30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وکیف یکون سھلا فــــ ۲وھما عندکم علی طرفی نقیض فان الصحیح کان یفید ان خلافہ فاسد وافاد الاصح عندکم انہ صحیح فقد جعل الفاسد صحیحا۔
وثانیا : قدقلتم فــــ۳علینا اتباع مارجحوہ ولیس بیان قوۃ للشیئ فی نفسہ ترجیحا لہ اذ لابد للترجیح من مرجح
سلام پھیرنا بھول گیا یہ لکھا ہے جب تك قبلہ سے پیٹھ نہ پھیری ہو اس کی بجا آوری کرلے اصح مذہب میں ،
اسی مسئلے کے تحت قنیہ میں لکھا تھا کہ یہی صحیح ہے ، تو اس پر علامہ شامی نے لکھا کہ شارح نے صحیح کی جگہ اصح سے تعبیر کی ، اورمعاملہ اس میں سہل ہے اھ۔
سہل کیسے ہوگا جب دو نوں آپ کے نزدیك ایك دوسرے کی بالکل نقیض اورضد ہیں ۔ کیوں کہ صحیح کا مفاد یہ تھا کہ اس کا تقابل فاسد ہے ۔ اور اصح کا مفاد آپ کے نزدیك یہ ہو ا کہ اس کا مقابل صحیح ہے تو آپ کے طور پر تو شارح نے فاسد کو صحیح بنادیا ؟
ثانیا : آپ نے فرمایا جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی ہم پر اسی کی پیروی لازم ہے ، اور شے کی ذات میں پائی جانے والی کسی قوت کا بیان ، ترجیح نہیں ، کیونکہ ترجیح کے لئے مرجح اور
فــــ۱ : الصحیح والاصح متقاربان والخطب فیہ سھل ۔
فــــ ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۳ : معروضۃ علی العلامۃ ش
ومرجح علیہ فالمعنی قطعا ما فضلوہ علی غیرہ فلا شك انھم اذا قالو الاحد قولین انہ الاصح وسکتوا عن الاٰخر فقد فضلوہ و رجحوہ علی الاٰخر فوجب اتباعہ عندکم وسقط التخییر۔
فـالــوجہ عندی حمل کلام الرسالۃ علی مااذا ذیلت احدھما بافعل والاخری بغیرہ فیکون ثالث مافی المسألۃ عن الخیریۃ والغنیۃ من اختیار الاصح اوالصحیح وھو التخییر وھذا اولی من حملہ علی ما یقبل۔
لاسیما والرسالۃ مجھول لاتدری ھی ولامؤلفہا والنقل فــــــ عن المجھول لایعتمد وان کان عــــہ الناقل مرجح علیہ
( جس کو راجح کہا گیا اور جس پر راجح کہا گیا) دونوں ضروری ہیں ، تو قطعا یہ معنی ہوگا کہ جسے ان حضرات نے دوسرے سے افضل قراردیا اس کی پیروی ضروری ہے ، اب یہ قطعی بات ہے کہ جب انہوں نے دو قولوں میں سے ایك کو اصح کہا اور دوسرے سے متعلق سکوت اختیار کیا تو اسے انہوں نے دوسرے سے افضل اور راجح قرار دیا تو آپ کے نزدیك اس کا اتباع واجب ہو ااور تخییر ساقط ہوگئی۔
تو میرے نزدیك مناسب طریقہ یہ ہے کہ رسالہ کا کلام اس صورت پر محمول کیا جائے جس میں ایك کے ذیل میں “ افعل “ سے ترجیح ہو اور دوسرے میں غیر افعل سے ، تو اس مسئلہ میں خیر یہ سے اصح کو اور غنیہ سے صحیح کو اختیار کرنے کا جو حکم منقول ہے اس کی یہ تیسری شق ہوجائے گی وہ یہ کہ تخییر ہے (کسی ایك کی پابندی نہیں صحیح یا اصح کسی کو بھی اختیار کرسکتا ہے) یہ معنی لینا اس معنی پر محمول کرنے سے بہتر ہے جو ناقابل قبول ہے ۔
خصوصا جبکہ رسالہ مجہول ہے ، نہ اس کا پتا نہ اس کے مؤلف کا پتا ، او رمجہول سے نقل قابل اعتماد نہیں اگرچہ ناقل معتمد ہوجیسا کہ یہ ضابطہ
فــــــ : لایعتمد علی النقل عن مجھول وان کان الناقل ثقۃ۔
عـــہ : اقول وثم تفصیل یعرفہ الماھر باسالیب الکلام والمطلع علی مراتب الرجال فافھم اھ منہ
اقول : یہاں کچھ تفصیل ہے جس کی معرفت اسالیب کلام کے ماہر اور مراتب رجال سے باخبر شخص سے ہوگی تو اسے سمجھ لیں ۔ ۱۲ منہ (ت)
من المعتمدین کما افصح بہ ش فی مواضع من کتبہ وبیناہ فی فصل القضاء ۔
وبالجملۃ فالثنیا تخالف ماقررہ اما انھا لاتخالفنا فلان فــــ مفادھا اذ ذاك التخییر وھو حاصل ما فی شقی الثانی لانہ لما وقع فی شقہ الاول الخلاف من دون ترجیح اٰل الی التخییر والتخییر مقید بقیود قد ذکرھا من قبل وذکّرھا ھنا بقولہ ولاتنس ماقدمناہ من قیود التخییر [1]اھ
من اعظمھا ان لایکون احدھما قول الامام فاذا کان فلا تخییر کما اسلفنا اٰنفا نقلہ ، وقد قال فی شرح عقودہ اذ کان احدھما قول الامام الاعظم والاٰخر قول بعض اصحابہ عند عدم الترجیح لاحدھما
خود علامہ شامی نے اپنی تصانیف کے متعدد مقامات میں صاف طور پر بیان کیا ہے اور ہم نے بھی فصل القضاء میں اسے واضح کیا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع