دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

المطلق الذی لم یلحقوا غبارہ ولم یبلغ مجموعھم عشر فضلہ ولا معشارہ ھل ھذا الا جمعا بین الضب والنون اذ حاصلہ ان الامام واصحابہ واصحاب الترجیح :  فی مذھبہ اذا اجمعوا کلھم اجمعون علی قول لم یجب علی المقلدین الاخذ بہ بل یأخذون بہ او بما تھوی انفسھم من قیلات خارجۃ عن المذھب لکن اذا قال الامام قولا وخالفہ صاحباہ ورجح مرجحون کلا من القولین وکالترجیح فی جانب الصاحبین اکثر ذاھبا او اٰکد لفظا فح یجب تقلید ھؤلاء ویمتنع تقلید الامام ومن معہ بل فـــــ ٣ ان اجمع الامام وصاحباہ علی شیئ ورجع ناس من ھؤلاء المتأخرین قیلا مخالفا لا جماعھم ،  وجب ترك  

مجتہد مطلق امام اعظم بھی ہوں یہ جن کی گرد پا کو بھی نہ پاسکے اور ان سب حضرات کا مجموعی کمال بھی ان کے فضل وکمال کے دسویں حصے کو نہ پہنچ سکا۔ یہ ضب اور نون[1] کو جمع کرنے کے سوا کیا ہے ؟ اس لئے کہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ حضرت امام ، ان کے اصحاب او ران کے مذہب کے اصحاب تر جیح سب کے سب متفقہ طور پر جب کسی قول پر اجماع کرلیں تو مقلدین کے ذمہ اسے لیناضروی نہیں بلکہ انہیں اختیار ہے اسے لے لیں ، یا اپنی خواہشات نفس کے مطابق مذہب سے خارج اقوال کو لے لیں ، لیکن جب امام کوئی قول ارشاد فرمائیں ، اور ان کے صاحبین ان کے خلاف کہیں پھر دو نوں قولوں میں سے ہر ایك کو کچھ مرجحین ترجیح دیں او رصاحبین کی جانب ترجیح دینے والوں کی تعداد زیادہ ہو یا اس طر ف ترجیح کے الفاظ زیادہ موکد ہوں توایسی صورت میں ان مرجحین کی تقلید واجب  ہوجائے اور امام اور ان کے موافق حضرات کی تقلیدناجائز ہوجائے ، بلکہ اگر امام اور صاحبین کا کسی بات پراجماع ہو اور ان متا خرین میں سے کچھ افراد ان کے اجماع کے مخالف کسی قول کو ترجیح دے دیں تو ان ائمہ کی

 

فــــ۳ :  معروضۃ علیہ

تقلید الائمۃ الی تقلید ھؤلاء واتباعھم ،  ھذا ھوالباطل المبین ،  لادلیل علیہ اصل من الشرع المتین ،  والحمد لله رب العالمین ،

و بہ ظھر ان قول البحر وان کان مبنیا علی ذلك الحق المنصور المعتمد المختار ،  المأخوذ بہ قولا عند الائمۃ الکبار ،  وفعلا عندھم وعند ھؤلاء المناز عین الاخیار ،  لکنفـــــ۱مازعم السید لایبتغی علیہ ولا علی مازعم انہ المختار ،  بل یخالفھما جمیعا بالاعلان والجھار ،  والحجۃ لله العزیز الغفار ،  والصّلٰوۃ والسلام علی سید الابرار ،  واٰلہ الاطھار ،  وصحبہ الکبار ،  وعلینا معھم فی دارالقرار ،  آمین

قولہ قول السراجیۃ صریح ان المجتھد یتبع ماکان اقوی الاتبع الترتیب فنتبع مارجحوہ[2]۔

اقـول رحمك الله قولك فـــــ ۲                            

تقلید چھوڑ کر ان افراد کی تقلید اور پیروی واجب ہوجائے ، یہی وہ کھلا ہوا باطل خیال ہے جس پر شرع متین سے ہر گز کوئی دلیل نہیں ، والحمد لله رب العالمین۔

اسی سے ظاہر ہوا کہ بحر کا کلام تواس قول حق پر مبنی تھا جو منصور ، معتمد ، مختار ہے ، جسے قولا تمام ائمہ کبار نے لیا اور عملا ان کے ساتھ ان بزرگ مخالفین نے بھی لیا لیکن علامہ شامی کے خیال کی بنیاد نہ اس مختار پر قائم ہے نہ اس پر جس کو بزعم خویش مختار سمجھابلکہ وہ علانیہ و عیاں طور پردونوں ہی کے خلاف ہے اور حجت خدائے عزیز وغفار ہی کی ہے او ردرود و سلام ہو سید ابرار ، ان کی آل اطہار ، اصحاب کرام پر اوران کے ساتھ ہم پر بھی دار القرار میں الہی قبول فرما!ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی۔

علامہ شامی سراجیہ کی عبارت اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد اس کی پیروی کرے گا جو زیادہ قوی ہو ، ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا ،

اقول : الله آپ پررحم فرمائے ، تو ہم اسی

 

فــــ ۱ :  معروضۃ علیہ

فــــ ۲ :  معروضۃ علی العلامہ ش

فنتبع مارجحوہ ان کان داخلا فی ما ذکرت من مفاد السراجیۃ فتوجیہ القول بضدہ وردہ فان السراجیۃ توجب علی غیر المجتھد اتباع الترتیب لا الترجیح وان کان زیادۃ من عندکم فمخالف للمنصوص وتفریع للشیئ علی ما ھو تفریع لہ فانك ان کنت اھل النظر فعلیك بالنظر المصیب ،  اولا فعلیك بالترتیب ،  فمن این ھذا الثالث الغریب۔

قـولہ لایجوز لہ مخالفۃ الترتیب الا اذاکان لہ ملکۃ فعلیہ ترجیح مارجح عندہ و نحن نتبع مارجحوہ۔ [3]

اقول :  رحمك الله فـــــ ھذا کذٰلك فحاصل کلامھم جمیعا ما ذکرت الی قولك ونحن اما                   

پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی ، یہ عبارت اگر آپ نے کلام سراجیہ کے مفاد ومفہوم کے تحت داخل کر کے ذکر کی ہے تو یہ اس کلام کی توجیہ نہیں بلکہ اس کی مخالفت اور تردید ہے کیونکہ سراجیہ تو غیر مجتہد پر ترتیب کی پیروی واجب کرتی ہے نہ کہ ترجیح کی پیروی ۔ اور اگر یہ عبارت آپ نے اپنی طر ف سے بڑھائی ہے تو یہ منصوص کے برخلاف



[1]   ضب : گوہ ، جو جنگلی جانور ہے اور نون : مچھلی ، جو دریائی جانور ہے ۔ دونوں میں کیا جوڑ ، ایک عربی مثل سے ماخوذ ہے ۱۲

[2]    ردالمحتار  مطلب رسم المفتی  دار احیاء التراث العربی بیروت  ۱ / ۴۸

[3]    ردالمحتار   کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت  ۴ / ۳۰۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن