دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

والنظریۃ تختلف باختلاف الناس فرب مسألۃ نظریۃ مبنیۃ علی نظریۃ اخری اذا تبین المبنی عند قوم حتی صاراصلا مقررا وعلما ظاھرا فالاخری التی لم تکن تحتاج فی ظھورھا الا الٰی ظھور الاولی تلتحق عندھم بالضروریات وانکانت نظریۃ فی نفسھا الاتری ان کل قوس لم تبلغ ربعا تاما من اربعۃ ارباع الدور وجود کل من القاطع والظل الاول لھا بدیھی عندالمھندس لایحتاج اصلا الی اعمال نظر وتحریك فکر بعد ملاحظۃ المصادرۃ المشھورۃ المسلمۃ المقررۃ وانکان ھو والمصادرۃ کلاھما نظرمابین فی انفسھا ھکذا حال ضروریات الدین۔                                                                                                                                                                                                                                           

معنی میں ہے اور یہ بات طے شدہ ہے کہ مختلف لوگوں کے اعتبار سے بداہت و نظریت بھی مختلف ہوتی ہے ۔ بہت سے نظری مسائل کی بنیاد کسی اور نظری مسئلہ پر ہوتی ہے ۔ اگر وہ بنیاد کسی طبقہ کے نزدیك روشن و واضح ہو کر ایك مقررہ قاعدہ اور واضح علم کی حیثیت اختیار کر لے تو دوسرا مسئلہ جس کے واضح ہونے کے لئے بس اسی پہلے مسئلہ کے واضح ہونے کی ضرورت تھی ، اس طبقہ کے نزدیك ضروریات کی صف میں آ جاتا ہے اگرچہ وُہ بذات خود نظری تھا . دیکھیے ہندسہ داں (جیومیٹری والے) کے نزدیك یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ ہر وُہ قوس جو دَور کے چار ربع میں سے ایك کامل ربع کے برابر نہ پہنچے اس کے لئے قاطع اور ظل اول ہونا ضروری ہے .۔ اس میں کسی نظر کے استعمال اور فکر کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں جب کہ مشہور مسلّم مقرر مصادرہ ملحوظ ہو اگرچہ یہ کلیہ اور وہ مصادرہ بذاتِ خود دونوں ہی نظری ہیں ۔ یہی حال ضروریاتِ دین کا ہے (کہ بعض لوگوں کے لئے بدیہی ، بعض کے لئے نظری اور بعض کے لئے نامعلوم۔ ۱۲ مترجم ) (ت)

جزمی میں اصلا شبہ نہیں عـــــہ ، بایں وجہ اس کی نظر میں اس شے کا وجود شرط صحت و براء ت ذمہ

عـــــہ :  وانکان عارفا بخلاف ما فان سطوع فـــــ انوار الحجج الالھیۃ ربما یبلغ عندہ مبلغا یقول اذا جاء نھر الله بطل نھر معقل وعن ھذا ربما اول القطعیات الاٰتیۃ علی خلاف ما عن لہ کما وقع لسیدنا ابی ذر رضی الله تعالٰی عنہ فی مسئلۃ الکنز وقولہ فی سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله تعالٰی عنہ ما قال مع القطعیات الواردۃ فی حق بدریین عموما والعشرۃ خصوصا رضی الله تعالٰی عنھم احسن الرضا وعن ھذا تری ائمتنا وغیرھم قائلین فی کثیر من الاجتھادیات المختلف فیھا بین الائمۃ ان ھذا مما لایسوغ الاجتھاد فیہ حتی ینقض القضاء بہ کحل                                                                                                                                                                                                                                               

اگرچہ وہ جانتا ہو کہ اس میں کوئی خلاف بھی ہے اس لئے کہ خدا کی حجتوں کے انوار کی تابندگی بعض اوقات اس کی نظر میں اس حد کو پہنچ جاتی ہے کہ وہ کہتا ہے “ جب خدا کی نہر آ گئی تو معقل کی نہر بیکار ہو گئی “ یہی سبب ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ ان قطعیات کی بھی تاویل کرتا ہے جو اس پر ظاہر شدہ مسئلہ کے خلاف آئے ہیں جیسے سیدنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مسئلہ کنز میں ہوا ( جمہور صحابہ کرام کے نزدیك کنز وہ ما ل ہے جس میں فرض زکوۃ کی ادائیگی نہ ہوتی ہو ، اور حضرت ابو ذر کا قول یہ ہے کہ حاجت سے زیادہ جو بھی مال ہے وہ کنز ہے اسے رکھنے پر عذاب ہو گا ، اس قول کے خلاف جو قطعیات وارد ہیں وُہ ان کی تاویل کرتے ہیں۔ ۱۲ مترجم) اور ( مالدار صحابی) سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں انہوں نے بہت کچھ کہہ ڈالا باوجودیکہ اصحابِ بدر کے بارے میں عمومًا اور عشرہ مبشرہ کے بارے میں خصوصًا بہت سی قطعی احادیث وارد ہیں ، انہیں خدا برتر کی بہترین رضا و خوشنودی حاصل ہو ۔ اور اسی وجہ سے آپ ہمارے ائمہ اور دوسرے حضرات کو دیکھیں گے (باقی برصفحہ آئندہ)

 

فـــــ : جلیلہ : ربما یحصل للمجتھد القطع بما یری مع علم الخلاف ۔

بمعنی عدم بقائے اشتغال قطعی ہے عـــــہ ، یعنی اگر وہ کسی عمل میں فرض ہو تو بے اس کے وہ عمل باطل محض ہو۔ اور    (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

متروك التسمیۃ عمدا وغیر ذلك فھومع علم الخلاف جازم بالحکم ومع جزمہ بہ منکر للا کفار بالخلاف والانکار وھذا الذی اشرت الیہ علم عزیز علیك ان تحتفظ بہ فانہ یحل باذن الله تعالٰی عقد حار فی حلھا حائرون وبار بجھلہا بائرون وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۲۱۳) [1]۔

 عـــــہ :  اقول :   وزدت ھذا لان قولھم فـــــ مایفوت بفوتہ الجواز المراد فیہ بالجواز الصحۃ                                   

کہ وہ ائمہ کے درمیان بہت سے اختلافی اجتہادی مسائل میں کہتے ہیں کہ یہ ان احکام میں سے ہیں جن میں اجتہاد کی گنجائش نہیں یہاں تك کہ ان کے متعلق قضا باطل ہے جیسے اس مذبوح جانور کی حلت جسے ذبح کرتے وقت بسم الله پڑھنا قصدًا ترك کر دیا گیا ہو ۔ اور ایسے ہی دیگر مسائل تو مجتہد اختلاف کے باوجود حکم پر جزم رکھتا ہے اور جزم کے باوجود اس کے مخالف اور منکر کی تکفیر سے انکار کرتا ہے . یہ جس کی طرف میں نے اشارہ کیا بہت نادر اور وقیع علم ہے جسے محفوظ رکھنا ضروری ہے ۔ اس سے باذنِ الٰہی ایسے بہت عقدے حل ہو جاتے ہیں جن میں کچھ لوگ حیرت زدہ ہیں اور جن سے نا آشنائی کے باعث کچھ لو گ ہلاکت میں پڑے ۔ اور خدا جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔ (ت)

اقول : ( میں کہتا ہوں) یہ اضافہ میں نے اس لئے کیا کہ علماء کے قول “ فرض وہ ہے جس کے نہ ہونے سے جواز نہ ہو “ میں جواز سے مراد صحت ہے

 (باقی برصفحہ آئندہ)

 

فــــ :  تطفل۱ علی الکافی وغیرہ کثیر من المعتبرات ۔

 



[1]   القرآن الکریم  ۲ / ۲۱۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن