دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

 

فــــ ۱  :  تاخیر الھدایۃ دلیل قول دلیل اعتماد ہ

فـــ ۲ :  قول الامام مذکور فی المتون مقدم علی ما صححہ قاضی خان باکدالفاظ الفتوی۔
فــــ
۳ :  لا یعدل عن تصحیحہ قاضی خان فانہ فقیہ النفس ۔

الترجیح بکون القول قول الامام لایوازیہ شیئ واذا اختلف الترجیح وکان احدھما قول الامام فعلیہ التعویل وکذا اذالم یکن ترجیح فکیف اذا اتفقوا علی ترجیحہ فلم یبق الامااتفقوا فیہ علی ترجیح غیرہ ۔

فــاذا حمل کلامہ علی ماوصفنا فلاشك فی صحتہ اذن بالنظر الی حاصل الحکم فانا نوافقہ علی انانا خذ ح بما اتفقوا علی ترجیحہ انما یبقی الخلاف بیننا فی الطریق فھو اختارہ بناء علی اتباع المرجحین ونحن نقول لایکون ھذا الا فی محل احدی الحوامل فیکون ھذا ھو قول الامام الضروری وان خالف قولہ الصوری بل عندنا ایضا مساغ ھھنا لتقلید المشائخ فی بعض الصور علی مایأتی بیانھا۔  

ثــم لاشك انہ لایتقید ح بکونہ قول احد الصاحبین بل ندور مع الحوامل حیث دارت وان

ہوگیا کہ کسی قول کے قول امام ہونے کے باعث ترجیح پانے کے مقابل کوئی چیز نہیں اور جب اختلاف ترجیح کی صورت میں دوقولوں میں سے ایك قول امام ہو تو اسی پر اعتماد ہے اسی طر ح اس وقت بھی جب کوئی ترجیح ہی موجود نہ ہو ، پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب سب اسی کی ترجیح پر متفق ہوں تو اب کوئی صورت باقی نہ رہی سوا اس کے جس میں دو سرے کی ترجیح پر سب متفق ہوں ۔

تو اگر علامہ شامی کا کلام اس پر محمول کرلیا جائے جو ہم نے بیان کیا تو اس صورت میں وہ بلا شبہ حاصل حکم کے لحاظ سے صحیح ہوگا کیونکہ ہم بھی اس پر ان کی موافقت کرتے ہیں کہ ایسی صورت میں ہم اسی کو لیں گے جس کی ترجیح پر مشائخ کا اتفاق ہے البتہ ہمارے اور ان کے درمیان طریقے حکم کا فر ق رہ جاتا ہے ، انہوں نے اس حکم کو اتباع مرجحین کی بنیاد پر اختیار کیا ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ایسا اسباب ستہ میں سے کسی ایك کے پائے جانے ہی کے موقع پر ہوگا تو یہی امام کاقول ضروری ہوگا اگرچہ وہ ان کے قول صوری کے بر خلاف ہو بلکہ ہمارے نزدیك یہاں بعض صورتوں میں تقلید مشائخ کی بھی گنجائش ہے جیسا کہ ان کا بیان آرہا ہے ۔

پھر بلا شبہ ایسے وقت میں اس کی بھی پابندی نہیں کہ وہ دو سرا قول ، صاحبین ہی میں سے کسی کا ہو بلکہ مدار حوادث پر ہوگا وہ جہاں

کان قول زفر مثلا علی خلاف الائمۃ الثلثۃ کما ذکر وما ذکر من سبرھم الدلیل وسائر کلامہ نشأمن الطریق الذی سلکہ وح یبقی الخلاف بینہ وبین البحر لفظیا فان البحر ایضا لا یابی عند ئذ العدول عن قول الامام الصوری الی قولہ الضروری کیف وقد فعل مثلہ نفسہ والوفاق اولی من الشقاق۔  

ولـعـل مـراد ابن الشلبی ان یصرح احد من المشائخ الفتوی علی قول غیر الامام مع عدم مخالفۃ الباقین لہ صراحۃ ولا دلالۃ کا قتصارھم علی قول الامام او تقدیمہ او تأخیر دلیلہ اوالجواب عن دلائل غیرہ الی غیر ذلك مما یعلم انھم یرجحون قول الامام کما اشار ابن الشلبی الی التصحیح دلالۃ وح لابد ان یظھر منھم مخایل وفاقھم لذلك المفتی فیدخل فی صورۃ الثنیا            

دائر ہوں اگر چہ تینوں ائمہ کے بر خلاف مثلا امام زفر ہی کا قول ہوجیسا کہ پہلے ذکر ہوا ۔ اور وہ جو علامہ شامی نے ذکر کیا کہ مشائخ نے دلیل کی جانچ کر رکھی ہے اور باقی کلام ، یہ سب اس طر یق سے پیدا شدہ ہے جسے انہوں نے اپنایا ۔ اور اب ان کے اور بحر کے درمیان صرف لفظی اختلاف رہ جائے گا ۔ کیونکہ بحر بھی ایسی صورت میں امام کے قول صوری سے ان کے قول ضروری کی جانب عدول کے منکر نہیں ۔ منکر کیسے ہوں گے ایسا تو انہو ں نے خود کیا ہے ۔ اور اتفاق ، اختلاف سے بہتر ہے ۔

اور شاید ابن الشلبی کی مرادیہ ہے کہ مشائخ میں سے ایك نے غیر امام کے قول پر فتوی ہونے کی تصریح کی ہو اور دیگر حضرات نے صراحۃ اس کی مخالفت نہ کی ہواور نہ ہی دلالۃ مثلا یوں کہ قول امام پر اقتصار کریں ، یا اسے پہلے بیان کریں ، یا اس کی دلیل آخر میں لائیں ، یا دوسرے حضرات کی دلیلوں کا جواب دیں ، اسی طر ح کی اور باتیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قول امام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جیسا کہ ابن الشلبی نے دلالۃ تصحیح کی جانب اشارہ کیا ہے ۔ او رایسی صورت میں دیگر حضرات سے اس مفتی کے ساتھ موافقت کے آثار و علامات نمودار ہونا ضروری ہے کلام ابن شلبی کی یہ مراد لی جائے تو یہ بھی استثنا ء والی صورت میں داخل ہوجائے گا ۔

ھذا فی جانب الشامی واما جانب البحر فرأیتنی کتبت فیما علقت علی ردالمحتار فی کتاب القضاء مانصہ

اقــول :   محل کلام البحر حیث وجدالترجیح من ائمتہ فی جانب الامام ایضا کمافی مسألتی العصر والعشاء وان وجد اٰکد الفاظہ وھو الفتویٰ من المشائخ فی جانب الصاحبین ولیس یرید ان المشائخ وان اجمعوا علی ترجیح قولھما لایعبؤ بہ ویجب علینا الافتاء بقول الامام فان ھذا لایقول بہ احد ممن لہ مساس بالفقہ فکیف بھذا العلامۃ البحر ولن تری ابدا اجماع الائمۃ علی ترجیح قول غیرہ الا لتبدل مصلحۃ باختلاف الزمان وح لایجوز لنا مخالفۃ المشائخ (لانھا اذن مخالفۃ الامام عینا کما علمت) واما اذا اختلف الترجیح فرجحان قول الامام لانہ قول الامام ارجح من رجحان قول غیرہ لارجحیۃ لفظ الافتاء بہ (اواکثریۃ المائلین الی ترجیحہ) فھذا ما یریدہ                      

یہ گفتگو رہی شامی کے دفاع میں ، اب رہا بحر کا معاملہ تو رد المحتار پر جو میں نے تعلیقات لکھی ہیں ان ہی میں کتاب القضاکے تحت میں نے دیکھا کہ یہ عبارت رقم کر چکا ہوں ۔

اقول :  کلام بحر کامحل وہ صورت ہے جس میں ائمہ ترجیح سے جانب امام بھی ترجیح پائی جاتی ہو جیسے عصر وعشاء کے مسئلوں میں ہے اگر چہ موکد ترین لفظ ترجیح مشائخ کا فتوی صاحبین کی جانب ہو بحر کی مراد یہ نہیں کہ مشائخ قول صاحبین کی ترجیح پر اجماع کر لیں تو بھی اس کا اعتبار نہیں اور ہم پر قول امام ہی پر فتوی دینا واجب ہے ۔ کیوں کہ کوئی بھی شخص جسے فقہ سے کچھ مس ہے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن