دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

جب مجتہد کے لئے اپنے سے اقوی کی رائے کو اختیار کر کے اپنی رائے ترك کرنا جائز ہے حالاں کہ اسے حکم یہ ہے کہ اپنی رائے کا اتباع کرے اور دوسرے کی تقلید اس کے لئے روا نہیں ، تو ہمارے اور ان مفتیوں کے امام اعظم

 

فـــ۱ :  معروضۃ علیہ

فـــ۲ :  معروضۃ علیہ

امامھم الاعظم الذی ھو اقوی من مجموعھم فی الفقہ ووجوہ الاجتہاد بل فضلہ علیھم کفضلھم علینا اوھو اعظم الاولی بالجواز واجدر ۔  قـولـہ سقط ما بحثہ فی البحر [1]۔

واقــول :  سبحٰن الله فـــــ۱ھو الحکم الماثور ،  ومعتمد الجمھور ،  والمصحح المنصور ،  فکیف

یصح تسمیتہ بحث البحر ھذا۔

واقـول :  یظھر لی فی توجیہ فـــــ۲ کلامہ رحمہ الله تعالٰی ان مرادہ اذا اتفق المرجحون علی ترجیح قول غیرہ رضی الله تعالی عنہ ذکرہ ردا لما فھم من اطلاق قول البحر وان افتی المشائخ بخلافہ فانہ بظاھرہ یشمل مااذا اجمع المشائخ علی ترجیح

جو فقہ اور وجوہ اجتہاد میں ان حضرات کی مجموعی قوت سے بھی زیادہ قوت رکھتے ہیں بلکہ ان پر امام کو اسی طرح فوقیت ہے جیسے ہم پر ان حضرات کو فوقیت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تو اگر ہم ان کی رائے اختیار کر کے ان مفتیوں کی رائے ترك کریں تو یہ بدرجہ اولی جائز اور انسب ہوگا ۔

علامہ شامی : بحر کی بحث ساقط ہوگئی۔

اقول : سبحان الله یہی تو حکم منقول ہے جمہور کا معتمد ا ور تصحیح وتائید یافتہ بھی ، پھر اسے بحر کی بحث کہنا کیوں کر درست ہے ؟

اقول : مجھے علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے کلام کی توجیہ میں یہ سمجھ آتا ہے کہ ان کی مراد وہ صورت ہے جس میں حضر ت امام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سوا کسی اور کے قول کی ترجیح پر مرجحین کا اتفاق ہو ، اسے اس اطلاق کی تردید میں ذکر کیا جو بحر کی اس عبارت سے سمجھ میں آتا ہے کہ “ اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف فتوی دیا ہو “ کیوں کہ بظاہر یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں غیر امام کے

 

فـــ۱ :  معروضۃ علیہ

فـــ۲ :  السعی الجمیل فی توجیہ کلام العلامۃ الشامی رحمہ الله تعالی ۔

قول غیرہ ۔

والدلیل علی ھذہ العنایۃ فی کلام ش انہ انما تمسك باتباع المرجحین وانھم اعلم وانھم سبروا الدلائل فحکموا بترجیحہ ولم یلم فی شیئ من الکلام الی صورۃ اختلاف الترجیح فضلا عن ارجحیۃ احد الترجیحین ولو کان مرادہ ذلك لم یقتصر علی اتباع المرجحین فانہ حاصل ح فی کلام الجانبین بل ذکر اتباع ارجح الترجیحین ۔

ویـؤیدہ ایضا ما قدمنا فی السابعۃ من قولہ رحمہ الله تعالٰی لما تعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام [2]اھ

وھذا وان کان ظاھرہ فی ما استوی الترجیحان لکن ماذکرہ مترقیا علیہ عن الخیریۃ و البحر یعین ان الحکم اعم۔

قول کی ترجیح پر اجماع مشائخ ہو ۔

یہ مراد ہونے پر کلام شامی میں دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اتباع مرجحین سے استدلال کیا ہے اور اس بات سے کہ وہ زیاد ہ علم والے ہیں او رانہوں نے دلائل کی جانچ کر کے اس کی ترجیح کا فیصلہ کیا ہے ، اور کلام کے کسی حصے میں اختلاف ترجیح کی صورت کو ہاتھ نہ لگایا ، دو ترجیحوں میں سے ایك کے ارجح ہونے کا تذکرہ تودر کنار ، اختلاف ترجیح کی صورت اگر انہیں مقصود ہوتی تو صرف اتباع مرجحین کے حکم پر اکتفا نہ کرتے کیونکہ اس صورت میں اتباع مرجحین تو دو نوں ہی جانب موجو د ہے ، بلکہ اس تقدیر پر وہ دونوں ترجیحوں میں سے ارجح کے اتباع کا ذکر کرتے ۔

اس کی تائید ان کے اس کلام سے بھی ہوتی ہے جسے ہم مقدمہ ہفتم میں نقل کر آئے ہیں کہ ، جب دونوں تصحیحوں میں تعا رض ہوا تو دونوں ساقط ہوگئیں اس لئے ہم نے اصل کی جانب رجوع کیا ، وہ یہ ہے کہ امام کا قول مقدم رہے گا اھ۔

 



[1]    ردالمحتار   ، کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت   ۴ / ۳۰۳

[2]    ردالمحتار  مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت  ۱ / ۴۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن