دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

الله تعالی ان پر رحمت نازل فرمائے اور ان کے طفیل ہم پر بھی رحمت فرمائے ۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ تمام نصوص کلام بحر کے موافق ہیں او رمیرے علم میں کسی نے بھی اس پر کوئی تعاقب نہ کیا  سوا دو متا خر عالموں کے ، دونوں حضرات میں سے ہر ایك نے عیب بھی لگایا اور رجوع بھی کیا ، انکار بھی کیا اوراقرار بھی ، مفارقت بھی کی اور مرافقت بھی مخالفت بھی اور موافقت بھی یہ ہیں علامہ خیر الدین رملی اور سید امین الدین شامی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی، اور کسی مضطرب کلام کا یوں ہی کوئی اعتبار نہیں۔

یہ بھی معلوم ہوچکا کہ اس مسئلہ کی سات صورتوں میں کوئی نزاع نہیں ، ایك ضعیف اختلاف صرف آٹھویں صورت میں آیا ہے ۔ وہ صورت یہ ہے کہ صاحبین باہم ایك قول پر متفق ہوتے ہوئے  امام کے خلاف ہوں او رمرجحین دونوں قولوں میں سے کسی کی ترجیح پر متفق نہ ہوں ، بس اسی صورت میں ایك ضعیف قول آیا ہے جس کے قائل کا پتا نہیں ، بلکہ اس کے وجود میں بھی شبہ ہے ، وہ قول یہ ہے کہ مقلد دونوں میں سے جس کی چاہے پیرو ی کرے ، صحیح مشہور معتمد منصور قول یہ ہے کہ مقلد قول امام کے سوا کسی کی پیروی نہ کرے ، یہ دونوں قول جیسا کہ آپ کے سامنے ہے ، مطلق اور ہر طر ح کی قید سے آزاد ہیں ۔ کسی میں ترجیح یا عدم ترجیح  کا

او عدمہ۔

لکـن المحقق الشامی اختار لنفسہ مسلکا جدیدا لا اعلم لہ فیہ سندا سدیدا و ھو ان المقلد لالہ التخییر ولا علیہ التقیید بتقلید الامام بل علیہ ان یتبع المرجحین۔  قال فی صدر ردالمحتار قول السراجیۃ الاول اصح اذا لم یکن المفتی مجتھدا فھو صریح فی ان المجتھد یعنی من کان اھلًا للنظر فی الدلیل یتبع من الاقوال ماکان اقوی دلیلا والا اتبع الترتیب السابق وعن ھذا ترٰھم قدیرجحون قول بعض اصحابہ علی قولہ کما رجحوا قول زفر وحدہ فی سبع عشرۃ مسألۃ فنتبع مارجحوہ لانھم اھل النظر فی الدلیل  [1]اھ

وقال فی قضائہ لا یجوز لہ مخالفۃ الترتیب المذکور                       

کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا ہے (ضعیف میں مطلقًا اختیار دیا گیا ہے اور صحیح میں مطلقًا پابند امام رکھاگیا ہے )

لیکن محقق شامی نے اپنے لئے ایك نیا مسلك اختیار کیاہے جس کی کوئی صحیح سند میرے علم میں نہیں وہ مسلك یہ ہے کہ مقلد کو نہ اختیار ہے نہ تقلید امام کی پابندی بلکہ اس پر یہ ہے کہ مرجحین کی پیروی کرے  رد المحتار کے شر وع میں لکھتے ہیں سراجیہ کی عبارت “ اول اصح ہے جب کہ وہ صاحب اجتہادنہ ہو “ ، اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد یعنی وہ جو دلیل میں نظر کا اہل ہو ، اس قول کی پیروی کرے گا جس کی دلیل زیادہ قوی ہو ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا ۔ اسی لئے دیکھتے ہو کہ مرجحین بعض اوقات امام صاحب کے کسی شاگر د کے قول کو ان کے قول پر ترجیح دیتے ہیں جیسے سترہ مسائل میں تنہا امام زفر کے قول کو ترجیح دی ہے تو ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی کیوں کہ وہ دلیل میں نظر کے اہل تھے ۔ اھ

اور رد المحتار کتاب القضاء میں لکھا : اس کے لئے تر تیب مذکور کی مخالفت جائز نہیں

الا اذا کان لہ ملکۃ یقتدر بھا علی الاطلاع علی قوۃ المدرك وبھذا رجع القول الاول الی ما فی الحاوی من ان العبرۃ فی المفتی المجتھد لقوۃ المدرك نعم فیہ زیادۃ تفصیل سکت عنہ الحاوی فقد اتفق القولان علی ان الاصح ھو ان المجتھد فی المذھب من المشائخ الذین ھم اصحاب الترجیح لایلزمہ الاخذ بقول الامام علی الاطلاق بل علیہ النظر فی الدلیل وترجیح مارجح عندہ دلیلہ ونحن نتبع ما رجحوہ واعتمدوہ کمالو افتوا فی حیاتھم کما حققہ الشارح فی اول الکتاب نقلا عن العلامۃ قاسم ویأتی قریبا عن الملتقط انہ ان لم یکن مجتھدا فعلیہ تقلیدھم واتباع رأیھم فاذا قضی بخلافہ لا ینفذ حکمہ وفی فتاوٰی ابن الشلبی لایعدل عن قول الامام الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ وبھذا سقط ما بحثہ فی البحر من ان علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ                    

مگر جب کہ اسے ایسا ملکہ ہو جس سے قوت دلیل پروہ آگا ہ ہونے کی قدرت رکھتا ہے ، اسی سے پہلے قول کامال وہی ٹھہرا جو حاوی میں ہے کہ صاحب اجتہاد مفتی کے حق میں قوت دلیل کا اعتبار ہے۔ ہاں اس میں کچھ مزید تفصیل ہے جس سے حاوی نے سکوت اختیار کیا ۔ تو دونوں قول اس پر متفق ہوگئے کہ اصحاب تر جیح مشائخ میں سے مجتہد فی المذہب پر مطلقًا قول امام لینا ضروری نہیں بلکہ اس کے ذمہ یہ ہے کہ دلیل میں نظرکرے اور جس قول کی دلیل اس کے نزدیك راجح ہو اس سے ترجیح دے ، اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی اور جس پر اعتماد کیا جیسے وہ اگر اپنی حیات میں کہیں فتوے دیتے تو یہی ہوتا جیسا کہ شروع کتاب میں علامہ قاسم سے نقل کرتے ہوئے شارح نے اس کی تحقیق کی ہے ، او رآگے ملتقط کے حوالے سے آرہا ہے کہ اگر قاضی صاحب اجتہاد نہ ہو تو اسے مرجحین کی تقلید اور ان کی رائے کا اتباع کرنا ہے اس کے خلاف فیصلہ کردے تو نافذ نہ ہوگا ، اورفتا وی ابن الشلبی میں ہے کہ قول امام سے عدول نہ ہوگا مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ تصریح کردی ہو کہ فتوی کسی اور کے قول پر ہے ، اسی سے بحر کی یہ بحث ساقط ہوجاتی ہے کہ ہمیں قول امام پر ہی فتوی دینا ہے اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف

بخلافہ [2]اھ

اقول اولا  فــــــ ۱  ھذا کما تری قول مستحدث  ۔

 



[1]    ردالمحتار مطلب رسم المفتی  دار احیاء التراث العربی بیروت  ۱ / ۴۸

[2]    ردالمحتار کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق داراحیاء التراث بیروت ۴ / ۳۰۲ ، ۳۰۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن