30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرات کی بیان کر دہ دلیلوں میں نظرکرنے سے واضح ہوجائے ، یا قول امام سے عدول کرنے والے حضرات نے اسی محلیت پر بنائے کار رکھی ہو اور وہی تعداد میں زیادہ بھی ہوں تو ہم ان کی پیروی کریں گے اور انہیں متہم نہ کریں گے۔ ۔ ۔ لیکن جب انہوں نے بنائے کا ر محلیت پر نہ رکھی ہو ، بس دلیل کے گرد ان کی گردش ہو تو قول امام پر ہی اعتماد ہے۔ ۔ ۔ یہ وہ طریق عمل ہے جو مجھ پر منکشف ہوا اور امید رکھتا ہوں کہ ان شاء الله تعالی درست ہوگا ، والله تعالی اعلم
تنبیہ : اقول : یہ سب اس وقت ہے جب وہ واقعی امام کے خلاف گئے ہوں لیکن جب وہ کسی اجمال کی تفصیل یا کسی اشکال کی تو ضیح ، یا کسی اطلاق کی تقیید کریں جیسے متون میں شارحین کا عمل ہوتا ہے ۔ اور وہ ان سب میں قول امام ہی پر گام زن ہوں تو وہ امام کی مراد ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔ اب اگر وہ باہم متفق ہوں تو قطعا اسی پر عمل ہوگا ورنہ تر جیح کے قواعد معلومہ کے تحت ترجیح دی جائے گی ۔ ہم نے یہ قید لگائی کہ “ وہ ان سب میں قول امام ہی پر گام زن ہوں “ اس کی و جہ یہ ہے کہ یہاں ۲دو صورتیں ہوتی ہیں ، مثلاامام کسی مسئلے میں اطلاق کے قائل ہیں اور صاحبین تقیید کے قائل ہیں ، اب مرجحین اگر اختلاف کا
واختاروا قولھما فھذہ مخالفۃ وان نفوا الخلاف وذکروا ان مراد الامام ایضا التقیید فھذا شرح والله تعالٰی اعلم ولیکن ھذا اٰخر الکلام ، وافضل الصلاۃ والسلام ، علی اکرم الکرام ، واٰلہ و صحبہ وابنہ وحزبہ الی یوم القیام ، والحمد لله ذی الجلال والاکرام۔
اثبات کریں اور صاحبین کا قول اختیارکریں تو یہ مخالفت ہے اور اگر اختلاف کا انکار کریں اور یہ بتائیں کہ امام کی مراد بھی تقیید ہی ہے تو یہ شرح ہے والله تعالی اعلم ۔ یہی خاتمہ کلام ہونا چاہئے اور بہتر درودو سلام کریموں میں سب سے کریم تر سرکار پر اور ان کی آل ، اصحاب ، فرزند اور جماعت پر تاروز قیام۔ اور ہر ستائش بزرگی واکرام والے خدا کے لئے ہے ۔ (ت)
_________________
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
رسالہ
اَلْجُوْدُ الْحُلُوُّفِیْ اَرْکانِ الْوُضُوْءِ ۱۳۲۴ھ
(باران شیریں ، ارکان وضو کے بیان میں )
مسئلہ۱ : مسئولہ مولوی محمد ظفرالدین صاحب بہاری قادری ۱۰ شوال المکرم ۱۳۲۴ ھ
بحر العلوم النقلیۃ حبر الفنون العقلیۃ مجدد المائۃ الحاضرۃ متع الله المسلمین بطول بقائکم۔ وضو میں کتنے فرائض اعتقادی اور کتنے فرض عملی اور کَے واجب اعتقادی اور کَے واجب عملی ہیں؟ اور ہر ایك کی تعریف کیا ہے؟ مدلل ارشاد ہو۔ جزاکم الله تعالٰی من افضل ماجازی علماء امۃ حبیبہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔ (الله تعالٰی آپ کو وہ افضل ترین جزا عطا فرمائے جو اس نے اپنے حبیب کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی امت کے علماء کو عطا فرمائی ۔ ت )
الجواب :
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اللھم لك الحمد فرضا لازماصل علی افضل ارکان الایمان وسلّم دائمًا ، ایھا السائل الفاضل رزقك الله علما نافعا ھذا سوال لا یھتدی الیہ الا من وفقہ الله وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۱۰۵)[1]۔
اے اللہ! تیرے لیے فرض لازم کے طور پر حمد ہے ، ایمان کے سب سے افضل رکن پر ہمیشہ درود وسلام نازل فرما ، سائل فاضل ! خدا تمہیں علم نافع بخشے . یہ ایسا سوال ہے کہ جس کی ہدایت اسی کو نصیب ہوتی ہے جسے خدا اپنی توفیق سے نوازے اور الله اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے خاص فرماتا ہے اور الله بڑے فضل والا ہے . (ت)
مجتہد فـــ ۱ جس شے کی طلب جزمی حتمی اذعان عـــــہ۱کرے ، اگر وہ اذعان عـــــہ۲بدرجہ یقین معتبر فی اصول الدین ہو
عـــــہ۱ : ۱اقول : والاذعان فـــــ۲ یعم الظن الغالب واکبر الرأی الملتحق فی الفقہیات بالیقین والیقین بالمعنی الاعم والمعنی الاخص المعتبرین فی العقائد۔ م
عـــــہ۲ : اذا اذعنّا بشیئ فان لم یحتمل خلافہ اصلا کوحدانیۃ الله تعالی وحقانیۃ محمد صلی الله تعالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع