30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ اگرچہ بظاہر دنوں ترجیحیں برابر ہونے کی صورت میں ہے لیکن آگے اس پر ترقی کرتے ہوئے خیر یہ اور بحر کے حوالے سے جوذکر کیا ہے و ہ تعین کردیتا ہے کہ حکم اعم ہے ۔
ویؤیدہ ایضا ماجعل اٰخرا الکلام محصل جمیع کلام الدر فی المراد اذ قال قولہ فلیحفظ ای جمیع ما ذکرناہ وحاصلہ ان الحکم ان اتفق علیہ اصحابنا یفتی بہ قطعا والا ۱فاما ان یصحح المشائخ احد القولین فیہ او ۲ کلا منھما ۳اولا ولا ففی الثالث یعتبر الترتیب بان یفتی بقول ابی حنیفۃ ثم ابی یوسف الخ او قوۃ الدلیل ومرا لتوفیق وفی الاول ان کان التصحیح بافعل التفضیل خیر المفتی والا فلا بل یفتی بالمصحح فقط وھذا ما نقلہ عن الرسالۃ وفی الثانی اما ان یکون احدھما عــــہ
اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے جسے آخر کلام میں مقصود سے متعلق پوری عبارت درمختار کا حاصل قرار دیا کہ وہاں یہ لکھا ہے ، عبارت در “ فلیحفظ ، تو اسے یاد رکھا جائے “ کا معنی یہ ہے کہ وہ سب یاد رکھا جائے جو ہم نے ذکر کیا اور اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کسی حکم پر ہمارے اصحاب کا اتفاق ہو تو قطعا اسی پر فتوی دیا جائے گا ورنہ تین صورتیں ہوں گی :
(۱) مشائخ نے دونوں قولوں میں سے صرف ایك کو صحیح قرار دیا ہو (۲) ہرایك کی تصحیح ہوئی ہو (۳) مذکورہ دونوں صورتیں نہ ہوں ۔ تیسری صورت میں ترتیب کا اعتبارہوگا اس طر ح کہ امام ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیاجائے گا ، پھر امام ابو یوسف کے قول پر الخ ، یاقوت دلیل کا اعتبارہوگا ، اور ان دونوں میں تطبیق کا بیان گزر چکا ۔ اور پہلی صورت میں اگر تصحیح افعل التفضیل کے صیغے (مثلا لفظ اصح) سے ہو تو مفتی کو تخییر ہوگی ورنہ (مثلا صرف لفظ صحیح ہو تو) نہیں ،
عــــــہ : اقول : فــــ یشمل ما اذا کان کلاھما بہ ولا یتأتی فیہ الخلاف المذکور فکان ینبغی ان یقول احدھما وحدہ لیشمل قولہ اولا مااذا کان بافعل ۱۲منہ غفرلہ (م)
اقول : یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں دونوں تر جحیں بلفظ افعل ہوں حالانکہ اس میں خلاف مذکور حاصل نہ ہوگا تو انہیں کوئی ایك کے بجائے “ احدھما وحدہ “ (صرف ایک) کہنا چاہئے تھا ، تا کہ ان کا قول “ او یا نہ “ اس صورت کو بھی شامل ہوجائے جس میں ہر ایك لفظ افعل ہو ۱۲منہ
فــــ : معروضۃ علی العلامہ ش
بافعل التفضیل اولا ففی الاول قیل یفتی بالاصح وھوالمنقول عن الخیریۃ وقیل بالصحیح وھو المنقول عن شرح المنیۃ وفی الثانی یخیر المفتی وھو المنقول عن وقف البحر والرسالۃ افادہ ح [1] اھ
فما ذکرہ فی الثالث عین مرادنا وکذا ما ذکرہ فی الاول اما استثناء ما اذاکان التصحیح بافعل فــاقـول : یخالف فــــ نفسہ ولا یخالفنا فان الترجیح اذا لم یوجد الا فی جانب واحد کما جعلہ محمل الرسالۃ ومع ذلك خیر المفتی لم یکن علیہ اتباع مارجحوہ
والتاویل بان افعل افادان الروایۃ المخالفۃ صحیحۃ ایضا کما قالاہ ھما وط ۔
بلکہ مفتی کو اسی پر فتوی دینا ہے جسے صحیح کہا گیا ، یہ وہ بات ہے جو انہوں نے رسالہ سے نقل کی ، اور دو سری صورت میں کوئی ایك ترجیح بلفظ افعل التفضیل ہوگی یا نہ ہوگی ، برتقدیر اول کہا گیا کہ اصح پر فتوی دیا جائے گا ، یہ خیر یہ سے منقول ہے ، اور کہا گیا کہ صحیح پر فتوی ہوگا ، یہ شرح منیہ سے منقول ہے ، برتقدیر دوم مفتی کو تخییر ہوگی یہ بحر کتاب الوقف او ر رسالہ سے منقول ہے ۔ یہ حلبی نے افادہ فرمایا ۔ اھ
تو تیسری صورت میں جوذکر کیا بعینہ وہی ہماری مراد ہے ، اسی طرح وہ بھی جو پہلی صورت میں ذکر کیا ، رہا اس صورت کا استثنا جس میں تصحیح بصیغہ اسم تفضیل ہو فاقول : (تو میں کہتا ہوں) وہ خود ان کے خلاف ہے ہمارے خلاف نہیں ، کیوں کہ جب ترجیح صرف ایك طرف ہو ، جیسا کہ اسے رسالے کا محمل اور معنی مراد ٹھہرایا ، ا س کے با وجود مفتی کو تخییر ہو تو اس کے ذمہ اس کی پیر وی لازم نہ رہی جسے مشائخ نے ترجیح دی ، اور یہ تاویل کہ “ افعل “ کامفاد یہ ہوگا کہ روایت خلاف بھی صحیح ہے ، جیسا کہ حلبی وشامی اور طحطاوی نے کہا ۔
فــــ : معروضۃ علیہ
فـاقـول اولا : ھذا فــــ ۱مسلم اذا قوبل الاصح بالصحیح اما اذا ذکروا قولین وقالوا فی احدھما وحدہ انہ الاصح ولم یلموا ببیان قوۃ مافی الاٰخر اصلا فلایفھم منہ الا ان الاول ھو الراجح المنصور ولا ینقدح فی ذھن احد انھم یریدون بہ تصحیح کلا القولین و ان للاول مزیۃ ما علی الاٰخر فافعل ھھنا من باب اھل الجنۃ خیر مستقرا واحسن مقیلا ولو سبرت کلماتھم فــــ ۲ لوجد تھم یقولون ھذا احوط وھذا ارفق مع ان الاٰخر لارفق فیہ ولا احتیاط وھذا بدیھی عند من خدم کلامھم ۔
ولذا فــــ ۳قال فی الخیریۃ من
فاقول : ( تو میں کہتا ہوں)اولایہ بات اس صورت میں تسلیم ہے جب اصح کے مقابلے میں صحیح لایا گیا ہو۔ لیکن جب دو قول ذکر کریں اور صرف ایك کے بارے میں کہیں کہ وہ اصح ہے اور دوسرے میں جو قوت ہے اس کے بیان سے کچھ بھی تعرض نہ کرے تو ایسی حالت میں یہ ہی سمجھا جائے گا کہ اول ہی راجح اور تائید یافتہ ہے ۔ اور کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ گزرے گا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع