دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

فھذا کما تری عین مافی الخانیۃ لا یخالفھا فی شیئ فقد الزم اتباع قول الامام اذا وافقہ                    

قرار دینا مطلقًا ہے یہ وہم پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ درمختار میں عبارت حاوی کے صر ف ایك ٹکڑے پر اقتصار ہے ۔ حقیقت یوں نہیں ۔ کیوں کہ حاوی قدسی کی پوری عبارت یہ ہے : جب امام کے موافق ہو تو اس سے تجاوز نہ کیا جائے گا مگر اس صورت میں جب کہ ضرورت در پیش ہو اور معلوم ہو کہ اگر امام ابو حنیفہ بھی اسے دیکھتے جو بعد والوں نے دیکھا تو اسی پر فتو ی دیتے ، یہی حکم اس وقت بھی ہے جب صاحبین میں سے کوئی ایك ، امام کے ساتھ ہو ، اگر دونوں ہی حضرات ظاہر میں مخالف امام ہوں تو بعض مشائخ نے فرمایا کہ ظاہر قول امام کو لے ، او ربعض مشائخ نے فرمایاکہ مفتی کو دو نوں کا اختیار ہے اگر چاہے تو ظاہر قول امام پر فتوی دے ، اور اصح یہ ہے کہ اعتبار ، قوت دلیل کا ہے اھ ، (حاوی قدسی) دیکھئے بعینہ وہی بات ہے جو خانیہ میں ہے ذرا بھی اس کے خلاف نہیں کیوں کہ حاوی نے بھی امام کے ساتھ موافقت صاحبین کی صورت

 

عـــہ المراد بالظاھر فی المواضح الاربعۃ ظاھر الروایۃ  منہ

چاروں جگہ لفظ “ ظاھر “ سے مراد ظاہرالروایہ ہے  منہ(ت)

صاحباہ وکذا اذا وافقہ احدھما وانما جعل الاصح العبرۃ بقوۃ الدلیل اذا خالفاہ معالا مطلقًا کما او ھمہ الدرو معلوم ان معرفۃ قوۃ الدلیل وضعفہ خاص باھل النظر فوافق تقدیم الخانیۃ تخییر المجتھد لانہ انما فـــــ ۱یقدم الاظھر الاشھر

وقد علمت ان لا خلف فاحفظ ھذا کیلا تزل فی فھم مرادہ حیث ینقلون عنہ القطعۃ الا خیرۃ فقط ان العبرۃ بقوۃ الدلیل فتظن عمومہ للصور وانما ھو فی ما اذا خالفاہ معا ،  

وبامثال فـــــــ  ۲ماوقع ھھنا فی نقل ش کلام جامع الفصولین ونقل الدرکلام الحاوی وما وقع فیھما من                                      

میں ، اسی طرح صرف ایك صاحب کی موافقت کی صورت میں قول امام ہی کاا تباع لازم کیا ہے ، اور قوت دلیل کے اعتبار کو اصح صرف اس صورت میں قرار دیا ہے جب دو نوں ہی حضرات ، مخالف امام ہوں اسے مطلقًا اصح نہ ٹھہرایا جیسا کہ عبارت درمختار نے وہم پیدا کیااور معلوم ہے کہ دلیل کی قوت اور ضیعف کی معرفت خاص اہل نظر کا حصہ ہے تو یہ تصحیح اسی کے مطابق ہے جسے خانیہ نے مقدم رکھا ، یعنی یہ کہ مجتہد کے لئے تخییر ہے اس لئے کہ قاضی خاں اسی کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر ہو ۔

معلوم ہوچکا کہ دونوں میں کوئی فر ق و اختلاف نہیں تو اسے یاد رکھنا چاہئے تا کہ مراد حاوی سمجھنے میں لغزش نہ ہو کیوں کہ لوگ ان کا صرف آخر ی ٹکڑا “ اعتبار ، قوت دلیل کا ہے “ نقل کرتے ہیں ، جس سے خیال ہوتا ہے کہ ان کا یہ حکم تمام ہی صورتوں کے لئے ہے ۔

حالاں کہ یہ صرف اس صورت کے لئے ہے جب دو نوں حضرات مخالف اما م ہوں ۔

یہاں علامہ شامی سے کلام جامع الفصولین کی نقل میں اور صاحب در سے کلام حاوی کی نقل میں جو واقع ہوا ور دو نوں میں جو اختصار مخل در آیا

 

فــــ۱  :  ما قدم الامام قاضی خان فھو الاظھر الاشھر ۔

فــــ ۲   لیجتنب النقل بالواسطۃ مھما امکن ۔

الاقتصار المخل یتعین انہ ینبغی مراجعۃ المنقول عنہ اذا وجد فربما ظھر شیئ لا یظھر مما نقل وان کانت النقلۃ ثقات معتمدین فاحفظ وقد قال فی ۲۴شرح العقود بعد نقلہ مافی الحاوی الحاصل انہ اذا اتفق ابو حنیفۃ وصاحباہ علی جواب لم یجز العدول عنہ الا لضرورۃ وکذا اذا وافقہ احدھما واما اذا انفرد عنھما بجواب وخالفاہ فیہ فان فــــــ انفرد کل منھا بجواب ایضا بان لم یتفقا علی شیئ واحد فالظاھر ترجیح قولہ ایضا  [1]۔

اقول وھذہ نفیسۃ افادھا وکم لہ من فوائد اجادھا والا مرکما قال لقول الخانیۃ یأخذ بقول صاحبیہ و

ایسی ہی باتوں کے پیش نظر یہ متعین ہوجاتا ہے کہ منقول عنہ کے موجود اور دستیاب ہونے کی صورت میں اس کی مراجعت کرلینا چاہئے ہوسکتا ہے کہ اس سے کوئی ایسی بات منکشف ہو جو نقل سے ظاہر نہیں ہوتی اگر نقل کر نے والے ثقہ ومعتمد ہیں ، اسے یاد رکھیں ۔

(۲۴)شرح عقود میں حاوی کا کلام نقل کرنے کے بعد تحریر ہے : حاصل یہ کہ جب امام ابو حنیفہ اور صاحبین کسی حکم پر متفق ہو ں تو اس سے عدو ل جائز نہیں مگر ضرورت کے سبب یوں ہی جب صاحبین میں سے ایك ان کے موافق ہوں ۔ لیکن جب امام کسی حکم میں صاحبین سے علیحدہ ہوں اور دونوں حضرات اس میں امام کے بر خلاف ہوں تو اگر یہ بھی الگ الگ ایك ایك حکم رکھتے ہوں اس طر ح کہ کسی ایك بات پر متفق نہ ہو ں تو ظاہر یہی ہے کہ تر جیح قول امام کو ہوگی۔

 اقول : یہ ایك نفیس نکتہ ہے جس کا افادہ فرمایا اور ان کے ایسے عمدہ افادات بہت ہیں ، اور حقیقت وہی ہے جو انہوں نے بیان کی ، اس لئے کہ خانیہ میں ہے ، صاحبین کا قول لیا جائے گا ، اور یہ بھی ہے صاحبین

 

 



[1]    شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور  ۱ / ۲۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن