30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فـــــ : الترجیح لقول الامام ای بلا خلاف اذا خالفا وتخالفا ۔
قولھا یختار قولھما وقول السراجیۃ وغیرھا وصاحباہ فی جانب
قال واما اذا خالفاہ واتفقا علی جواب واحد حتی صار ھو فی جانب وھما فی جانب فقیل یترجع قولہ ایضا وھذا قول الامام عبدالله بن المبارك وقیل یتخیر المفتی وقول السراجیۃ والاول اصح اذالم یکن المفتی مجتھدا یفید اختیار القول الثانی ان کان المفتی مجتھدا ومعنی تخییرہ انہ ینظر فی الدلیل فیفتی بما یظھر لہ ولا یتعین علیہ قول الامام وھذا الذی صححہ فی الحاوی ایضا بقولہ والا صح ان العبرۃ لقوۃ الدلیل لان اعتبار قوۃ کا قول اختیار ہوگا اور سرا جیہ وغیرہا میں ہے کہ اور صاحبین ایك طر ف ہوں ۔ [1]
علامہ شامی آگے لکھتے ہیں لیکن جب صاحبین امام کے مخالف ہوں او ربا ہم ایك حکم پر متفق ہوں یہا ں تك کہ امام ایك طرف ہوگئے ہوں اور صاحبین ایك طر ف ، تو کہا گیا کہ اس صورت میں قول امام کو ہی ترجیح ہوگی ، یہ امام عبدالله بن مبارك کا قول ہے ، اور کہا گیا کہ مفتی کو اختیار ہوگا ، اور سراجیہ کا کلام “ اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو “ ۔ یہ مفتی کے مجتہد ہونے کی صورت میں قول ثانی کی ترجیح کا افادہ کر رہا ہے ، تخییر مفتی کا معنی یہ ہے کہ دلیل میں نظر کرنے کے بعد اس پر جو منکشف ہو اسی پر فتوی دے گا ور اس پر قول امام کی پابندی متعین نہ ہوگی اسی کی حاوی میں تصحیح کی ہے ، ان الفاظ سے “ اصح یہ ہے کہ اعتبار قوت دلیل کا ہوگااس لئے کہ قوت دلیل کا اعتبار
الدلیل شأن المفتی المجتھد فصار فیما اذا خالفہ صاحباہ ثلاثۃ اقوال(۱) الاول اتباع قول الامام بلا تخییر(۲)الثانی التخییر مطلقًا (۳) الثالث وھو الاصح التفصیل بین المجتھد وغیرہ وبہ جزم قاضی خان کما یأتی والظاھر ان ھذاتوفیق بین القولین بحمل القول باتباع قول الامام علی المفتی الذی ھو غیر مجتھد وحمل القول بالتخییر علی المفتی المجتھد [2]اھ
ثم قال وقد علم من ھذا انہ لاخلاف فی الاخذ بقول الامام اذا وافقہ احدھما ولذا قال الامام قاضی خان وان کانت المسئلۃ مختلفا فیھا بین اصحابنا [3] الٰی آخر ماقدمنا عنھا۔
فقد اعترف رحمہ الله تعالی بالصواب فی جمیع تلك الابواب غیرانہ استدرك علی ھذا الفصل
کرنا مفتی مجتہد ہی کا کام ہے ، تو صاحبین کے مخالف امام ہونے کی صورت میں تین قول ہوگئے : اول یہ کہ بلا تخییر قول امام ہی کا اتباع ہوگا دوم یہ کہ مطلقًا تخییر ہوگی سوم ، او روہی اصح ہے ، یہ کہ مجتہد اور غیر مجتہد کے درمیان تفریق ہے ( مجتہد کے لئے تخییر ، غیر کے لئے پابندی امام) اسی پر امام قاضی خاں نے بھی جزم کیا جیسا کہ آرہا ہے او رظاہر یہ ہے کہ یہ پہلے دونوں قولوں میں تطبیق ہے اس طر ح کہ اتباع امام والے قول کو اس مفتی پر محمول کیا جو غیر مجتہد ہو او رتخییر والے قول کو اس مفتی پر محمول کیا جو مجتہد ہو ، اھ
آگے فرمایا ، اس سے معلوم ہوگیا کہ صاحبین میں سے کسی ایك کے موافق امام ہونے کی صورت میں قول امام کی پابندی کے حکم میں کوئی اختلاف نہیں اسی لئے امام قاضی خاں نے فرمایا اگر مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے یہاں سے آخر عبارت تك جو ہم پہلے (نص ۶کے تحت) نقل کر آئے ۔
علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِان تمام ابو اب و ضوابط میں درستی وصواب کے معترف ہیں سوا اس کے کہ اس اخیر حصے پریوں استدراك
الاخیر بقولہ لکن قدمنا ان ما نقل عن الامام من قولہ اذا صح الحدیث فھو مذھبی محمول علی مالم یخرج عن المذھب با لکلیۃ کما ظھر لنا من التقریر السابق ومقتضاہ جواز اتباع الدلیل وان خالف ما وافقہ علیہ احد صاحبیہ ولھذا قال فی البحر عن التتارخانیۃ اذاکان الامام فی جانب وھما فی جانب خیر المفتی وان کان احدھما مع الامام اخذ بقو لھما الا اذا اصطلح المشائخ علی القول الاٰخر فیتبعھم کما اختار الفقیہ ابو اللیث قول زفرفی مسائل [4]انتھی ۔
و۲۵قال فی رسالتہ المسماۃ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء لایرجح قول صاحبیہ او احدھما علی قولہ الا لموجب وھو ا ما ضعف دلیل الامام واما للضرورۃ والتعامل کترجیح قولھما فی المزارعۃ والمعاملۃ
فرمایا ہے لیکن ہم پہلے بتا چکے کہ امام سے نقل شدہ ان کا ارشاد “ جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے “ اس پر محمول ہے جو مذہب سے بالکلیہ خارج نہ ہو ، جیسا کہ تقریر سابق سے ہم پر منکشف ہوا ۔ اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ دلیل کا اتباع اس صورت میں بھی جائز ہے جب دلیل امام کے ایسے قول کے مخالف ہو جس پر صاحبین میں سے کوئی ایك ، حضرت امام کے موافق ہوں ۔ اسی لئے بحر میں تاتار خانیہ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امام ایك طر ف ہوں اور صاحبین دو سری طرف تو مفتی کو تخییر ہے اوراگر صاحبین میں سے ایک ، امام
[1] خانیہ کی دونوں عبارت اس صورت سے مقید ہے جب صاحبین ہم راے ہونے کے ساتھ خلاف امام ہوں اور ان کا یہ اختلاف اصحاب ستہ کی صورتوں میں سے تغیر زماں و عرف کی حالت میں ہو اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب اصحاب ستہ کی بناء پر اختلاف نہ ہو اور صاحبین مخالف امام ہونے کے ساتھ ایک رائے پر نہ ہو ں تو ان کا قول نہیں لیا جائے گا بلکہ قول امام کا اتباع ہوگا ۔ اسی طرح سراجیہ وغیرہ میں تخییر مفتی کا حکم اسی صورت میں مذکور ہے جب صاحبین ایک ساتھ ہوں ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مخالفت امام کے ساتھ ان میں باہم اتفاق نہ ہو تو مفتی کے لئے تخییر نہیں بلکہ قول امام ہی کی پابندی ہے ۱۲ م محمد احمد مصباحی۔
[2] شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۷ ، ۲۶
[3] شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۷ ، ۲۶
[4] شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع