دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

O وابن خزیمۃ والدارمی والبغوی وابن السکن و ابونعیم وابن بسطۃ عن عبدالرحمن بن عایش والطبرانی عنہ عن صحابی۔
O والبزار عن ابن عمر وعن صحابی
O والطبرانی عن ابی امامۃ۔
Oوابن قانع عن ابی عبیدۃ بن الجراح۔
O والدارقطنی و ابوبکرالنیسابوری فی الزیادات عن انس۔
O وابوالفرج تعلیقا عن ابی ھریرۃ۔
O وابن ابی شیبۃ مرسلا عن عبدالرحمن بن سابط۔  (رضی اللّٰہ تعالی عنہم)

آخر میں فرماتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کے طرق کی تفصیلات اور کلمات کااختلاف اپنی بابرکت کتاب سلطنۃ المصطفٰی فی ملکوت کل الورٰی میں بیان کیا ہے[1]۔ قلم برداشتہ کسی حدیث کے اتنے مآخذ کابیان کردینا معمولی بات نہیں۔

امام احمد رضابریلوی نے یہ فتوٰی رادّ القحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء کے نام سے ماہ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ میں مکمل کیا۔

احمدرضابریلوی نے تخریج احادیث کے آداب پرایك رسالہ لکھا جس کانام ہے : الروض البھیج فی آداب التخریج۔ مولوی رحمن علی اس رسالہ مبارکہ کے بارے میں لکھتے ہیں : “ اگراس سے قبل اس فن میں کوئی کتاب نہیں ملتی تومصنف کو اس فن کاموجد کہہ سکتے ہیں۔ “ [2]

فن اسماء الرجال

ایك سوال پیش ہوا کہ سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے یانہیں؟ چونکہ اس موضوع پر غیرمقلدین کے شیخ الکل میاں نذیرحسین دہلوی ، معیارالحق میں کلام کرچکے تھے ، اس لئے امام احمدرضا بریلوی نے اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی اور ۱۳۴ صفحات پرمشتمل رسالہ حاجز البحرین تصنیف فرمایا۔ رسالہ کیا ہے علمِ حدیث اور علمِ اسماء الرجال کابحرِ مواج ہے ، اس کامطالعہ کرتے وقت غیرمقلدین کے شیخ الکل علم حدیث میں طفلِ مکتب نظر آتے ہیں ، آج تك غیرمقلدین کوعلمِ حدیث کے مدعی ہونے کے باوجود اس کاجواب دینے کی جرأت نہیں ہوسکی۔

امام نسائی حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایك سفر میں حضرت ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے ساتھ تھا وہ تیزی کے ساتھ سفرکررہے تھے ، شفق غروب ہونے والی تھی کہ اترکر نمازِ مغرب ادا کی پھر عشاء کی تکبیر اس وقت کہی جب شفق غروب ہوچکی تھی۔ اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے دونمازیں ایك وقت میں جمع نہیں کیں ، بلکہ صورۃً اور عملاً جمع کیں۔ یہ بات میاں صاحب کے موقف کے خلاف تھی انہوں نے اس پر اعتراض کیا کہ امام نسائی کی روایت میں ایك راوی ولیدبن قاسم ہیں اور ان سے روایت میں خطا ہوتی تھی تقریب میں ہے : صَدُوْقٌ یُّخْطِیئُ۔

اس اعتراض پر امام احمدرضابریلوی نے متعدد وجوہ سے گرفت فرمائی :

۱۔  یہ تحریف ہے ، امام نسائی نے ولید کافقط نام ذکرکیاتھا ، میاں صاحب نے ازراہِ چالاکی اسی نام اور اسی طبقے کاایك راوی متعین کرلیا جو امام نسائی کے راویوں میں سے ہے اور جس پر کسی قدر تنقید بھی کی گئی ہے حالانکہ یہ راوی ولیدبن قاسم نہیں بلکہ ولیدبن مسلم ہیں جو صحیح مسلم کے رجال اور ائمہ ثقات اور حفاظ اعلام میں سے ہیں ، ہاں وہ تدلیس کرتے ہیں ، لیکن اس کاکیانقصان کہ اس جگہ وہ صاف حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ فرمارہے ہیں۔

۲۔  اگرتسلیم بھی کرلیاجائے کہ وہ ابن قاسم ہی ہیں تاہم وہ مستحقِ رَد نہیں امام احمد نے ان کی توثیق کی ہے ، ان سے روایت کی ، محدثین کو ان سے حدیث لکھنے کاحکم دیا۔ ابن عدی نے کہا جب وہ کسی ثقہ سے روایت کریں تو ان میں کوئی عیب نہیں ہے۔

۳۔ صحیح بخاری و مسلم میں کتنے راوی وہ ہیں جن کے بارے میں تقریب میں فرمایا صَدُوْق یُّخْطِئُ ، کیا آپ قسم کھائے بیٹھے ہیں کہ صحیحین کی روایات کو بھی رد کردوگے؟

پھرامام احمدرضا بریلوی نے حاشیہ میں قلم برداشتہ صحیحین کے ۳۱ ایسے راویوں کے نام گنوادئیے$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن