مطالبِ حدیث
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

پہلے حسان بصری کو صدوق یخطئ کے باوجود واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ ضعیف نہیں ہیں۔

مطالبِ حدیث

مرزائیوں نے حدیث شریف لَعَنَ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِھِمْ مَسَاجِدَ سے حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلامکی وفات پراس طرح استدلال کیا کہ حدیث کامطلب یہ ہے کہ یہودونصارٰی نے اپنے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنایا ، اس سے ظاہر ہوا کہ نبی یہود حضرت موسی اور نبی نصارٰی حضرت عیسی عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی قبریں تھیں جن کی عبادت کی جاتی تھی۔ امام احمدرضابریلوی حدیث مذکور سے استدلال کاجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

۱۔ اَنْبِیَائِھِمْ میں اضافت استغراق کے لئے نہیں ہے حتی کہ اس کا یہ معنی ہو ، کہ حضرت موسی سے یحیی عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامتك ہر نبی کی قبر کو تمام یہود ونصاری نے مسجد بنا لیا ہو ، یہ یقینا غلط ہے ، اورجب استغراق مراد نہیں توبعض میں حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلامکوداخل کرلینا باطل اور مردود ہے۔ یہود و نصارٰی کا بعض انبیاء کی قبور کریمہ کو مسجد بنالینا صدقِ حدیث کے لئے کافی ہے۔

علّامہ ابن حجر نے فتح الباری میں یہ سوال اٹھایا کہ نصارٰی کے انبیاء کہاں ہیں؟ ان کے نبی توصرف حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلامتھے ، ان کی قبر نہیں ہے۔ اس سوال کاایك جواب یہ دیا :

 “ انبیاء کی قبروں کومسجد بنانا عام ہے کہ ابتداءً  ہو یاکسی کی پیروی میں ، یہودیوں نے ابتداء کی اور عیسائیوں نے ان کی پیروی کی اور اس میں شك نہیں کہ نصارٰی بہت سے ان انبیاء کی قبور کی تعظیم کرتے ہیں جن کی یہودی تعظیم کرتے ہیں۔ “ (ترجمہ)

۲۔ حافظ ابن حجرعسقلانی نے دوسراجواب یہ دیا کہ اس حدیث میں اقتصار واقع ہوا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہود اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بناتے تھے اورنصارٰی اپنے صالحین کی قبروں کو۔ صحیح بخاری ، حدیث ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں قبورِ انبیاء کے بارے میں صرف یہودیوں کاذکر ہے اوران کے ساتھ ان کے انبیاء کاذکر ہے۔ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِھِمْ مَسَاجِدَ۔ الله تعالٰی یہودیوں کوہلاك فرمائے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کوسجدہ گاہیں بنالیا۔

صحیح بخاری ، حدیث حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَامیں صرف نصارٰی کاذکر تھا ان کے ساتھ صرف صالحین کا ذکر ہے ، انبیاء کرام کاذکر نہیں ہے۔ چنانچہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکاارشاد ہے کہ : اُولٰئِكَ قَوْم اِذَا مَاتَ فِیْھِمُ الْعَبْدُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلٰی قَبْرِہٖ مَسْجِدًا وَّصَوَّرُوْا فِیْہِ تِلْكَ الصُّوَرَ۔ نصارٰی وہ قوم ہے کہ جب ان میں کوئی نیك آدمی فوت ہوجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں وہ تصویریں بنالیتے۔ اور صحیح مسلم حضرت جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث میں یہود ونصارٰی دونوں کاذکر تھا اس میں انبیاء اور صالحین دونوں کاذکر فرمایا ، چنانچہ ارشاد فرمایا : اَلَاوَمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا یَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ اَنْبِیَائِھِمْ وَصَالِحِیْھِمْ مَسَاجِدَ۔

خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیتے تھے ۔ اسی حدیث کامطلب اسی وقت واضح ہوتاہے جب اس کے متعدد طرق کوجمع کرلیاجائے۔ [1]

دین کے اصول وقواعد

ایك متبحرفقیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ دین کے اصول وقواعد کاوسیع علم رکھتاہو تاکہ کسی نئے مسئلے کاحکم پورے وثوق کے ساتھ بیان کرسکے ، امام احمدرضابریلوی سے سوال کیاگیا کہ روسر [2] کی شکر ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے والے اس بات کی احتیاط نہیں کرتے کہ وہ ہڈیاں پاك ہیں یاناپاک ، حلا ل جانور کی یاحرام کی۔ اس شکرکاکیاحکم ہے؟ امام احمدرضابریلوی نے جواب سے پہلے دس مقامات بیان کئے جن میں شرعی اصول وضوابط پیش کئے ، ان ہی مقدمات میں ایك ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ بیان فرمایا :

 “ فعلِ فرائض وترك محرمات کوارضائے خلق پرمقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقًا پروانہ کرے اور اتیانِ مستحب وترك غیراولیٰ پرمداراتِ خلق ومُراعاتِ قلوب کواہم جانے اورفتنہ ، ونفرت وایذا و وحشت کاباعث ہونے سے بہت بچے۔

اسی طرح جوعادات ورسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے ان کی حرمت وشناعت نہ ثابت ہو ان میں اپنے ترفع وتنزُّہ کے لئے خلاف وجدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد ومحبوب شارع کے مناقض ہیں۔

ہاں وہاں !ہوشیاوگوش دار! کہ ہ وہ نکتہ جمیلہ وحکمت جلیلہ وکوچہ سلامت وجادہ کرامت ہے جس سے بہت زاہدان خشك واہل تقشف غافل وجاہل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط ودین پروربنتے ہیں اور فی الواقع مغزحکمت ومقصودِ شریعت سے دورپڑتے ہیں ، خبردار ومحکم گیر ، یہ چندسطروں میں علم غزیر  وبالله التوفیق والیہ المصیر [3] “ ۔

 



[1]   احمدرضابریلوی ، امام : مجموعہ رسائل ردِّ مرزائیت(رضافاؤنڈیشن ، لاہور)ص۹۰۔ ۸۷

[2]   روسرانگریزی تاجروں کی ایك جماعت کانام ہے جس نے شاہجہاں پورمیں شکّرکاکارخانہ لگایاتھا اور وہ حیوانوں کی ہڈیاں جلاکر اس کے کوئلوں سے شکرصاف کرتی تھی۔ (تذکرہ علمائے ہند اردو ازرحمن علی ص۱۰۰)

[3]   امام احمدرضابریلوی ، امام : فتاوٰی رضویہ(مکتبہ نعیمیہ ، مرادآباد)ج۲ ص۱۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن