30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسی بات نہیں کہہ سکتا تو یہ علامہ بحر اس کے قائل کیسے ہوں گے ؟ اور ہر گز کبھی غیر امام کے قول کی ترجیح پر ائمہ ترجیح کا اجماع نظر نہ آئے گا مگر ایسی صورت میں جہاں اختلاف زمانہ کی وجہ سے مصلحت تبدیل ہوگئی ہو۔ ، اور ایسی صورت میں ہمارے لئے مشائخ کے خلاف جانا روا نہیں (کیوں کہ یہ بعینہ امام کے مخالف ہوگی جیسا کہ معلوم ہوا ) لیکن جب تر جیح مختلف ہو تو قول امام کا اس وجہ سے رجحان کہ وہ قول امام ہے زیادہ راجح ہوگا اور اس کے مقابلہ میں دوسرے کے قول کا ، لفظ افتاء کی ارجحیت (یا اس کی ترجیح کی طر ف مائل ہونے والوں کی اکثریت ) کے باعث رحجان اس سے
العلامۃ صاحب البحر وبہ یسقط ایراد العلامتین الرملی والشامی اھ ماکتبت مع زیادات منی الاٰن مابین الاھلۃ۔
فبــھــذا تلتئم الکلمات ، وتأتلف الاشتات ، والحمد لله رب البریات ، وافضل الصلوات ، واکمل التسلیمات ، علی الامام الاعظم لجمیع الکائنات ، واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اولی الخیرات ، والسعود والبرکات ، عدد کل مامضی وما ھو اٰت ، آمین والحمد لله رب العٰلمین والله سبحنہ وتعالٰی اعلم ۔
ورأیت الناس یتحفون کتبھم الی ملوك الدنیا وانا العبد الحقیر ، خدمت بھذہ السطور ، ملکا فی الدین ، امام ائمۃ المجتہدین ، رضی الله تعالی عنہ وعنھم اجمعین ، فان وقعت موقع القبول ، فذاك نھایۃ المسئول ، ومنتھی المأمول ، وما ذلك علی الله بعزیز ان ذلك علی الله یسیر ، ان الله علی کل شیئ قدیر ،
فر وتر ہوگا ۔ یہی علامہ صاحب بحر کی مراد ہے اور اسی سے علامہ رملی وعلامہ شامی کا اعتراض ساقط ہوجاتا ہے ۔ اھ حواشی رد المحتار سے متعلق میری عبارت ختم ہوئی ، اور ہلالین کے درمیان کی عبارتیں اس وقت میں نے بڑھائی ہیں ۔
تو اس تو ضیح وتاویل سے تمام کلمات ایك دوسرے سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اور مختلف باتیں باہم متفق ہوجاتی ہیں ۔ اور تمام تر ستائش خدا کے لئے جو مخلوقات کا رب ہے ۔ او ربہتر درود ، کامل ترین تسلیمات ساری کائنات کے امام اعظم اور خیرات ، سعادات ، برکات والے ان کے آل ، اصحاب ، فرزند ا ور جماعت پر ، ہر گزشتہ وآئندہ کی تعداد میں ۔ الہی ! قبول فرما ۔ اور تمام تعریف خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پر وردگار ہے اور پاکی وبر تری والے خدا کو ہی خوب علم ہے ۔
میں نے دیکھا کہ لوگ شاہان دنیا کے دربار میں اپنی کتابوں کا تحفہ پیش کرتے ہیں اور بندہ حقیر نے تو ان سطور سے دین کے ایك بادشاہ ، ائمہ مجتہدین کے امام کی خدمت گزاری کی ہے ۔ الله تعالی ان سے اور ان سب مجتہدین سے راضی ہو ، تو یہ اگر مقام قبول پاجائیں تو یہی انتہائے مطلوب او رمنتہائے امید ہے اورالله پر یہ کچھ دشوار نہیں ، بلاشبہ یہ خدا پر آسان ہے ۔ یقینا الله ہر شے پر قادر ہے ۔
ولله الحمد والیہ المصیر ، وصلی الله تعالی علی المولی الاکرم ، واٰلہ وصحبہ و بارك وسلّم ، اٰمین۔
تنبـیہ فـــــ اقول : کون المحل محل احدی الحوامل انکان بینا لایلتبس فالعمل علیہ وما عداہ لانظر الیہ وھذا طریق لمی وانکان الامر مشتبہا رجعنا الی ائمۃ الترجیح فان رأیناھم مجمعین علی خلاف قول الامام علمنا ان المحل محلھا وھذا طریق انی وان وجدناھم مختلفین فی الترجیح اولم یرجحوا شیئا عملنا بقول الامام وترکنا ماسنواہ من قول وترجیح لان اختلافھم اما لان المحل لیس محلھا فاذن لاعدول عن قول الامام اولانھم اختلفوا فی المحلیۃ فلا یثبت القول الضروری بالشك فلا یترك قولہ الصوری الثابت بیقین الا اذا تبینت لنا المحلیۃ بالنظر فیما ذکروا من الادلۃ او
اور الله ہی کے لئے حمد ہے اور اسی کی جانب رجوع ہے۔ اور الله تعالی درود وسلام نازل فرمائے آقائے اکرم اور ان کی آل اصحاب پر اور برکت و سلامتی بخشے ۔ الہی! قبول فرما۔
تنبیہ : اقول : چھ۶ اسباب میں سے کسی ایك کا محل ہونا اگر واضح غیرمشتبہ ہو تو اسی پر عمل ہوگا اور ماسوا پر نظر نہ ہوگی یہ لمی طریقہ ہے اور اگرمعاملہ مشتبہ ہو تو ہم ائمہ ترجیح کی جانب رجوع کریں گے ۔ اگر قول امام کے بر خلاف انہیں اجماع کئے دیکھیں تو یقین کرلیں گے کہ یہ بھی اسباب ستہ میں سے کسی ایك کاموقع ہے یہ ِانیِّ طریقہ ہے ۔ ۔ ۔ اور اگر انہیں ترجیح کے بارے میں مختلف پائیں یا یہ دیکھیں کہ انہوں نے کسی کو ترجیح نہ دی تو ہم قول امام پر عمل کریں گے اور اس کے ماسوا قول وترجیح کو ترك کر دیں گے کیوں کہ ان کااختلاف یا تو اس لئے ہوگا کہ وہ اسباب ستہ کا موقع نہیں ۔ جب تو قول امام سے عدول ہی نہیں یا اس لئے ہوگا کہ اسباب ستہ کا محل ہونے میں وہ باہم مختلف ہوگئے ۔ تو قول ضروری شك سے ثابت نہ ہوپائے گا ۔ اس لئے امام کا قول صوری جو یقین سے ثابت ہے ترك نہ کیا جائے گا لیکن جب ہم پر اسباب ستہ کا محل ہونا ان
فـــ : تنبہان جلیلان یتبین بھما ما یعمل بہ المقلد فی امثال المقام۔
بنی العادلون عن قولہ الامر علیھا وکانوا ھم الاکثرین و فنتبعھم ولا نتھمھم اما اذا لم یبنوا الامر علیھا وانما حاموا حول الدلیل فقول الامام علیہ التعویل ھذا ما ظھرلی وار جوا ن یکون صوابا ان شاء الله تعالٰی والله اعلم۔
تـنبـیہ : اقول : ھذا کلہ اذا خالفوا الامام اما اذا فصلو ا اجمالا ، او ضحوا اشکالا ، او قیدو ارسالا کداب الشراح مع المتون ، وھم فی ذلك علی قولہ ماشون ، فھم اعلم منا بمراد الامام فان اتفقوا والا فالترجیح بقواعدہ المعلومۃ۔
وانما قیدنا بانھم فی ذلك علی قولہ ماشون لانہ تقع ھنا صورتان مثلا قال الامام فی مسألۃ باطلاق وصاحباہ بالتقیید فان اثبتوا الخلاف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع