30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : وبالله التوفیق ، ہمارے نزدیك جو مقرراور طے شدہ ہے وہ ہماری بحثوں سے ظاہر ہوگیا ، اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسئلہ میں ان چھ اسباب تغیر سے کوئی رونما ہے یا نہیں ،
اور برتقدیر اول حکم اس سبب کے تحت ہوگا ، اور یہ امام کاقول ضروری ہوگا جس پر مطلقًا اعتماد ہے خواہ ان کا قول صوری ، بلکہ ان کے اصحاب کا قول اور مرجحین کی ترجیحات بھی اس کے موافق ہوں یا نہ ہوں کیونکہ ہمیں یہ معلوم ہے اگر یہ سبب ان حضرات کے زمانے میں رونما ہوتا وہ بھی اسی پر حکم دیتے ، اما م کا قول ضروری ایسا امر ہے جس کے ہوتے ہوئے نہ روایت پر نظر ہوگی نہ تر جیح پر بلکہ وہی مرجحین کا بھی قول ضروری ہے اس میں کسی زمانے کی پابندی بھی نہیں (فلاں زمانے میں سبب رونما ہو تو قول ضروری ہوگا اور فلاں زمانے میں نہ ہوگا ) علامہ شامی کی شر ح عقود میں ہے ، اگر یہ سوال ہو کہ عرف با ربار بدلتا رہتا ہے ، اگر کوئی ایسا عرف پیدا ہوجو زمانہ سابق میں نہ تھا تو کیا مفتی کے لئے یہ رواہے کہ منصوص کی مخالفت کرے
فــــ : حدث وحکم ضروری لاحدی الحوامل الست لایتقید بزمان ۔
واتباع المعروف الحادث؟ قلت نعم فان المتأخرین الذین خالفوا المنصوص فی المسائل المارۃ لم یخالفوہ الا لحدوث عرف بعد زمن الامام فللمفتی اتباع عرفہ الحادث فی الالفاظ العرفیۃ وکذا فی الاحکام التی بناھا المجتہد علی ما کان فی عرف زمانہ وتغیر عرفہ الی عرف اٰخر اقتداء بھم لکن بعد ان یکون المفتی ممن لہ رأی ونظر صحیح ومعرفۃ بقواعد الشرع حتی یمیز بین العرف الذی یجوز بناء الاحکام علیہ وبین غیرہ [1]
قال وکتبت فی ردالمحتارفی باب القسامۃ فیما لوادعی الولی علی رجل من غیر اھل المحلۃ وشھد اثنان منھم علیہ لم تقبل عندہ وقالا تقبل الخ نقل السید الحموی عن العلامۃ المقدسی انہ قال توقفت عن الفتوی بقول الامام ومنعت من اشاعتہ لما یترتب علیہ من الضرر العام فان من عرفہ من المتمر دین یتجاسر علی قتل
اور عرف جدید کا اتبا ع کر ے ؟ میں جواب دو ں گا کہ ہا ں اس لئے کہ گزشتہ مسائل میں جن متا خرین نے منصوص کی مخالفت کی ہے ان کی مخالفت کی وجہ یہی ہے کہ زمانہ امام کے بعد کوئی اور عرف رونما ہوگیا ، تو ان کی اقتدا ء میں مفتی کا بھی یہ حق ہے کہ عرفی الفاظ میں اپنے عرف جدید کا اتباع کرے اسی طر ح ان احکام میں بھی جن کی بنیاد مجتہد نے اپنے زمانے کے عرف پر رکھی تھی او ر وہ عرف کسی اور عرف سے بدل گیا ، لیکن یہ حق اس وقت ملے گا جب مفتی صحیح رائے و نظر اور قواعد شرعیہ کی معرفت کا حامل ہو تا کہ یہ تمیز کرسکے کہ کس عرف پر احکام کی بنیاد ہوسکتی ہے اور کس پر نہیں ہوسکتی ۔
فرماتے ہیں : میں نے رد المحتار باب القسامۃ میں ، اس مسئلہ کے تحت کہ اگر غیر اہل محلہ کے کسی شخص پر قتل کا دعوی ہوا اور اہل محلہ میں سے دو مردوں نے اس پر گواہی دی تو حضرت امام کے نزدیك یہ گواہی قبول نہ کی جائے گی ، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ قبول کی جائے گی الخ ، یہ لکھا ہے کہ سید حموی ، علامہ مقدسی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کابیان ہے کہ میں نے قول امام پر فتوی دینے سے تو قف کیا اور اس قول کی اشاعت سے منع کیا ، کیوں کہ اس سے عام نقصان وضرر پیدا ہوتا ، اس لئے کہ جو سر کش اسے جان لے گا وہ ان محلوں میں جو
النفس فی المحلات الخالیۃ من غیر اھلھا معتمدا علی عدم قبول شہادتھم علیہ حتی قلت ینبغی الفتوی علی قولھما لاسیما والاحکام تختلف باختلاف الایام انتھی [2]
وقالوا اذا زرع صاحب الارض ارضہ ما ھو ادنی مع قدرتہ علی الاعلی وجب علیہ خراج الاعلی قالوا وھذا یعلم ولا یفتی بہ کیلا یتجرأ الظلمۃ علی اخذ اموال الناس قال فی العنایۃ و رد بانہ کیف یجوز الکتمان ولواخذوا کان فی موضعہ لکونہ واجبا ، واجیب بانا لوافتینا بذلك لادعٰی کل ظالم فی ارض لیس شأنھا ذلك انھا قبل ھذا کانت تزرع الزعفران مثلا فیاخذ خراج ذلك وھو ظلم وعدوان [3] انتھی
وکذا فی فتح القدیر قالوا لایفتی بھذا لما فیہ من تسلط الظلمۃ علی اموال المسلمین اذ یدعی کل ظالم ان الارض تصلح لزراعۃ الزعفران ونحوہ
غیر اہل محلہ سے خالی ہوں جان مارنے میں جری اور بے باك ہوجائے گا اس اعتماد پر کہ اس کے خلاف خود اہل محلہ کی شہادت قبول نہ ہوگی ، یہاں تك کہ میں نے یہ کہا کہ فتوی قول صاحبین پر ہونا چاہئے خصوصا جب کہ احکام زمانے کے بد لنے سے بدل جاتے ہیں ، انتہی۔
ائمہ نے فرمایا : جب زمین والا اپنی زمین کے اندر اعلٰی چیز کی کاشت پر قدرت رکھنے کے با وجود ادنی چیز کی کا شت کرے تو اس کے اوپر اعلٰی کا خراج واجب ہوگا ، علماء نے فرمایا : یہ حکم جاننے کا ہے ، فتوی دینے کا نہیں تاکہ ظالم حکام لوگو ں کا مال لینے کی جرات نہ کریں عنایہ میں ہے اس قول پر یہ رد کیا گیا ہے کہ علم کا چھپا نا کیونکر جائز ہوگا جب کہ وہ اگر لے ہی لیں تو بجا ہوگا کیوں کہ یہی واجب ہے ، ا س کے جواب میں یہ کہا گیا کہ اگر ہم اس پر فتوی دے دیں تو ہر ظالم ایسی زمین جو اعلی کے قابل نہ ہو یہ دعوی کرتے ہوئے کہ پہلے تو اس میں زعفران وغیرہ کی کاشت ہوتی تھی ، زعفران کا خراج وصول کرلے گا اور یہ ظلم وعدوان ہوگا ، انتہی ۔
اسی طرح فتح القدیر میں ہے کہ اس پر فتوی نہیں دیا جاتا کیو نکہ اس کے تحت مسلمانوں کے مال پر ظالموں کی چیرہ دستی ہوگی اس لئے کہ ہر ظالم دعوی کرے گا کہ یہ زمین زعفران وغیرہ بوئے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے ، او ر اس ظلم کا
وعلاجہ صعب انتھی فقد ظھرلك ان جمود المفتی او القاضی علی ظاھر المنقول مع ترك العرف والقرائن الواضحۃ والجھل باحوال الناس یلزم منہ تضییع حقوق کثیرۃ وظلم خلق کثیرین [4]اھ
[1] شرح عقود رسم المفتی من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۵
[2] شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۷
[3] شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۶ ، و ۴۷
[4] شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع