30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مستقل مطلوب ہے تو بے اس کی براء ت ذمہ نہ ہونے پر اسے جزم ہو تو فرض عملی ہے ۔ اور اگر خود اس کی رائے میں بھی طلب جزمی جزمی نہیں تو واجب عملی ، کہ بغیر اس کے حکم صحت حاصل اور براء ت ذمہ محتمل ۔ وقد علم بذلك حد کل واحد منہا ( اس بیان سے ان میں سے ہر ایك کی تعریف معلوم ہوگئی ۔ ت )بحرالرائق میں ہے :
فی التحریر الفرض ما قطع بلزومہ اھ وعرفہ فی الکافی بما یفوت الجواز بفوتہ وھو یشمل کل فرض بخلاف الاوّل اذ یخرج عنہ المقدار فی مسح الرأس فانہ فرض مع انہ ثبت بظنی لکنہ تعریف بالحکم موجب للدور۔ والظاھر من کلامھم فی الاصول والفروع ان المفروض علی نوعین :
تحریر میں ہےفرض وہ ہے جس کا لازم ہونا قطعی ہو.ا ھ اور کافی میں اس کی یہ تعریف کی ہے کہ جس کے نہ ہونے سے عمل کا جواز نہ ہو . اور یہ تعریف ہر فرض کو شامل ہے بخلاف تعریفِ اوّل کے ، اس لئے کہ اس تعریف سے مسحِ سر کی مقدار خارج ہو جاتی ہے کیونکہ وہ فرض تو ہے مگر اس کا ثبوت دلیلِ قطعی سے نہیں بلکہ ظنی سے ہے . لیکن دوسری تعریف حکم کے ذریعہ تعریف ہے جو دَور کا باعث ہے اور اصول و فروع میں کلامِ عُلماء سے ظاہر یہ ہے کہ فرض کی دو قسمیں ہیں. (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لاالحل لفوتہ بفوت کل واجب ولو عملیا والشیئ قد یکون فرضا براسہ وفوات الصحۃ انما کان یشمل الاول فزدت الاٰخر وفسرتہ بما مر لاخراج الواجب العملی فافھم۔
حلّت نہیں کیونکہ حلت تو کسی بھی واجب کے فقدان سے مفقود ہو جاتی ہے خواہ واجب عملی ہی ہو ، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ عمل خود مستقلًا فرض ہو جاتا ہے اور یہ کہنا کہ جس کے نہ ہونے سے عمل کی صحت نہ ہو صرف اس فرض کو شامل ہے جو دوسرے عمل میں فرض ہو اس لئے میں نے “ برأت ذمہ “ کا اضافہ کیا (تا کہ فرض مستقل بھی تعریف میں داخل ہو جائے ) اور اس کی تفسیر “ عدم بقائے اشتغال “ سے کی تاکہ واجب عملی اس تعریف سے نکل جائے . تو اسے سمجھئے . (مزید توضیح آگے خود عبارتِ مصنّف میں موجود ہے.۱۲ مترجم۔ (ت)
(۱) قطعی و(۲) ظنّی ھوفی قوۃ القطعی فی العمل بحیث یفوت الجواز بفوتہ فالمقدر فی مسح الرأس من الثانی وعند الاطلاق ینصرف الی الاول لکمالہ والفارق بین الظنی القوی المثبت للفرض والظنی المثبت للواجب خصوص المقام ولیس اکفار جاحدالفرض لازمالہ وانما ھو حکم الفرض القطعی المعلوم من الدین بالضرورۃ۔ وذکر فی النھایۃ انہ یجوزان یکون الفرض فی مقدار المسح بمعنی الواجب لالتقائھما فی معنی اللزوم وتعقب بانہ مخالف لما اتفق علیہ الاصحاب اذ لاواجب فی الوضوء وقد یدفع بان الذی وقع الاتفاق علیہ ھوالواجب الذی لایفوت الجواز بفوتہ بل یحصل بترکہ النقصان والکلام ھنا فی الواجب الذی یفوت الجواز بفوتہ فلا مخالفۃ اھ مختصرا۔ [1]
(۱) قطعی (۲)ظنی ایسا ظنی جو عمل میں قطعی کی حیثیت رکھتا ہے اس طرح کہ اس کے نہ ہونے سے بھی جوازِ عمل نہیں ہوتا . تو مسحِ سر کی مقررہ مقدار قسمِ دوم کے تحت ہے . اور فرضِ مطلق بولا جائے تو قسمِ اوّل کی طرف راجع ہوتا ہے اس لئے کہ کامل وہی ہے . اور دلیلِ ظنی قوی جس سے فرض کا ثبوت ہوتا ہے اور دلیلِ ظنی جس سے واجب کا ثبوت ہوتا ہے دونوں میں فرق خصوصیتِ مقام سے ہوتا ہے . اور منکر کی تکفیر ہر فرض کا حکمِ لازم نہیں بلکہ یہ صرف فرض قطعی کا حکم ہے جس کا دین میں ہونا بالضرورۃ معلوم ہے.نہایہ میں مذکور ہے کہ ہو سکتا ہے مقدار مسح میں فرض بمعنی واجب ہو اس مناسبت سے کہ لزوم کا معنٰی دونوں ہی کو شامل ہے . اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ بات حنفیہ کے اس متفقہ قول کے بر خلاف ہے کہ “ وضو میں کوئی واجب نہیں “ اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ جس کے نہ ہونے پر اتفاق ہے وہ واجب ، وہ ہے جس کے فقدان سے صحت وجواز مفقود نہ ہو بلکہ جس کے ترك سے عمل میں نقص و کمی آ جائے اور یہاں اس واجب سے متعلق گفتگو ہے جس کے فقدان سے جواز مفقود ہو جائے . لہٰذاکلامِ نہایہ اتفاقِ حنفیہ کے خلاف نہیں اھ مختصرًا.
علامہ سید طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں عبارت مذکور لفظ خصوص المقام تك نقل کرکے فرمایا :
وفی النھر ما یفیدان دلیل الفرض العملی اقوی اھ [2]
۷اقول؛ ھذا فـــــ مستفاد من البحر ایضا لقولہ و الفارق بین الظنی القوی المثبت للواجب فوصف الاول بالقوی دون الاٰخر ولم یرد ان الدلیلین لایکون الاعلی حد سواء فی القوۃ ثم یظھرافادۃ الافتراض بخصوص المقام وای خصوص یفیدہ بعد مالم یظھر فی الدلیل قوۃ فوق مایفید الوجوب وانما اراد ان بخصوص المقام وحفوف القرائن وامور تظھر للمجتھد یتقوی الظنی قوۃ تکاد تبلغہ درجۃ القطعی فھذا الدلیل الا قوی یثبت الفرض العملی ھذا تقریر کلامہ۔ اور نہر سے مستفاد ہوتا ہے کہ فرض عملی کی دلیل (واجب کی بہ نسبت)زیادہ قوی ہوتی ہے اھ
اقول : ( میں کہتا ہوں) یہ بھی بحر ہی سے ہی سے مستفاد ہے ، اس لئے کہ اس میں لکھا ہے : “ فرض کو ثابت کرنے والی دلیل ظنی قوی اور واجب کو ثابت کرنے والی دلیل ظنی میں فرق خصوصیتِ مقام سے ہوتا ہے “ تو اوّل کو قوی سے موصوف کیا اور دوم کو نہ کیا . اور ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ قوت میں دونوں دلیلیں بالکل برابر ہوں گی پھر مقام کی خصوصیت سے فرضیت مستفاد ہو گی . جب دلیل میں افادہ وجوب کرنے والی دلیل سے زیادہ کوئی قوت ہی نہ ہو تو پھر کون سی خصوصیت رہ جاتی ہے جس سے فرضیت مستفاد ہو ان کی مراد یہی ہے کہ مقام کی خصوصیت ، قرائن کے ہجوم اور مجتہد پر منکشف ہونے والے امور سے دلیل ظنی کو ایسی قوت مل جاتی ہے کہ وہ تقریبًا قطعی کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے . اسی قوی تر دلیل سے فرض عملی کا ثبوت ہوتا ہے . یہ کلام بحر کی تقریر ہوئی.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع