاب خفاجی نے عنایۃ القاضی میں کی ہے اور

مفادہ ان التبذیر اعم ولم یفسراہ۔

اس کا مفاد یہ ہے کہ تبذیر اعم ہے اور دونوں نے اس کی تفسیر نہ کی ہے۔ (ت)

بعض نے یوں فرق کیا کہ مقدار میں حد سے تجاوز اسراف ہے اور بے موقع بات میں صرف کرنا تبذیر ، دونوں بُرے ہیں اور تبذیر بدتر۔

قال الخفاجی وفرق بینھما علی مانقل فی الکشف بان الاسراف تجاوز فی الکمیۃ وھو جہل بمقادیر الحقوق والتبذیر تجاوز فی موقع الحق وھو جہل بالکیفیۃ وبمواقعھا وکلاھما مذموم والثانی ادخل فی الذم [3]۔

خفاجی نے فرمایا : جیساکشف میں نقل کیا ہے ان دونوں میں یہ فرق کیا گیاہے کہ اسراف مقدار میں حد سے آگے بڑھنا اور یہ حقوق کی قدروں سے نا آشنائی ہے - اور تبذیر حق کی جگہ سے تجاوز کرنا اور یہ کیفیت ہے اور اس کے مقامات سے نا آشنائی ہے ، اور دونوں ہی مذموم ہیں اورثانی زیادہ براہے۔ (ت)

اس تقدیر پر دونوں متباین ہوں گے۔

اقول : اگرچہ مقدار سے زیادہ صرف بھی بے موقع بات میں صرف ہے کہ وہ مصرف اس زیادت کا موقع ومحل نہ تھا ورنہ اسراف ہی نہ ہوتا مگر بے موقع سے مراد یہ ہے کہ سرے سے وہ محل اصلا مصرف نہ ہو۔

بالجملہ احاطہ کلمات فــــ سے روشن ہوا کہ وہ قطب جن پر ممانعت کے افلاك دورہ کرتے ہیں دو ہیں ایك مقصدمعصیت  دوسرا بیکار اضاعت اور حکم دونوں کا منع وکراہت۔

اقول : معصیت تو خود معصیت ہی ہے ولہٰذا اُس میں منع مال ضائع کرنے پر موقوف نہیں اور غیر معصیت میں جبکہ وہ فعل فی نفسہٖ گناہ نہیں لاجرم ممانعت میں اضاعت ملحوظ ولہٰذا عام تفسیرات میں لفظ انفاق ماخوذ کہ مفید خرچ واستہلاك ہے کہ اہم بالافادہ یہی ہے معاصی میں صرف معصیت ہونا تو بدیہی ہے زید نے سونے چاندی کے کڑے اپنے ہاتھوں میں ڈالے یہ اسراف ہوا کہ فعل خود گناہ ہے اگرچہ تھوڑی دیر پہننے سے کڑے خرچ نہ ہوجائیں گے اور بلا وجہ محض اپنی جیب میں ڈالے پھرتا ہے تو

فــــ : مسئلہ : اسراف کہ ناجائز و گناہ ہے صرف دو صورتوں میں ایسا ہوتا ہے ایك یہ کہ کسی گناہ میں صرف و استعمال کریں دوسرے بیکار محض مال ضائع کریں ۔

اسراف نہیں کہ نہ فعل گناہ ہے نہ مال ضائع ہوا اور اگر دریا میں پھینك دیے تو اسراف ہوا کہ مال کی اضاعت ہوئی اور اضاعت کی ممانعت پر حدیث صحیح ناطق صحیح بخاری وصحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

ان الله تعالی کرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال [4]۔

بے شك الله تعالٰی تمہارے لئے مکروہ رکھتا ہے فضول بك بك اور سوال کی کثرت اور مال کی اضاعت۔

یہ تحقیق معنی اسراف ہے جسے محفوط وملحوظ رکھناچاہئے کہ آئندہ انکشاف احکام اسی پر موقوف وبالله التوفیق۔

فائدہفــــ : یہاں سے ظاہر ہوا کہ وضو وغسل میں تین بار سے زیادہ پانی ڈالنا جبکہ کسی غرض صحیح سے ہو ہرگز اسراف نہیں کہ جائز غرض میں خرچ کرنا نہ خود معصیت ہے نہ بیکار اضاعت۔ اس کی بہت مثالیں اُن پانیوں میں ملیں گی جن کو ہم نے آب وضوء  سے مستثنٰی بتایا نیز تبرید وتنظیف کی دو مثالیں ابھی گزریں اور ان کے سوا علماء کرام نے دو صورتیں اور ارشاد فرمائی ہیں جن میں غرض صحیح ہونے کے سبب اسراف نہ ہوا :

(۱) یہ کہ وضو علی الوضوء  کی نیت کرے کہ نور علٰی نور ہے۔

(۲) اگر وضو کرتے میں کسی عضو کی تثلیث میں شك واقع ہو تو کم پر بنا کرکے تثلیث کامل کرلے مثلًا شك ہوا کہ منہ یا ہاتھ یا پاؤں شاید دو ہی بار دھویا تو ایك بار اور دھولے اگرچہ واقع میں یہ چوتھی بار ہو اور ایك بار کا خیال ہوا تو دوبار ، اور یہ شك پڑا کہ دھویا ہی نہیں تو تین بار دھوئے اگرچہ واقع کے لحاظ سے چھ بار ہوجائے یہ اسراف نہیں کہ اطمینانِ قلب حاصل کرنا غرض صحیح ہے۔ ہم امر چہارم میں ارشاد اقدس حضور پُرنور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمبیان کر آئے کہ : دع ما یریبك الی مالا یریبك [5]شك کی

فــــ : مسئلہ : ان صحیح غرضوں کا بیان جن کے لئے وضو و غسل میں تین تین با ر سے زیادہ اعضاء کا دھونا داخل اسرف نہیں بلکہ جائز وروا یا محمود و مستحسن ہے ۔

بات چھوڑ کروہ کر جس میں شك نہ رہے۔ کافی امام حافظ الدین نسفی میں ہے۔

حدیث پاك “ جس نے اس سے زیادتی یا کمی کی وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا “ کی وعید اس صورت میں ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھتے ہوئے زیادہ کرے کہ زیادہ کرناہی سنت ہے لیکن شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادہ کرے یادوسرے وضو کی نیت ہو تو کوئی حرج نہیں ا س لئے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنےحکم دیا ہے کہ شك کی حالت چھوڑ کر وہ صورت اختیار کرے جس میں شك نہ رہے ۔ (ت)    

ھذا (ای وعید الحدیث من زاد علی ھذا اونقص فقد تعدی وظلم) اذا زادہ معتقدا ان السنۃ ھذا فاما لو زاد لطمانیۃ القلب عند الشك اونیۃ وضوء  اخر فلا باس بہ لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم امر بترك مایریبہ الی مالا یریبہ [6]۔

 



[1]   جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶،۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت۱۵ / ۸۷

[2]   تاج العروس باب الراء ، فصل الباء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۶

[3]   عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الآیۃ ۲۷ / ۲۶ دار الکتب العلمیۃبیروت ۶ / ۴۲

[4]   صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض الخ باب ما ینہی عن اضاعت المال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲۴ ، صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب نہی عن کثر ۃ المسائل الخ قدیمی کتب خا نہ کراچی ۲ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن