30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــــہ : ھکذا نقل عنھا فی شرح العقود وغیرہ والحسن بالواو وھو مفاد الدر لکن فی نسختی السراجیۃ ثم الحسن والله تعالی اعلم منہ غفرلہ۔
سراجیہ سے شرح عقود وغیرہ میں “ والحسن “ واو کے ساتھ
نقل کیا ہے ۔ یہی درمختار کا بھی مفاد ہے ۔ لیکن میرے نسخے سراجیہ میں ثم الحسن ہے ۔ والله تعالی اعلم غفر لہ لفظ النہر ثم الحسن۔ [1]
اقول : وھو حسن فان مکانۃ زفر ممالا ینکر لکن قال ش الواوھی المشہورۃ فی الکتب اھ [2]ومعنی الترتیب ای اذ الم یجد قول الامام ثم رأیت ۱۱الشامی صرح بہ فی شرح عقودہ حیث قال اذالم یوجد للامام نص یقدم قول ابی یوسف ثم محمد الخ قال والظاھر ان ھذا فی حق غیر المجتھد اما المفتی المجتھد فیتخیر بما یتر جع عندہ دلیلہ [3]۔ اھ
اقول : ای اذالم یجد قول الامام لایتقید بالترتیب فیتبع قول الثانی وان ادی رأیہ الی قول الثالث کما کان لا یتخیر اتفاقا اذا کان مع الامام صاحباہ اواحدھما والذی استظھرہ ظاھر ثم قالا اعنی السراجیۃ
اور نہر میں ثم الحسن ہے (پھر امام حسن)۔
اقول : لفظ نہر “ ثم الحسن “ عمدہ ہے کیونکہ امام زفر کی ان سے برتری ناقابل انکار ہے لیکن علامہ شامی لکھتے ہیں کہ “ واو “ ہی کتا بو ں میں مشہور ہے اھ اور تر تیب مذکور اس صورت میں مقصود ہے جب امام کا قول نہ ملے ،
(۱۱) پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شامی نے شرح عقود میں اس کی صراحت بھی فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں : جب امام کی کوئی نص نہ ملے تو امام ابو یوسف کا قول مقدم ہوگا پھر امام محمد کا۔ الخ ، اور فرماتے ہیں ، ظاہر یہ ہے کہ یہ غیر مجتہد کے حق میں ہے ، رہا مفتی مجتہد تو یہ اسے اختیار کر ے گا جس کی دلیل اس کے نزدیك راجح ہو اھ
اقول : یعنی جب امام کا قول اسے نہ ملے تو وہ تر تیب کا پابند نہیں کہ امام ثانی ہی کے قول کی پیروی کرے اگر چہ اس کا اجتہاد امام ثالث کےقول پر جائے ، جیسے اس صورت میں بالاتفاق اسے اختیار نہیں جب امام کے ساتھ صاحبین یا ان میں سے ایك ہوں ، اور علامہ شامی نے جس کو ظاہر کہہ کر بیان کیا وہ ظاہر ہے پھر سرا جیہ
والنھر وقیل اذاکان ابو حنیفۃ فی جانب و صاحباہ فی جانب فالمفتی بالخیار والاول اصح اذالم یکن المفتی مجتھدا [4]اھ
۱۲وفی التنویر ۱۳والدر (یأخذ) القاضی کالمفتی (بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق) وھو الاصح منیۃ ۱۴وسراجیۃ وصحح فی الحاوی اعتبار قوۃ المدرك والاوّل اضبط ۱۵نھر (ولا یخیر الا اذاکان مجتھدا [5]) اھ ۱۶وفی صدر ط ما ذکرہ المصنف صححہ فی ادب۱۷اطفال[6] اھ ۱۸وفی البحرکما مرقد صححوا ان الافتاء بقول الامام [7]
وقال ش قولہ وھو الا صح مقابلہ مایأتی عن الحاوی وما فی جامع الفصولین من
اور نہر میں یہ بھی ہے : کہا گیا کہ جب امام ابو حنیفہ ایك طرف ہوں او رصاحبین دوسری طرف تو مفتی کو اختیار ہے اور قول اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہواھ
(۱۲۔ ۔ ۔ ۱۵) ۱۲تنویر الا بصار اور ۱۳درمختار میں ہے (عبارت تنویر قوسین میں ہے۱۲م) مفتی کی طر ح قاضی بھی ( مطلقًا قول امام کو لگا ) یہی اصح ہے ۱۴ منیہ وسراجیہ ، اور حاوی میں قوت دلیل کے اعتبار کو صحیح کہا ہے ۔ او رقول اول زیادہ ضبط والا ہے ۱۵نہر (اور تخییر نہ ہوگی مگر جب کہ وہ صاحب اجتہاد ہو)اھ
(۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۱۷) ۱۶طحطاوی کے شرو ع میں ہے ، مصنف نے جو ذکر کیا ہے اسی کو ۱۷ ادب المقال میں صحیح کہا ہے اھ
۱۸بحر میں ہے ، جیسا کہ گزرا ، علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے کہ فتوی قول امام پر ہوگا ، اھ
علامہ شامی لکھتے ہیں عبارت درمختار “ وھو الاصح “ کا مقابل وہ ہے جو حاوی کے حوالے سے آرہا ہے اور وہ جو جامع الفصولین میں ہے
انہ لو معہ احد صاحبیہ اخذ بقولہ وان خالفاہ قیل کذلك وقیل یخیر الا فیما کان الاختلاف بحسب تغیرالزمان کالحکم بظاھر العدالۃ وفیما اجمع المتأخرون علیہ کالمزارعۃ والمعاملۃ فیختارقولھما[8] اھ وفی صدر الدر الاصح کما فی السراجیۃ وغیرھا انہ یفتی بقول الامام علی الاطلاق وصحح فی الحاوی القدسی قوۃ المدرك [9]اھ قال ط قولہ والاصح مقابلہ قولہ بعد وصحح فی الحاوی[10] اھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع