دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

طرح ہے جیسا کہ منحۃ الخالق میں بحوالہ فیض اس سے نقل کیا ہے : “ جس کے سر میں نزلہ کی وجہ سے چکر آتا ہے اور اسے وضو میں مسح اور جنابت میں غسل ضرر دیتا ہے وہ تیمم کرے ، اور اگر عورت کو جنابت یا حیض کے غسل میں سر دھونے سے ضرر ہو الخ۔ تو میرے دل میں یہ خیال گذرا وﷲ الحمد کہ لفظ “ غسل “ یہاں زبر سے نہیں بلکہ پیش سے ہے ، اس سے مراد سردھونا نہیں جیسے کہ درمختار کی عبارت سے وہم ہوتا ہے بلکہ معنی یہ ہے کہ اسے غسل اور سر چھوڑ کر بھی بدن پر پانی بہانے سے ضرر ہوتا ہے کیونکہ بخارات دماغ کی طرف چڑھتے ہیں جس سے بعض صورتوں میں تکلیف اور بڑھ جاتی ہے جیسا کہ فنِ طب میں مذکور و معلوم ہے اور یہ حکم بالکل صحیح بے غبار ہے جس میں سابقہ قاعدے اور مابعد جزئیے کی کوئی مخالفت نہیں اور بعد والے جزئیے میں خاص عورت کاذکر اس لئے ہے کہ اس سے مرد کا حکم بطریقِ اولٰی دریافت ہوجائے۔ اس لئے جب یہ حکم ہے کہ عورت اپنے لٹکے ہوئے بالوں کا مسح کرلے جب کہ اس کے دھونے میں وہ ضرر نہیں ہوگا جو خود سر دھونے میں ہوتا ہے تو (مرد کے لئے) خود سر کے مسح کا حکم بدرجہ اولی ہوجائے گایہ ساری گفتگو تو غسل سے متعلق ہوئی اب رہا وضو کا معاملہ ، تو یہ معلوم ہے

فــــ : تطفل علی الدر۔

راسہ بید مبتلۃ فیضرہ غسل الوجہ والیدین والرجلین من باب اولی فان البردالذی یصل الی الدماغ باسالۃ الماء علی الاطراف اشدمن بردعسی ان یصل باصابۃ یدمبتلۃ بعض الرأس فلاجل ھذاامربالتیمم ھذاغایۃ مایوجہ بہ کلامہ فکان الاحری بالمولی المحقق المدقق العلائی ان یوجہہ ھکذا والا ترکہ اصلا کیف ومثل الحکم عن غریب الروایۃ غیرغریب کماقالہ فی الحلیۃ فی مسألۃ اخری نقلہاعنہ مخالفاللجمیع والالم یعزہ للفیض الذی ھو موضوع لنقل المذھب کیلا یکون تنویھا بھا والا اتم نقل کلام الفیض فانہ قال عقبیہ وھو عجیب ھذاکلہ ماظھر للعبد الضعیف والله تعالی اعلم ۔                             

کہ جس کا نزلہ اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ اس کے سر کے صرف چوتھائی حصہ بھیگا ہوا ہاتھ پھیرناضرر پہنچاتا ہے تو چہرہ اور دونوں ہاتھ پاؤں دھونے میں بدرجہ اولٰی ضرر ہوگا اس لئے کہ ان اعضاء پر پانی بہانے سے دماغ تك پہنچنے والی ٹھنڈك اس ٹھنڈك کی بہ نسبت زیادہ سخت ہوگی جو سر کے ایك حصہ بھیگا ہوا ہاتھ لگنے سے پہنچتی ہے اسی وجہ سے اس شخص کو تیمم کا حکم ہوا یہ انتہائی توجیہ ہے جو اس کلام سے متعلق ہوسکتی ہے ۔ تو علامہ محقق مدقق علاء الدین کے لئے مناسب یہ تھا کہ کلام کی یہ توجیہ بھی پیش کردیتے ، ورنہ سرے سے اس کاذکر ہی چھوڑ دیتے کیونکہ غریب الروایہ میں ایسا حکم مذکور ہونا کوئی عجیب و غریب بات نہیں ۔ جیساکہ حلیہ میں یہی بات ایك دوسرے مسئلہ سے متعلق کہی ہے جو سب کے برخلاف غریب الروایہ سے نقل کیا ہے ۔ تیسری صورت یہ تھی کہ اس مسئلہ پر فیض کا حوالہ نہ دیتے کیوں کہ یہ نقل مذہب کے لئے لکھی گئی ہے اس کی جانب انتساب سے اس مسئلہ کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور اگر فیض کا حوالہ دیا تو اس کے بعد فیض کا ریمارك “ وھو عجیب “ بھی نقل کرکے اس کا کلام مکمل کردینا چاہئے تھا۔ یہ سب وہ ہے جو بندہ ضعیف پر ظاہر ہوا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)

مسئلہ ۱۴ :                  مرسلہ سید مودود الحسن نبیرہ ڈپٹی سید اشفاق حسین صاحب               ۱۱ / رجب ۱۳۱۷ھ

یاایھا العلماء رحمکم الله تعالٰی مریض لہ حاجۃ الی الغسل والماء یضرہ فما الحکم فی غسلہ واداء صلاتہ الرجاء ان تبینوا لناالجواب الاٰن۔

اے علماء ! الله کی آپ پر رحمت۔ ایك مریض کو نہانے کی حاجت ہے اور پانی نقصان دیتا ہے تو اُسکے غسل و نماز میں کیا حکم ہے؟ امید ہے کہ ابھی جواب ارشاد ہو۔

الجواب :

ان ضرہ غسل راسہ لاغیرمسحہ وغسل سائر جسدہ وان ضرہ الاغتسال بماء بارداغتسل بحاراوفاتران قدروالا تیمم اومسح رأسہ وغسل بدنہ حسبمایقتضیہ حالہ وان ضرہ الاغتسال فی الوقت البارد تیمم فیہ اومسح وغسل کمامر واغتسل فی غیر ذلك الوقت وبالجملۃ یتبع الضررولا یجاوزہ فحیث لایجد سبیلا الی الغسل یتیمم الی ان یجد سبیلا والله سبحانہ وتعالی اعلم۔

اگر اسے صرف سر دھونا مضر ہوتو سرکا مسح کرے اور باقی بدن دھوئے اور اگر ٹھنڈے پانی سے نہانا نقصان کرتا ہو تو گرم یا گنگنے پانی سے نہائے اگر مل سکے ، ورنہ تمیم کرے یا سر پر مسح کرے اور بدن دھولے جیسا اس کے حال مرض کا تقاضا ہو اور اگر ٹھنڈے وقت نہانا نقصان دیتاہے تو اس وقت تیمم یا بدستور سر کا مسح اور باقی بدن کا غسل کرلے پھر جب گرم وقت آئے نہالے غرض جہاں تك ضرر ہو اُسی کا اتباع کرے اُس سے آگے نہ بڑھے جب کسی طرح نہ نہا سکے تو جب تك یہ حالت رہے تیمم کرے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۵ : از کلکتہ کوچہ ٹارنب ڈاکخانہ ویلزی اسٹریٹ نمبر۶ مرسلہ رشید احمد خان ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۰۹ھ

 زید کی ران میں پھوڑا یا اور کوئی بیماری ہے ڈاکٹر کہتا ہے پانی یہاں نقصان کرے گا مگر صرف اُسی جگہ مضر ہے اور بدن پر ڈال سکتاہے اس حالت میں وضویا غسل کے لیےتیمم درست ہے یا نہیں ؟ اگر درست ہے تو تیمم غسل کا ویسا ہی ہے جیسا وضو کا؟ یا کیا حکم ہے؟ باقی آداب۔

الجواب :

صورتِ مسئولہ میں غسل یا وضو کسی کیلئے تیمم جائز نہیں وضو کیلئے نہ جائز ہوناتوظاہر کہ ران کو وضو سے کوئی علاقہ نہیں اور غسل کیلئے یوں نارواکہ اکثر بدن پر پانی ڈال سکتا ہے لہٰذا وضو تو بلاشبہ تمام وکمال کرے اور غسل کی حاجت ہوتواگر مضرت صرف ٹھنڈاپانی کرتا ہے گرم نہ کرے گا اور اسے گرم پانی پر قدرت ہے توبیشك پورا غسل کرے اتنی جگہ کو گرم پانی سے دھوئے باقی بدن گرم یاسرد جیسے سے چاہے ، اور اگر ہر طرح کا پانی مضر ہے یا گرم مضر تو نہ ہوگا مگر اسے اس پر قدرت نہیں توضرر کی جگہ بچا کر باقی بدن دھوئے اور اس موضع پر مسح کرلے اور اگر وہاں بھی مسح نقصان دے مگر دوا یا پٹی کے حائل سے پانی کی ایك دھار بہا دینی مضر نہ ہوگی تو وہاں اُس حائل ہی پر بہادے باقی بدن بدستور دھوئے اور اگر حائل پر بھی پانی بہانا مضر ہوتو دوا یا پٹی پر مسح ہی کرلے اگر اس سے بھی مضرت ہوتو اُتنی جگہ خالی چھوڑ دے جب وہ ضرر دفع ہوتوجتنی بات پر قدرت ملتی جائے بجالاتاجائے مثلًا ابھی پٹی پر سے مسح بھی مضر تھا لہٰذا جگہ بالکل خشك بچادی چند روز بعد اتنا آرام ہوگیا کہ یہ مسح نقصان نہ دے گا تو فورًا پٹی پر مسح کرلے اسی قدر کافی ہوگاباقی بدن تو پہلے کا دھویاہی ہواہے جب اتناآرام ہوجائے کہ اب بندش پر سے پانی بہانا بھی ضرر نہ کرے گا فورًا اس پر پانی کی دھار ڈال دے صرف مسح پر جو پہلے کر چکا تھا قناعت نہ کرے جب اتناآرام ہوجائے کہ اب خاص موضع کا مسح بھی ضرر نہ دے گا فورًا وہاں مسح کرلے پٹی کے غسل پر قانع نہ رہے جب اتناآرام ہو کہ اب خود وہاں پانی بہانا مضر نہ ہوگا فورًا اُس بدن کو پانی سے دھولے غرض رخصت کے درجے بتادئے گئے ہیں جب تك کم درجہ کی رخصت میں کام نکلے اعلٰی درجہ کی اختیار نہ کرے اور جب کوئی نیچے کا درجہ قدرت میں آئے فورًا اُس تك تنزل کرآئے۔ اسی طرح اگر یہ حالت ہو کہ اُس جسم پر پانی تو نقصان نہ دے گا مگر بندھا ہوا ہے کھولنے سے نقصان پہنچے گا یا کھول کر پھر باندھ نہ سکے گا تو بھی اجازت ہے کہ بندش پر سے دھونے یا مسح کرنے جس بات کی قدرت ہو عمل میں لائے جب وہ عذر جاتا رہے کھول کر جسم کو مسح یا غسل جو مقدور ہوکرے یہی سب حکم وضو میں ہیں اگر اعضائے وضو میں کسی جگہ کوئی مرض ہو الحاصل یہاں اکثر کیلئے حکم کُل کا ہے جب اکثر بدن پر پانی ڈال سکتا ہو تو ہرگز تیمم کی اجازت نہیں بلکہ یہی طریقے جو اوپر گزرے بجالائے ہاں اگر اکثر بدن پر پانی ڈالنے کی قدرت نہ ہو (خواہ یوں کہ خود مرض ہی اکثر بدن میں ہے یا مرض تو کم جگہ ہے مگر واقع ایسا ہوا کہ اُس کے سبب اور صحیح جگہ کو بھی نہیں دھو سکتا کہ اُس کا پانی اس تك پہنچے گا اور کوئی صورت بچا کر دھونے کی نہیں یوں اکثر بدن دھونے کی قدرت نہیں (مثلًا رانوں ، پنڈلیوں ، بازوؤں ، کلائیوں ، پیٹھ پر جابجا دودو چارچار انگل کے فاصلے سے دانے ہیں کہ صرف دانوں کی جگہ جمع کی جائے تو سارے بدن کے نصف حصہ سے کم ہو مگر وہ پھیلے ہوئے اس طرح ہیں کہ ان کے بیچ بیچ کی خالی جگہ پر بھی پانی نہیں بہاسکتے) تو ایسی حالت میں بیشك تیمم کی اجازت ہوگی اب یہ نہ ہوگا کہ صرف تھوڑا سا بدن دھو کر باقی سارے جسم پر مسح کرلے۔

درمختار میں ہے :

تیمم لوکان اکثرہ ای اکثر اعضاء الوضوء عددا وفی الغسل مساحۃ مجروحا اوبہ جدری اعتبار اللاکثر وبعکسہ یغسل الصحیح ویمسح الجریح([1])۔

 



[1]   الدرالمختار کتاب الطہارۃ آخر باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن