30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(ضرورت سے زیادہ خرچ اسراف ہے۔ ت)
اقول : مگر یہ تعریف اگر مطلق اسراف کی ہو تو جامعیت میں ایك اور خلل ہوگا کہ قدر حاجت سے زیادت کیلئے وجود حاجت درکار اور جہاں حاجت ہی نہ ہو اسراف اور زائد ہے ہاں حلیہ واتباع کی طرح خاص اسراف فی الوضوء کا بیان ہوتو یہ خلل نہ ہوگا۔
(۶) غیر طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا۔ نہایہ ابن اثیر ومجمع بحار الانوار میں ہے :
الاسراف والتبذیر فی النفقۃ لغیر حاجۃ اوفی غیر طاعۃ الله تعالٰی [1]۔
اسراف اور تبذیر : بغیر حاجت یا غیرطاعت الہی میں خرچ کرنا ہے ۔ (ت)
فـــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ والبحروش۔ فـــــ۲ : تطفل اخر علیہم۔
یہ تعریف گویا چہارم وپنجم کی جامع ہے۔
اقول اولا فــــ۱ ۱طاعت میں وہی تاویل لازم جو چہارم میں گزری۔
ثانیا : حاجت فــــ۲میں وہی تاویل ضرور جو پنجم میں مذکور ہوئی۔
(۷) دینے میں حق کی حد سے کمی یا بیشی۔ تفسیر ابنِ جریر میں ہے :
الاسراف فی کلام العرب الاخطاء باصابۃ الحق فی العطیۃ اما بتجاوزہ حدہ فی الزیادۃ واما بتقصیر عن حدہ الواجب [2]۔
کلامِ عرب میں اسراف اسے کہتے ہیں کہ دینے میں حق کے حصول سے خطا کر جائے یا تو حق کی حد سے آگے بڑھ جائے یا اس کی واجبی حد سے پیچھے رہ جائے ۔ (ت)
اقول : یہ عطا کے ساتھ خاص ہے اور اسراف کچھ لینے دینے ہی میں نہیں اپنے خرچ کرنے میں بھی ہے۔ حدیث میں ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
فی الوضوء اسراف وفی کل شیئ اسراف[3] رواہ سعید بن منصور عن یحیی بن ابی عمر و السَّیبانی الثقۃ مرسلا
وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے اور ہر کام میں اسراف کو دخل ہے اسے سعید بن منصور نے یحیٰی بن ابی عمرو سیبانی ثقہ سے مرسلًا روایت کیا ہے ۔ (ت)
(۸) ذلیل غرض میں کثیر مال اُٹھادینا۔ تعریفات السید میں ہے :
الاسراف انفاق المال الکثیر فی الغرض الخسیس [4]اھ قدمہ ھھنا واقتصر علیہ فی المسرف۔
اسراف گھٹیا مقصد میں زیادہ مال خرچ کردینا اھ بیان اسرا ف میں اس تعریف کو مقدم رکھا اور مُسِرف کی تعریف میں صرف اسی کو ذکر کیا ۔ (ت)
اقول : یہ بھی جامع فــــ۴ نہیں بے غرض محض تھوڑا مال ضائع کردینا بھی اسراف ہے۔
فـــــ۱ : تطفل علی ابن الاثیر والعلامۃ طاہر ۔ فــــــ۲ : تطفل آخر علیہما ۔
فـــــ۳ : تطفل علی ابن جریر۔ فـــــ۴ : تطفل علی العلامۃ ا لسیدالشریف۔
(۹) حرام میں سے کچھ یا حلال کو اعتدال سے زیادہ کھانا حکاہ السید قیلا [5] تعریفات میں سید شریف نے اسے بطور قیل حکایت کیا ۔ (ت)
اقول : یہ کھانے فـــــ سے خاص ہے۔
(۱۰) لائق وپسندیدہ بات میں قدر لائق سے زیادہ اُٹھادینا ۔ تعریفات علّامہ شریف میں ہے :
الاسراف صرف الشیئ فیما ینبغی زائداعلی ماینبغی بخلاف التبذیر فانہ صرف الشیئ فیما لاینبغی [6]۔
اسراف : مناسب کام میں حد مناسب سے زیادہ خرچ کرنا ، بخلاف تبذیر کے کہ وہ نا مناسب امر میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں ۔ (ت)
اقول : ینبغی کا اطلاق کم از کم مستحب پر آتا ہے اور اسراف مباح خالص میں اُس سے بھی زیادہ ہے مگر یہ کہ جو کچھ لاینبغی نہیں سب کو ینبغی مان لیں کہ مباح کاموں کو بھی شامل ہوجائے ولیس بعید (اور یہ بعید نہیں ۔ ت) اور عبث محض اگرچہ بعض جگہ مباح بمعنی غیر ممنوع ہو مگر زیر لاینبغی داخل ہے تو اس میں جو کچھ اُٹھے گا اس تفسیر پر داخل تبذیر ہوگا۔
(۱۱) بے فائدہ خرچ کرنا۔ قاموس میں ہے :
ذھب ماء الحوض سرفا فاض من نواحیہ [7]۔
حوض کا پانی اسکے کناروں سے بہ گیا ۔ (ت)
تاج العروس میں ہے :
قال شمر سرف الماء ماذھب منہ فی غیر سقی ولا نفع یقال اروت البئر النخیل وذھب بقیۃ الماء سرفا۔ [8]
شمر نے کہا سَرف الماء کے معنی وہ پانی جوسینچائی یا کسی فائدہ کے بغیر جاتا رہاکہا جاتا ہے کنویں نے کھجوروں کو سیراب کر دیا اور باقی پانی سرف (بے کار ) گیا ۔ (ت)
تفسیر کبیر وتفسیر نیشا پوری میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع