دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

اقول : (میں کہتا ہوں) اذعان درج ذیل چیزوں کو شامل ہے (۱)ظنِ غالب اور راجح رائے جو فقہی مسائل کے اندر یقین میں شامل ہے (۲) یقین بمعنی اعم (۳) یقین بمعنی اخص۔  یہ دونوں باب عقائد میں معتبر ہوتے ہیں (ت)

جب ہمیں کسی بات کا اذعان حاصل ہو تو اگر۱(۱) اس کے خلاف کا بالکل احتمال نہ ہو جیسے الله تعالی کی وحدانیت اور محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی

 (باقی برصفحہ آئندہ)

 

فـــــ۱ : فرض اعتقادی وفرض عملی وواجب اعتقادی وواجب عملی کی تعریفیں جلیل تحقیقیں ۔

فـــــ۲ : معنی الاذعان ۔

( اور اس تقدیر پر مسئلہ نہ ہوگا مگر مجمع علیہ ائمہ دین عـــــہ۱ تو وہ فرض اعتقادی عـــــہ۲ ہے جس کا                                     (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

علیہ وسلم فیقین بالمعنی الاخص وان احتمل احتمالا ناشئا لا عن دلیل کامکان ان یکون الذی نراہ زیدا جنّیا تشکل بشکلہ فبا لمعنی الاعم ومثل ھذا الاحتمال لانظر الیہ اصلا ولا ینزل العلم عن درجۃ الیقین اما الناشیئ عن دلیل فیجعلہ ظنا والکل داخل فی الاذعان ١٢منہ۔

عـــــہ۱ :  لان مافیہ خلاف ولو مرجوحا لا یصل الٰی درجۃ ھذا الیقین۔

عـــــہ۲ :  ۲اقول :  والاعتقاد فـــــ وان ساوی الاذعان فی اصل وضعہ فالمراد بہ ھھنا ھو العلم بالمعنی الاخص المختص بالیقین الاعم والاخص ومنہ قولھم حدیث الاٰحادلا یفید الاعتماد فی باب الاعتقاد۔                                   

حقانیت. تو یہ یقین بمعنی اخص ہے ۔ اور اگر (۲)احتمال ہو مگر ایسا احتمال جو بغیر کسی دلیل کے پیدا ہوا ہو تو یہ یقین بمعنی اعم ہے ۔ جیسے وہ جسے ہم زید یقین کر رہے ہیں اس کے بارے میں یہ احتمال ہو سکتا ہے یہ کوئی جن ہو جس نے زید کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ ایسا احتمال ذرا بھی قابل لحاظ نہیں ہوتا ۔ نہ ہی یہ علم کو درجہ یقین سے نیچے لا سکتا ، مگر جو احتمال کسی دلیل سے پیدا ہوا ہو ، وہ یقین کو ظن بنا دیتا ہے ۔ اور یہ تینوں ہی اذعان کے تحت داخل ہیں (ت)

اس لئے کہ جس میں ائمہ دین کا اختلاف ہے ، اگرچہ خلافِ مرجوح ہی ہو ۔ وہ اس یقین کے درجہ تك نہیں پہنچ سکتا.(ت)

اقول : ( میں کہتا ہوں) لفظ اعتقاد اصل وضع کے اعتبار سے اگرچہ اذعان کا مساوی ہے مگر یہاں اس سے مراد علم بمعنی اخص ہے جو یقین بمعنی اعم و یقین بمعنی اخص ہے ۔ اس اصطلاح کے تحت علماء کا یہ ارشاد آتا ہے کہ باب “ اعتقاد “ میں خبر آحاد مفید اعتماد نہیں. (ت)

 

فـــــ :  معنی الاعتقاد ۔

منکر عند الفقہاء مطلقًا کافر عـــــہ۱ ، اور متکلمین کے نزدیك ( منکر اس وقت کافر ہے ) جنکہ مسئلہ ضروریات دین سے ہو اور یہی عند المحقیقن احوط و اسدّ (زیادہ احتیاط والا اور زیادہ درست ۔ ت)۔ اور ہمارے اساتذہ کرام کا معول و معتمد ( وثوق اور اعتماد والا ۔ ت) ہے عـــــہ۲ ورنہ ( یعنی اگر اس مسئلہ پر تمام ائمہ کا اتفاق نہیں

عـــــہ۱ : ۳ اقولای عند عامۃ مصنفیہم من اصحاب الفتاوی وغیرھم من المتاخرین اما ائمتنا الاقدمون فعلی ما علیہ المتکلمون کما حققہ خاتم المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد  فی بعض فتاواہ۔

عـــــہ۲ :  وفسرت فـــــ الضروریات بما یشترك فی علمہ الخواص والعوام ۴اقول :  المراد العوام الذین لھم شغل بالدین واختلاف بعلمائہ والا فکثیر من جہلۃ الاعراب لاسیما فی الھند والشرق لایعرفون کثیرا من الضروریات لابمعنی انھم لہا منکرون بل ھم عنھا غافلون فشتان ماعدم المعرفۃ ومعرفۃ العدم وانکان جہلا مرکبا فلا تجھل والتحقیق عندی ان الضرورۃ ھھنا بمعنی البداھۃ وقد تقرر ان البداھۃ                                    

اقول : ( میں کہتا ہوں)یعنی فقہائے متاخّرین میں سے اکثر مصنفین ، اصحابِ فتاوٰی و غیرہم کے نزدیك (وہ مطلقًا کافر ہے )اور ہمارے  ائمہ متقدمین کا مسلك وہی ہے جس پر متکلمین ہیں جیسا کہ خاتم المحققین ہمارے والد ماجد قدس سرہ نے اپنے بعض فتاوٰی میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)

ضروریاتِ دین کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ وہ دینی مسائل جن کو عوام و خواص سب جانتے ہوں اقول عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو دینی مسائل سے ذوق و شغل رکھتے ہوں اور علماء کی صحبت سے فیضیاب ہوں...ورنہ بہت سے اعرابی جاہل ... خصوصًا ہندوستان اور مشرق میں ...ایسے ہیں جو بہت سے ضروریاتِ دین سے آشنا نہیں .. اس معنی میں نہیں کہ ضروریاتِ دین کے منکر ہیں بلکہ وہ ان سے غافل ہیں ۔ بڑا فرق ہے عدمِ علم او ر علمِ عدم میں ۔ خواہ یہ جہلِ مرکب ہی ہو . تو اس فرق سے بے خبری نہ رہے ، اور میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ ضرورت یہاں بداہت کے    (باقی برصفحہ آئندہ)

فـــــ  : معنی ضروریات الدین ۔

ہے تو واجب اعتقادی ہے ، پھر اگر مجتہد کو بنظر دلائل شرعیہ جو اس پر ظاہر ہوئے اس طلب   (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن