30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ وہ اول کو اصح کہہ کر دو نوں قولوں کو صحیح کہنا اور یہ بتانا چاہتے کہ اول کو دوسرے پر کچھ فضیلت ہے تو یہ افعل “ اھل الجنۃخیر مستقرا واحسن مقیلا “ جنت والے بہتر قرار گاہ اور سب سے اچھی آرام گاہ والے ہیں ، کے باب سے ہوگا ، اگر کلمات مشائخ کی تفتیش کیجئے تو یہ ملے گا کہ وہ حضرات فرماتے ہیں یہ احوط ( زیادہ احتیاط والا) ہے ، یہ ارفق ( زیادہ نرمی وفائدے والا ہے) با وجودیکہ دوسرے میں کوئی احتیاط اور کوئی آسانی نہیں ، یہ ان حضرات کے کلام کے خدمت گزاروں کے نزدیك بدیہی ہے ، اھ
اسی لئے خیر یہ کتاب الطلاق میں فرمایا ،
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ وعلی العلامتین ح و ط
فـــــ ۲ : ربما لایکون افعل فی قول الفقہاء ھذا اصح احوط ارفق اوفق وامثالہ من باب التفضیل ۔
فــــ ۳ : اذا ثبت الاصح لایعدل عنہ ای اذا لم یوجد الاقوی منہ۔
الطلاق انت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الی غیرہ[1] اھ
بل قال فی صلحھا فی مسألۃ قالوا فیھا لقائل ان یقول تجوز وھو الاصح ولقائل ان یقول لاما نصہ حیث ثبت الاصح لایعدل عنہ[2] اھ
وھذا مفاد فــــ ۱متنہ العقود وان مال فی شرحہ الی ما ھنا فانہ قال : ؎
وحیثما وجدت قولین وقد
صحح واحد فذاك المعتمد
بنحو ذاالفتوی علیہ الا شبہ
والاظھر المختار ذا والاوجہ[3]
فقد حکم بقصرالاعتماد علی ما قیل فیہ افعل ولم یصحّح خلافہ ۔ ولما قال فــــ۲ فی الدر فیمن
تمہیں خبر ہے کہ اس کے اصح ہونے کی تصریح ہوجانے کے بعد اس سے کسی اور کی جانب عدول نہ ہوگا ، اھ
بلکہ خیر یہ کتاب الصلح میں جہاں یہ مسئلہ ہے کہ : لوگوں نے کہا اس میں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ جائز ہے ، اور وہی اصح ہے ، اورکہنے والا کہہ سکتا ہے جائز نہیں ، وہاں وہ لکھتے ہیں جب اصح ثابت ہوگا تو اس سے عدول نہ ہوگا ،
یہی ان کے متن عقود کا بھی مفاد ہے اگر چہ اس کی شرح میں وہ اس بات کی طرف مائل ہوگئے جو یہاں زیر بحث ہے کیوں کہ اس میں یہ لکھا ہے ، جہاں تم کو دو۲ قول ملیں ، جن میں ایك کی تصحیح اس طر ح کے الفاظ سے ہو ، اسی پر فتوی ہے ، یہ اشبہ ہے ، اظہر ہے ، مختار ہے ، اوجہ ہے ، تووہی معتمد ہے اھ۔
تو معتمد ہونے کا حکم اسی پر محدود رکھا جس کی تصحیح میں لفظ افعل آیا ہے اور اس کے مخالف قول کی تصحیح نہیں ہوئی ہے۔
در مختار کے اندر اس شخص سے متعلق جو بائیں جانب
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۲ : مسئلہ : نماز میں بائیں طرف کا سلام پھیرنا بھول گیا جب تك قبلہ سے نہ پھرا ہو کہہ لے۔
نسی التسلیم عن یسارہ اتی بہ مالم یستدبر القبلہ [4] فی الاصح ۔
وکان فی القنیۃ انہ الصحیح[5] قال ش فــــ۱ عبرالشارح بالا صح بدل الصحیح والخطب فیہ سھل [6]اھ
[1] فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۹
[2] فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۰۴
[3] شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۳۷
[4] الدر المختار کتاب الصّلٰوۃ فصل اذا اراد الشروع فی الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۸
[5] القنیۃ المنیہ تتمیم الغنیہ کتاب الصلوۃ باب فی القعدۃ والذکرفیہا کلکۃ انڈیا ص۳۱
[6] رد المحتار کتاب الصّلٰوۃ فصل اذا اراد الشروع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع