30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اصطلاح سے فیصلہ نہیں ہو سکتا ، باوجودیکہ خودعلامہ شامی ہی یہاں (منحۃالخالق میں) اور ردالمحتار میں تلویح سے ناقل ہیں کہ دلیل ظنی سے ثابت شدہ میں فرض ، اور قطعی سے ثابت شدہ میں واجب کا استعمال رائج اور مشہور ہے جیسے کہتے ہیں : وتر واجب فرض ہے ، تعدیلِ ارکان فرض ہے اور اس کے مثل کو فرضِ عملی کہا جاتا ہے ۔ تو لفظ واجب کا اطلاق ایك تو اس چیز پر ہوتا ہے ۔ جو اعتقاد اور عملا دونوں طرح فرض ہے جیسے نمازِ فجر ، اور اس ظنی پر بھی ہوتا ہے جو عمل میں فرض کی حیثیت رکھتا ہے جیسے نمازِ وتر یہاں تك کہ یاد آ جائے کہ وتر نہ پڑھے تھے تو اسے ادا کئے بغیر فجر پڑھنا درست نہیں جیسے عشاء نہ پڑھنا یاد آ جائے تو فجر نہیں ہو سکتی ۔ اور (واجب کا اطلاق) اس ظنی پر بھی ہوتا ہے جو عمل میں فرض سے فر و تر اور سنّت سے بالاتر ہے جیسے قرأت نماز میں سورہ فاتحہ کی تعیین کہ اسکے ترك سے نماز فاسد نہیں ہوتی مگر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ ا ھ
علاوہ ازیں امید ہے کہ میری تقریر میں اس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ (تقریر مذکور کے مطابق) مجتہد کے نزدیك فرض کا ثبوت ایسی ہی دلیل سے ہے جو اس کے نزدیك قطعی ہے اگرچہ دوسرے کے نزدیك وہ دلیل ایسی نہ ہو تو اسے سمجھئے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الفرض ما قطع بلزومہ حتی یکفر جاحدہ کاصل مسح الرأس وقد یطلق علی العملی وھو ماتفوت الصحۃ بفواتہ کالمقدار الاجتھادی فی الفروض فلا یکفر جاحدہ[1]۔
فرض وہ ہے جس کا لازم ہونا قطعی ہو یہاں تك کہ اس کا منکر کافر ہو جائے گا جیسے اصل مسحِ سر اور فرض کبھی عملی کو بھی کہا جاتا ہے اور یہ وہ ہے جس کے نہ ہونے سے صحت نہ ہو جیسے فرائض میں اجتہاد سے مقرر شدہ مقدار میں ، تو اس کا منکر کافر نہ ہوگا ۔ (ت)
ردالمختار میں ہے :
اقول : بیان ذلك ان الادلۃ السمعیۃ اربعۃ :
۱الاول قطعی الثبوت والدلالۃ کنصوص القراٰن المفسرۃ والمحکمۃ والسنۃ المتواترۃ التی مفھومھا قطعی۔
۲الثانی قطعی الثبوت ظنی الدلالۃ کالاٰیات المؤولۃ۔
۳الثالث عکسہ کاخبار الاٰحادالتی مفھومھا قطعی۔
۴الرابع ظنیھما کاخبار الاٰحادالتی مفھومھا ظنی۔
میں کہتا ہوں اس کا بیان یہ ہے کہ سمعی دلیلیں چار قسم کی ہیں ۔
(۱) وہ دلیل جو ثبوت اور دلالت دونوں میں قطعی ہو (ایك توخود وہ یقینی طور پر ثابت ہو ، دوسرے یہ کہ معنی مطلوب پر
اس کی دلالت اور اس سے مقصود کا اثبات بھی قطعی و یقینی ہو ) جیسے قرآنِ کریم کے مفسَّر محکم نصوص اور وہ حدیث متواتر جس کا معنی قطعی ہے۔
(۲) وہ دلیل جو ثبوت میں قطعی اور دلالت میں ظنی ہو ۔ جیسے وہ آیات جن کے معنی میں تاویل کی گئی ہے
(۳) اس کے بر عکس ( وُہ دلیل جو ثبوت میں ظنی اور دلالت میں قطعی ہو) جیسے وہ احادیثِ آحاد جن کا معنی قطعی ہے۔
(۴) وہ دلیل جو ثبوت و اثبات دونوں میں ظنی ہو ، جیسے وہ اخبار آحاد جن کا معنی ظنی ہے۔
فبالاول یثبت الفرض والحرام ، وبالثانی والثالث الواجب وکراھۃ التحریم وبالرابع السنت والمستحب۔ ثم ان المجتہد قد یقوی عندہ الدلیل الظنی حتی یصیر قریبا عندہ من القطعی فما ثبت بہ یسمیہ فرضا عملیا لانہ یعامل معاملۃ الفرض فی وجوب العمل ویسمی واجبا نظر ا الٰی ظنیۃ دلیلہ فھو اقوی نوعی الواجب واضعف نوعی الفرض بل قد یصل خبرالواحد عندہ الٰی حد القطعی ولذا قالوا انہ اذا کان متلقی بالقبول جاز اثبات الرکن بہ حتی تثبت رکنیۃ الوقوف بعرفات بقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الحج عرفۃ[2]۔
قسم اوّل سے فرض و حرام ، دوم و سوم سے واجب وکراہت تحریم اور چہارم سے سنّت و مستحب کا ثبوت ہوتا ہے ۔ پھر مجتہد کی نظر میں دلیل ظنی کبھی اتنی قوی ہو جاتی ہے کہ اس کے نزدیك وہ قطعی کے قریب پہنچ جاتی ہے تو ایسی دلیل سے جو حکم ثابت ہوتا ہے اسے وہ “ فرض عملی “ کہتا ہے۔ کیونکہ وجوبِ عمل کے بارے میں اس کے ساتھ فرض کا معاملہ ہوتا ہے ۔ اور اسے اس کی دلیل کی ظنیت کا لحاظ کرتے ہوئے واجب بھی کہا جاتا ہے ۔ تو یہ واجب کی دونوں قسموں(اعتقادی وعملی) میں سے اقوی اور فرض کی دونوں قسموں ( اعتقادی و عملی ) میں سے اضعف ہے۔ بلکہ مجتہد کے نزدیك کبھی خبرِ واحد بھی قطعی کی حد تك پہنچ جاتی ہے ۔ اسی لئے علماء نے فرمایا ہے کہ خبرِ واحد جب قبول مجتہدین سے سرفراز ہو تو اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع