دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

حاضر لائے گھر میں کچھ نہ چھوڑا۔ ارشاد ہوا : اہل وعیال کیلئے کیا رکھا؟ عرض کی : الله اور اس کا رسول جل جلالہ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماس پر حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : تم دونوں میں وہی فرق ہے جو تمہارے ان جوابوں میں ۔ اور تحقیق یہ ہے کہ عام کیلئے وہی

عـــــہ : نیز ایك صاحب انڈے برابر سونا لے کر حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! میں نے ایك کان میں سے پایا میں اسے تصدق کرتا ہوں اس کے سوا میری ملك میں کچھ نہیں ۔ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اعراض فرمایا ، انہوں نے پھر عرض کی ، پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی ، حضور نے وہ سونا ان سے لے کر ایسا پھینکا کہ اگر ان کے لگتا تو درد پہنچاتا یا زخمی کرتا اور فرمایا تم میں ایك شخص اپنا پورا مال لاتا ہے کہ یہ صدقہ ہے پھر بیٹھا لوگوں سے بھیك مانگے گا خیر الصدقۃ ماکان عن ظھر غنی۔ بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہوجائے رواہ ابو داؤد[1] وغیرہ عن جابر رضی الله تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (اس کو ابو داؤد وغیرہ نے جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا۔ ت) (منہ)

حکم میانہ روی ہے اور صدق عـــــہ توکل وکمال تبتُّل والوں کی شان بڑی ہے۔

عــــہ : رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا :

انفق بلالا ولا تخشی من ذی العرش اقلالا ۔ رواہ البزار عن بلال وابو یعلی والطبرانی فی الکبیر[2]  و الاوسط والبیہقی فی شعب الایمان عن ابی ہریرۃ والطبرانی فی الکبیرکالبزارعن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہم باسانید حسان۔

اے بلال! خرچ کر اور عرش کے مالك سے کمی کا اندیشہ نہ کر۔ ( بزاز نے حضرت بلال سے اور ابو یعلی اور طبرانی نے کبیر میں ، اور اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو ہریرہ سے ، اور طبرانی نے کبیر میں ، جبکہ بزاز نے ا بن مسعود رضی الله عنہم سے حسن سندوں کے ساتھ روایت کیا۔ ت)

اس حدیث کا موردیوں ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس ایك خرمنِ خرمہ ملاحظہ فرمایا ، ارشاد ہوا : بلال ! یہ کیا ہے؟ عرض کی : حضورکے مہمانوں کیلئے رکھ چھوڑاہے۔ فرمایا : اما تخشی ان یکون لك دخان فی نار جہنم [3] کیا ڈرتا نہیں کہ اس کے سبب آتشِ دوزخ میں تیرے لئے دُھواں ہو ، خرچ کر ، اے بلال !اور عرش کے مالك سے کمی کا خوف نہ کر۔ بلکہ خود انہی بلال سے ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اُن سے فرمایا : اے بلال! فقیر مرنا اور غنی نہ مرنا۔ عرض کی اس کیلئے کیا طریقہ برتوں ؟ فرمایا : مارزقت فلاتخباء وما سئلت فلا تمنع جو تجھے ملے اُسے نہ چُھپا اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے انکار نہ کر۔ عرض کی(باقی برصفحہ آئندہ)

(۲) حکمِ الٰہی کی حد سے بڑھنا۔ یہ تفسیر ایاس بن معٰویہ بن قرہ تابعی ابن تابعی ابن صحابی کی ہے۔

ابن جریر وابو الشیخ عن سفین عــــہ بن

ابن جریر اور ابو الشیخ سفیان بن حسین سے راوی

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

یا رسول اللہ! یہ میں کیونکر کرسکوں ۔ فرمایا ھوذاك اوالنار یا یہ یا نار۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر و ابو الشیخ فی الثواب والحاکم [4] وقال صحیح الاسناد(اسے طبرانی نے کبیر میں اور ابو شیخ نے ثواب میں اور حاکم نے روایت کیا اور فرمایا یہ صحیح الاسناد ہے۔ ت)

اگر کہیے ان پر تاکید اس لئے تھی کہ وہ اصحابِ صُفّہ سے تھے اور ان حضرات کرام کا عہد تھا کہ کچھ پاس نہ رکھیں گے۔

اقول : (میں کہتا ہوں ) ہاں ، اور ہم بھی نہیں کہتے کہ ایسا کرنا ہر ایك پر لازم ہے مگر ان حضرات پر اس کے لازم فرمانے ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کام فی نفسہٖ محمود ہے اور ہر صادق التوکل کو اس کی اجازت ، ورنہ ان کو بھی منع کیا جاتاجیسے ایك صاحب نے عمر بھر رات کو نہ سونے کا عہد کیا اور ایك نے عمر بھر روزے رکھنے کا ، ایك نے کبھی نکاح نہ کرنے کا۔ اس پر ناراضی فرمائی ، اور ارشاد ہوا : میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور شب کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور نکاح کرتا ہوں  فمن رغب عن سنتی فلیس منی تو جو میری سنّت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے ہیں ، رواہ عن حضرت انس رضی الله عنہ [5]۔

ایك شخص نے پیادہ حج کرنے کی منّت مانی ، ضُعف سے دو٢ آدمیوں پر تکیہ دیے کر چل رہا تھا ، اُسے سوار ہونے کا حکم دیا اور فرمایا :

ان الله تعالٰی عن تعذیب ھذانفسہ لغنی ۔  رویاہ [6]عنہ رضی الله عنہ منہ

عــــہ :  وقع فی نسخۃ الدرالمنثور المطبوعۃ بمصر سعید بن جبیروھو تصحیف اھ منہ عفی عنہ۔

الله اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔ ( اس کوشیخین نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا۔ ۲۱ منہ۔ ت)

عــــہ : در منثورمطبوعہ مصر کے نسخہ میں سعید بن جبیر واقع ہوا ہے یہ تصحیف ہے اھ منہ عفی عنہ

حسین عن ابی بشر قال اطاف الناس بایاس بن معویۃ فقالوا ما السرف قال ماتجاوزت بہ امر الله فھو سرف [7]۔

ہیں وہ ابو البشر سے ، انہوں نے کہا اِیاس بن معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے گرد جمع ہوکرلوگوں نے ان سے پوچھا : اسراف کیا ہے ؟ فرمایا جس خرچ میں تم امر الہی سے تجاوز کر جاؤ وہ اسراف ہے ۔ (ت)

اور اسی کی مثل اہل لغت سے ابن الاعرابی کی تفسیر ہے کما سیاتی من التفسیر الکبیر (جیسا کہ تفسیر کبیر سے ذکر آئے گا۔ ت) تعریفات السید میں ہے

الاسراف تجاوز الحد فی النفقۃ[8]

(نفقہ میں حد تجاوز کرنا اسراف ہے۔ ت)

اقول : یہ تفسیر مجمل ہے حکم الٰہی وضو میں کُہنیوں تك ہاتھ ، گِٹّوں تك پاؤں دھونا ہے ، مگر اس سے تجاوز اسراف نہیں بلکہ نیم بازو ونیم ساق تك بڑھانا مستحب ہے جیسا کہ احادیث سے گزرا تو امر سے مراد تشریع لینی چاہئے یعنی حدِ اجازت سے تجاوز ، اور اب یہ تفسیر ایك تفسیر تبذیر کی طرف عود کرے گی۔

(۳) ایسی بات میں خرچ کرنا جو شرعِ مطہر یا مروّت کے خلاف ہو اول حرام ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی۔ طریقہ محمدیہ میں ہے :

 



[1]   سنن ابی داؤد کتاب الزکاۃ باب الرجل یخرج من مالہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۳۶ ، ۲۳۵

[2]   المعجم الکبیرحدیث۱۰۲۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت۱ / ۳۴۰ ، الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی وابی یعلی والبزارالترغیب فی الانفاق مصطفی البابی مصر۲ / ۵۱ ، کشف الخفاء حدیث۶۳۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت۱ / ۱۹۰ ، کنز العمال حدیث ۱۶۱۸۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن