دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

الاسراف والتبذیر ملکۃ بذل المال حیث یجب امساکہ بحکم الشرع اوالمرؤۃ بقدر مایمکن وھما فی مخالفۃ الشرع حرامان وفی مخالفۃ المروء ۃ مکروھان تنزیھا [1] اھ

اقول :  وزاد ملکۃ لیجعلھما من منکرات القلب لانہ فی                               

اسراف اور تبذیر : اس جگہ مال خرچ کرنے کا ملکہ(نفس کی قوت راسخہ ) جہاں شریعت یا مروت روکنا لازم کرے اور مروت امکانی حد تك پہنچانے کے کام میں نفس کی سچی رغبت کو کہتے ہیں اسراف وتبذیر شریعت کی مخالف میں ہوں تو حرام ہیں اور مروت کی مخالف میں ہوں تومکروہ تنزیہی ہیں اھ

اقول : ان دونوں کو منکرات قلب سے قرار دینے کے لئے لفظ ملکہ کا اضا فہ کر دیا

تعدیدھا ومثل الشارح العلامۃ سیدی عبد الغنی النابلسی قدس سرہ القدسی مخالفۃ المروء ۃ بدفعہ للا جانب والتصدق بہ علیھم وترك الاقارب والجیران المحاویج[2] اھ

اقول :  اخرج الطبرانی فــــ۱ بسند صحیح عن ابی ھریرۃ فـــ۲ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یا امۃ محمد والذی بعثنی بالحق لایقبل الله صدقۃ من رجل ولہ قرابۃ محتاجون الی صلتہ ویصرفہا الی غیرھم والذی نفسی بیدہ لاینظر الله الیہ یوم القیمۃ [3]اھ فھو خلاف الشرع لامجرد خلاف المروء ۃ والله تعالی اعلم۔                                         

کیونکہ یہاں وہ دل کی برائیاں ہی شمار کرا رہے ہیں ۔ اور شارح علامہ سید عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے مخالفت مروت کی مثال یہ پیش کی ہے کہ حاجت مندوں قرابت داروں اورہمسایوں کو چھوڑ کر دور والوں کو مال دے اوران پر صدقہ کرے اھ

اقول : طبرانی نے بسند صحیح حضرت ابوھریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : اے امت محمد (علیہ الصلوۃ والسلام ) اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا خدااس شخص کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے کچھ ایسے قرابت دارہوں جواس کے صلہ کے محتاج ہوں اور وہ دوسروں پرصرف کرتا ہو اس کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے خدا اسکی طرف روز قیامت نظر رحمت نہ فرمائے گا اھ تو یہ (حاجت مند اقارب کو چھوڑ کر اجانب کو دینا ) صرف مروت ہی کے خلاف نہیں شریعت کے بھی خلاف ہے اورخدائے برتر ہی کو خوب علم ہے ۔ ( ت)

فـــ۱ : تطفل علی المولی النابلسی ۔

فـــ۲ : مسئلہ : جس کے عزیز محتا ج ہوں اسے منع ہے کہ انہیں چھوڑ کر غیروں کو اپنے صدقات دے حدیث میں فرمایا ایسے کا صدقہ قبول نہ ہوگا اور الله تعالی ٰ روزقیامت اس کی طرف نظرنہ فرمائے گا ۔

انا اقول :  وبالله التوفیق آدمی کے پاس جو مال زائد بچا اور اُس نے ایك فضو ل کام میں اُٹھا دیا جیسے بے مصلحت شرعی مکان کی زینت وآرائش میں مبالغہ ، اس سے اُسے تو کوئی نفع ہوا نہیں اور اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو دیتا تو اُن کو کیسا نفع پہنچتا تو اس حرکت سے ظاہر ہوا کہ اس نے اپنی بے معنی خواہش کو اُن کی حاجت پر مقدم رکھا اور یہ خلافِ مروت ہے۔

(۴) طاعتِ الٰہی کے غیر میں اٹھانا۔ قاموس میں ہے :

الاسراف التبذیر اوما انفق فی غیر طاعۃ[4] اھ

اسراف تبذیریا وہ جو غیر طاعت میں خرچ ہو ۔ (ت)

ردالمحتار میں اسی کی نقل پر اقتصار فرمایا۔

اقول : ظاہر فـــ ہے کہ مباحات نہ طاعت ہیں نہ اُن میں خرچ اسراف مگر یہ کہ غیر طاعت سے خلاف طاعت مراد لیں تو مثل تفسیر  دوم ہوگی اور اب علّامہ شامی کا یہ فرمانا کہ :

لایلزم من کونہ غیر طاعۃ ان یکون حراما نعم اذا اعتقد سنیتہ (ای سنیۃ الزیادۃ علی الثلث فی الوضوء) یکون منھیا عنہ ویکون ترکہ سنۃ مؤکدۃ [5]۔

اس کے غیر طاعت ہونے سے حرام ہونا لازم نہیں آتا ، ہاں ( وضوء میں تین بار سے زیادہ دھونے کے) مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو تو وہ منہی عنہ ہے اور اس کا ترك سنّتِ مؤکدہ ہوگا۔ ( ت)

(۵) حاجتِ شرعیہ سے زیادہ استعمال کرنا

کما تقدم فی صدر البحث عن الحلیۃ والبحر وتبعھما العلامۃ الشامی

(جیسا کہ اس مبحث کے شروع میں حلیہ وبحر کے حوالے بیان ہوااور علامہ علامہ شامی نے ان دونوں کا اتبا ع کیا ۔ ت)

فـــ :  معروضۃ علی العلامۃ ش والقاموس ایضا۔

اقول : اولافـــــ۱ مراتب خمسہ کہ ہم اوپر بیان کر آئے اُن میں حاجت کے بعد منفعت پھر زینت ہے اور شك نہیں کہ ان میں خرچ بھی اسراف نہیں جب تك حدِ اعتدال سے متجاوز نہ ہو ، قال الله تعالٰی

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-[6]

اے نبی! تم فرمادو کہ الله کی وہ زینت جو اُس نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی اور پاکیزہ رزق کس نے حرام کئے ہیں ۔ (ت)

مگر یہ تاویل کریں کہ حاجت سے ہر بکار آمد بات مراد ہے۔

ثانیا : شرعیہ فـــ۲ کی قید بھی مانع جامعیت ہے کہ حاجت دنیویہ میں بھی زیادہ اڑانا اسراف ہے مگر یہ کہ شرعیہ سے مراد مشروعہ لیں یعنی جو حاجت خلافِ شرع نہ ہو تو یہ اُس قول پر مبنی ہوجائے گا جس میں اسراف وتبذیر میں حاجت جائزہ وناجائز ہ سے فرق کیا ہے۔ اگر کہیے ان علماء کا یہ کلام دربارہ  وضو ہے اُس میں تو جو زیادت ہوگی حاجت شرعیہ دینیہ ہی سے زائد ہوگی۔

اقول : اب مطلقًا حکم ممانعت مسلم نہ ہوگا مثلًا میل چھڑانے یا شدّت گرما میں ٹھنڈ کی نیت سے زیادت کی تو اسراف نہیں کہہ سکتے کہ غرض صحیح جائز میں خرچ ہے۔ شاید اسی لئے علّامہ طحطاوی نے لفظ شرعیہ کم فرما کر اتنا ہی کہا

الاسراف ھو الزیادۃ علی قدر الحاجۃ [7]

 



[1]   طریقہ محمدیہ السابع والعشرون الاسراف والتبذیر مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱ / ۱۵و۱۶

[2]   الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ السابع والعشرون مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۸

[3]   مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ علی الاقارب دارلکتاب بیروت ۳ / ۱۱۷

[4]   القاموس المحیط باب الفاء فصل السین تحت السرف مصطفی البابی مصر ۳ / ۱۵۶

[5]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو1داراحیاء التراث العربی ۱ / ۹۰

[6]   القرآن الکریم۷ / ۳۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن