دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

فاقول :  لایفید فـــــ ماقصدہ من قصر الحکم علی کراھۃ التنزیہ مطلقا مالم یعتقد خلاف السنۃ کیف ولو کان ترك الاسراف سنۃ مؤکدۃ کما یقولہ النھر کان تعودہ مکروھا تحریما ووقوعہ احیانا تنزیھا والحدیث حاکم علی من زاد مطلقا ای ولو مرۃ بانہ ظالم فلزم تاویلہ بما یجعل الزیادۃ ممنوعۃ مطلقا فحملوہ علی ذلك فمن زاد اونقص           

سے تعبیر میں ہے رہاان کایہ اسناد کہ حدیث “ جس نے اس پر زیادتی یا کمی کی تو اس نے حد سے تجاوز اور ظلم کیا “ ہمارے نزدیك اعتقاد پر محمول ہے جیساکہ ہدایہ وغیرہا میں ہے اور بدائع میں فرمایا کہ یہی صحیح ہے یہاں تك کہ اگر کمی بیشی کی اور اعتقاد یہ ہے کہ تین بار دھونا ہی سنت ہے تو وعید اس سے لاحق نہ ہوگی۔ علامہ شامی نے کہا اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ اس بارے میں صریح ہے کہ ا س میں کراہت یعنی کراہت تحریم نہیں اھ۔

فاقول : اس سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا جو ان کامقصد ہے کہ اسراف بہرحال مکروہ تنزیہی ہے جب تك مخالف سنت کا اعتقاد نہ ہو ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟اگر ترك اسراف سنت مؤکدہ ہے۔ جیساکہ صاحب نہر اس کے قائل ہیں تو اس کی عادت بنا لینا مکروہ تحریمی ، اور احیانا ہونا مکروہ تنزیہی ہوگا اور حدیث یہ حکم کرتی ہے کہ مطلقاجو زیادتی کرے خواہ ایك ہی بار وہ ظالم ہے تو اس کی تاویل اس امر سے ضروری ہوئی جو زیادتی کو مطلقا ممنوع قرار دے دے اس لیے علما  نے اسے اس معنٰی پر محمول

فـــــ :  معروضۃ رابعۃ علیہ ۔

مرۃ ولم یعتقد لم یلحقہ الوعید  ، الا تری انھم ھم الناصون بان من غسل الاعضاء مرۃ ان اعتاد اثم کما قدمناہ عن الدر ومعناہ عن الخلاصۃ وقد صرح بہ فی الحلیۃ وغیرما کتاب ۔

ثم فــــ العجب انی رأیت العلامۃ نفسہ قدصرح بھذا فی سنن الوضوء فقال “ لایخفی ان التثلیث حیث کان سنۃ مؤکدۃ واصر علی ترکہ یاثم وان کان یعتقدہ سنۃ واما حملھم الوعید فی الحدیث علی عدم رؤیۃ الثلث سنۃ کما یاتی فذلك فی الترك ولو مرۃ بدلیل ماقلنا (قال) وبہ اندفع مافی البحر من ترجیح القول بعدم الاثم لواقتصر علی مرۃ بانہ لواثم بنفس الترك لما احتج الی ھذا الحمل اھ واقرہ فی النھر وغیرہ وذلك لانہ مع عدم الاصرار محتاج الیہ فتدبر [1]اھ                                             

کیا ۔ ۔ ۔ اب جو ایك بار زیاتی یا کمی کرے اور مخالفت کا اعتقاد نہ رکھے تو وعید اسے شامل نہ ہوگی کیا یہ پیش نظر نہیں کہ علما ء اس کی تصریح فرماتے ہیں کہ جو اعضا ء ایك بار دھوئے اگر اس کا عادی ہوتو گناہ گارجیسا کہ درمختار کے حوالے سے ہم نے بیان کیا اور اسی کے ہم معنی خلاصہ سے نقل کیا اور اس کی تصریح حلیہ وغیرہامتعدد کتابوں میں موجود ہے۔

پھر حیرت یہ ہے کہ میں نے دیکھا علامہ شامی نے سنن وضو کے باب میں خود اس کی تصریح کی ہے وہ لکھتے ہیں مخفی نہیں کہ تین بار دھونا جب بھی ہو سنت مؤکدہ ہے اور جو اس کے تر ك پر اصرار کرے گناہ گار ہے اگرچہ اس کے سنت ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو۔ اور علماء کا وعید حدیث کو تثلیث کے سنت نہ ماننے پرمحمول کر نا جیسا کہ آرہا ہے یہ تو ایك بار تر ك کرنے میں بھی ہے جس کی دلیل وہ ہے جو ہم نے بیان کی ۔ ۔ ۔ ۔ آگے لکھا : اسی سے وہ دفع ہو جاتا ہے جو بحر میں صرف ایك با ر ترك تثلیث سے گناہگار نہ ہونے کے قول کو یہ کہہ کر ترجیح دی ہے کہ اگر نفس ترك سے گنا ہ گار ہوجاتا تو حدیث کی یہ تعبیر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی ا ھ اس کلام کو نہر وغیرہ میں برقرار رکھا ہے یہ کلام دفع یوں ہوجاتا ہے کہ عدم اصرار کے باوجود تاویل حدیث کی ضرورت ہے تو اس پر غور کرو ا ھ۔

فــــ : معروضۃ خامسۃ علیہ ۔

وقال بعیدہ صریح مافی البدائع انہ لاکراھۃ فی الزیادۃ والنقصان مع اعتقاد سنیۃ الثلٰث وھو مخالف لمامر من انہ لواکتفی بمرۃ واعتادہ اثم ولما سیاتی ان الاسراف مکروہ تحریما ولھذا فرع فی الفتح وغیرہ علی القول بحمل الوعید علی الاعتقاد بقولہ فلوزاد لقصد الوضوء علی الوضوء اولطمانیۃ القلب عند الشك اونقص لحاجۃ لا باس بہ فان مفاد ھذا التفریع انہ لو زاد اونقص بلا غرض صحیح یکرہ وان اعتقد سنیۃ الثلث ،  وبہ صرح فی الحلیۃ فیحتاج الی التوفیق بین مافی البدائع وغیرہ ویمکن التوفیق بما قدمنا انہ اذا فعل ذلك مرۃ لایکرہ مالم یعتقدہ سنۃ وان اعتادہ یکرہ وان اعتقد سنیت الثلث الا اذا کان لغرض صحیح [2] اھ ولکن سبحن من لاینسی۔

اقول :  وانت تعلم ان الکراھیۃ                                        اس کے کچھ آگے لکھاہے بدائع کی تصریح یہ ہے کہ تثلیث کو سنت مانتے ہوئے کم وبیش کر دینے میں کوئی کراہت نہیں ہے ، اور یہ اس کے مخالف ہے جو بیان ہوا کہ اگرایك بار دھونے پر اکتفاء کرے اور اس کا عادی ہو تو گنہگار ہو گا اور اس کے بھی خلاف ہے جو آگے آرہا ہے کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اور اسی لئے فتح القدیر وغیرہ میں وعید کو اعتقاد پر محمو ل کرنے کے قول پر یہ تفریع کی ہے کہ اگر وضوپر وضو کے ارادے سے یا شك کی حالت میں اطمینان قلب کے لئے زیادتی کی یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں کیوں کہ اس تفریع کامفاد یہ ہے کہ اگر کسی غرض صحیح کے بغیر کمی بیشی کی تومکروہ ہے اگرچہ تثلیث کے مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو اور حلیہ میں اسکی تصریح کی ہے۔ توبدا ئع اور دوسری کتابوں میں جو مذکور ہے اس کی تطبیق دینے کی ضرورت ہے اوریہ تطبیق اس کلام سے ہو سکتی ہے جو ہم نے پہلے تحریر کیا کہ جب ایك بار ایسا کرے تو مکروہ نہیں جبکہ اسے سنت نہ سمجھے اور اگر اس کا عادی ہوتو مکروہ ہے اگر چہ تثلیث کو سنت مانے مگر جب کسی غرض صحیح کے تحت ہو اھ۔ لیکن پاك ہے وہ جسے نسیان نہیں ۔

اقول : ناظر کومعلوم ہے کہ کبھی ایك بار

المنفیۃ فیما اذا نقص مرۃ ھی التحریمیۃ کما قدمنا لان ترك السنۃ المؤکدۃ مرۃ واحدۃ ایضا مکروہ ولولم یکن تحریما وعلی التعود یحمل التفریع المذکور فی الفتح والکافی والبحر وعامۃ الکتب فان نفی الباس یستعمل فی کراھۃ التنزیہ کما نصوا علیہ فاثباتہ المستفاد ھھنا بالمفھوم المخالف یفید کراھۃ التحریم۔

ھذا الکلام معہ رحمہ الله تعالٰی بما قرر نفسہ وعند العبد الضعیف منشؤ اخر لحمل العلماء الحدیث علی الاعتقاد کما سیاتی ان شاء الله تعالٰی۔                       

کمی کردینے پر کراہت کی جو نفی کی گئی ہے اس سے کراہت تحریم مراد ہے جیساکہ ہم نے سابقا بیان کیا اسلئے کہ سنت مؤکدہ کا ایك بار بھی ترك مکروہ ہے اگرچہ مکروہ تحریمی نہ ہو اور عادت ہونے کی صورت پر وہ تفریع محمول ہوگی جو فتح ، کافی ، بحر میں مذکور ہے اس لئے کہ “ لابأس بہ “ (اس میں حرج نہیں ) کراہت تنزیہ میں استعمال ہوتاہے جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح کی تو “ بأس “ (حرج ) جو یہاں مفہوم مخالف سے مستفادہے وہ کراہت تحریم کا افادہ کررہا ہے۔

یہ علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے ساتھ خود انہی کی تقریر وتحریر سے کلام ہوا اور بندہ ضعیف کے نزدیك حدیث کو اعتقاد پر محمول کیے جانے کامنشا دوسرا ہے جیساکہ آ ۤگے ان شاء الله تعالٰی ذکرہوگا۔

سوم سے یہ جواب دیا کہ مکروہ تنزیہی بھی حقیقۃً اصطلاحا منہی عنہ ہے اگرچہ لغتا اسے منہی عنہ کہنا مجاز ہے کما فی التحریر (ت)

اقول : فــــ۱ اولا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِالعلامۃ یہاں تحریرمیں اصطلاح سے امام محقق علی الاطلاق کی مراداصطلاح نحویاں ہے نہ کہ اصطلاح شرح یا فقہ یعنی جب کہ مکروہ تنزیہی میں صیغہ نہی اور بعض مندوبات میں صیغہ امرہوتا ہے اور نحوی صیغہ ہی کودیکھتے ہیں اختلاف معانی سے انہیں بحث نہیں کہ یہاں فعل یا ترك طلب حتمی ہے یا غیر حتمی تو ان کی اصطلاح میں حقیقۃ مندوب مامور بہ ہوگا اور مکروہ تنزیہی منہی عنہ مگرلغۃ فــــ۲ ان کو مامور بہ اور منہی عنہ کہنا مجاز ہے کہ لغت میں ما مور بہ واجب اور منہی عنہ نا جائز

 



[1]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ سنن الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۰ ، ۸۱

[2]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ سنن الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۱ ، ۸۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن