30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افادہ ہوتا ہے اور علماء نے حدیثِ تسمیہ کو بھی اسی قسم سے قرار دیا ہے ( یعنی حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا یہ ارشاد کہ اس کا وضو نہیں جس نے وضو میں بسم الله نہ پڑھی۔ اس لئے کہ اس حدیث کا ثبوت ظنی ہے کیونکہ خبر واحد ہے اور وجوب پر اس کی دلالت بھی ظنی ہے اس لئے کہ اس مضمون میں اس معنٰی کا احتمال ہے کہ اس کا وضو کامل و افضل نہیں جس نے تسمیہ نہ پڑھی) اور بعض حضرات نے صراحت کی ہے کہ نماز میں قرأتِ فاتحہ کا وجوب سرکارِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ارشاد “ لا صلوٰۃ الابفاتحۃ الکتاب “ ( نماز نہیں مگر فاتحۃ الکتاب سے ) سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس پر سرکار نے مداومت فرمائی اور نماز میں اس کی قرأت کبھی ترك نہ کی ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ قاعدہ ہمیں تسلیم ہے اگر ظنی الدلالۃ سے مراد مشترك الدلالۃ ہو ۔ (یعنی یہ کہ دلیل میں دو یا زیادہ معانی نکلتے ہیں اور کسی معنی کی تعیین نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایك میں شك ہے۔ ۱۲ مترجم)
(یعنی اس لئے کہ وجوب شك سے ثابت نہیں ہوتا۔ )اقول : بلکہ شك اگر ثبوت اور اثبات دونوں میں سے ایك ہی میں ہو تو بھی وہ دلیل کو اثبات وجوب کے درجہ سے نیچے لانے کے لئے
مرتبۃ اثبات الایجاب۔ ثم ۱۲اقول : غیر ان ھذا فـــــ۱ الاحتمال لامساغ لہ فی کلامھم بعد ملاحظۃ المقابلات اعنی ان ظنی الثبوت قطعی الدلالۃ والعکس یثبتان الوجوب فلیس المراد بالظن الاالمصطلح۔ (قال) ومنعنا کون الخبرین من ذلك بل نفی الکمال فیھما احتمال یقابلہ الظھور (ای فلیس مشکوکا بل موھوما قال) فان النفی فـــــ۲ متسلط علی الوضوء والصلاۃ فیھما فان قلنا النفی لایتلسط علی نفس الجنس بل ینصرف الی حکمہ وجب اعتبارہ فی الحکم الذی ھوالصّحۃ فانہ المجاز الاقرب الی الحقیقۃ وان قلنا یتسلط ھنا علی الجنس لانھا حقائق شرعیۃ فینتفی شرعا بعدم الاعتبار
کافی ہے۔ ثم اقول : مگر فقہاء کے کلام میں ظنی الدلالۃ بمعنی مشترك الدلالۃ ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہو سکتا جب کہ یہ ملاحظہ کر لیا جائے کہ وہ ظنی بمقابلہ قطعی بول رہے ہیں ۔ دیکھئے وہ یوں کہتے ہیں : دلیل ثبوت میں ظنی ، دلالت میں قطعی ہو یا اس کے بر عکس ثبوت میں قطعی ، دلالت میں ظنی ہو تو اس سے وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ظن سے مراد وہی ظنِّ اصطلاحی ہے ۔ آگے فرماتے ہیں مگر ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ تسمیہ اور فاتحہ سے متعلق دونوں حدیثیں ظنی بمعنی مشترك ہیں ( اور ان میں نفی صحت اور نفیِ کمال دونوں معنی پر یکساں دلالت ہونے اور کسی کی تعیین نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایك میں شك ہے ۔ ۱۲ م ) بلکہ ( نفی صحت کامعنی ظاہر و متبادر ہے ۔ ۱۲ م) نفیِ کمال کا احتمال ایسا ہے کہ ظاہر اس کی مخالفت کر رہا ہے ( مقصد یہ ہے کہ اب یہ احتمال مشکوك نہیں بلکہ اس سے بھی فر وتر محض موہوم ہو گا) اس لئے کہ حدیث “ لا وضوء “ اور حدیث “ لاصلوٰۃ “ میں نفی وضو اور نماز پر وارد ہے ۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ نفی خود جنس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کے حکم کی ہوتی ہے تو نفی اس کے حکم یعنی صحّت میں ماننا ہو گا کیونکہ نفی صحت ہی
فـــــ۱ : ۶تطفل علی فتح القدیر ۔
فـــــ۲ : نحوہ لاصلٰوۃ ظاھرہ نفی الصحۃ لا الکمال ۔
شرعا وان وجدت حسا فاظھر فی المراد فنفی الکمال علی کلا الوجھین احتمال خلاف الظاھر لایصار الیہ الابدلیل۔
وان ارادو بہ مافیہ احتمال ولو مرجوحا منعنا صحۃ الاصل المذکور (ای اثباتہ ح السنیۃ والندب لاالوجوب بل یثبت الوجوب لحصول الترجیح وان تطرق الظن الی الطرفین جمیعا قال) واسندناہ بان الظن واجب الاتباع فی الادلۃ الشرعیۃ الاجتھادیۃ وھو متعلق بالاحتمال الراجح فیجب اعتبار متعلقہ وعلی ھذا
وہ مجاز ہے جو حقیقت سے قریب تر ہے ( اب حاصل یہ ہو گا کہ بغیر تسمیہ وضو نہیں یعنی صحتِ وضو نہیں اور بغیر فاتحہ نماز نہیں یعنی صحتِ نماز نہیں ۱۲ م ) اور اگر ہم یہ کہیں کہ نفی یہاں خود جنس کی ہو رہی ہے اس لئے کہ وضو اور نماز یہ سب حقائق شرعیہ ہیں اور جب شرعًا ان کا اعتبار نہ ہو گا تو یہ شرعی طور پر بے ثبوت اور معدوم ہونگی اگرچہ حسّی طور پر موجود ہوں ( اب معنی یہ ہو گا کہ بے تسمیہ کے وضو کا اور بے فاتحہ کے نماز کا ، شریعت میں وجود و ثبوت ہی نہیں ۱۲ م) تو اس تقدیر پر مراد اور زیادہ ظاہر واضح ہے۔ اور دونوں تقدیروں پر نفی کمال کا احتمال خلافِ ظاہر ہے جس کی طرف بغیر کسی دلیل کے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔
اور اگر ظنی الدلالۃ سے یہ مراد ہے کہ وہ دلیل جس میں کوئی بھی احتمال ہو ، خواہ وہ مرجوح ہی ہو تو ہمیں قاعدہ مذکور تسلیم نہیں ( یعنی یہ کہ ایسی دلیل سے صرف سنیت اور استحباب کا ثبوت ہو گا ، وجوب کا ثبوت نہ ہو گا بلکہ اس سے وجوب ہی کا ثبوت ہو گا کیونکہ ترجیح حاصل ہے اگرچہ ثبوت اور دلالت دونوں میں ظن کا دخل ہو گیا ہے ۔ آگے فرماتے ہیں : ) اور اس کی سند میں ہم یہ کہیں گے کہ شریعت کے اجتہادی دلیلوں میں ظن کا اتباع واجب ہے ۔ وہ احتمالِ راجح سے متعلق ہوتا ہے توا س کے متعلق ( احتمال راجح ) کو ماننا واجب ہے اسی کو
مشی المصنّف رحمہ الله تعالٰی فی خبر الفاتحۃ حیث قال بعد ذکـرہ من طرف الشافعی رحمہ الله تعالٰی ولنا قولہ تعالٰی فاقرء واما تیسر من القراٰن والزیادۃ علیہ بخبر الواحد لاتجوز لکنہ یوجب العمل فقلنا بوجوبھا وھذا ھو الصواب[1]اھ مزیدا منا مابین الاھلۃ۔
۱۳اقول : وتحرر فـــــ مما تقرران الادلۃ السمعیۃ تسعۃ اقسام لان لہا طرفین الثبوت والاثبات وکل علی ثلثۃ وجوہ القطع والظن والشک۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع