30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : فــــ ۴ مبنی علی الذھول عن فرق الموجب فی حقنا وحقھم اقول اولا : امام کو ان سے بھی زیادہ علم ہے او ران سے اعلم سے اعلم سے بھی زیادہ ، تو زیادہ قابل اعتماد کون ہے ؟
ثانیا : مقدمہ دوم ملاحظہ ہو ، ان کے حق میں دلیل تفصیلی ہے جو انہیں نہ ملی ، اور ہمارے حق میں اجمالی ہے جو ہمارے پاس موجود ہے تو کیسے ہم ان کی پیروی کریں اور دلیل چھوڑ کر فقدان دلیل کی طرف جائیں ؟
علامہ شامی : یہ بات کیسے کہی جاتی ہے کہ ہمارے اوپر قول امام پر ہی فتوی دیناواجب ہے اس لئے کہ ہمارے حق میں (قول امام پر افتا ء کی) شرط مفقود ہے حالاں کہ یہ بھی اقرار ہے کہ وہ شرط مشائخ کے حق میں بھی مفقود ہے ۔
اقول : یہ محض ایك شبہ ہے جسے ہم مقدمہ سوم میں منکشف کرآئےہیں۔ علامہ شامی : توکیا یہ خیال ہے کہ ان حضرات نے کسی ناروا امر کا ارتکاب کیا؟
اقول : واجب کرنے والی چیز ہمارے حق میں اور ہے ان کے حق میں اور ، اعتراض مذکور اسی
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
فــــ ۴ : معروضۃ علیہ
وان شئت الجمع مکان الفرق فالجامع ان کل من فارق الدلیل فقد اتی منکرا فدلیلنا قول امامنا وخلافنا لہ منکر ودلیلھم ماعن لھم فی المسألۃ فمصیرھم الیہ لاینکر ۔
قولہ وقد مشی علیہ الشیخ علاؤالدین [1]۔
اقول : انما فـــ۱ مشی فی صدرالکتاب وفی کتاب القضاء معا علی ان الفتوی علی قول الامام مطلقًا کما سیأتی وقولہ اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ فما خوذ من التصحیح کما افد تموہ فی ردالمحتار [2] وقد کان صدر کلام الدر ھذا وحاصل ماذکرہ الشیخ قاسم فی تصحیحہ[3] الخ وقد علمت ماھو مراد التصحیح الصحیح والحمد لله علی حسن التنقیح ۔
فرق سے ذہول پر مبنی ہے ، اگر مقام فر ق کو جمع کرنا چاہیں تو جامع یہ ہے کہ جو بھی دلیل سے الگ ہوا وہ منکر وناروا کا مرتکب ہوا ، اب ہماری دلیل ہمارے اما م کا قول ہے او رہمارے لئے اس کی مخالفت ناروا ہے ، اور ان حضرات کی دلیل وہ ہے جو کسی مسئلہ میں ان پر منکشف ہو ، تو اس دلیل کی طرف ان کا رجوع نارو ا نہیں ۔
علامہ شامی : اسی پر شیخ علاء الدین گام زن ہیں
اقول : در مختار کے شروع میں اور کتاب القضاء میں دونوں جگہ وہ اسی پر گام زن ہیں کہ فتوی مطلقًا قول امام پر ہے جیساکہ آگے ان کا کلام آرہا ہے ، رہی ان کی یہ عبارت “ اما نحن فعلینا اتباع مار جحوہ ، ہمیں تو اسی کی پیروی کرنی ہے جسے ان حضرات نے راجح قرار دیا “ تو یہ تصحیح علامہ قاسم سے ماخوذ ہے جیسا کہ رد المحتار میں آپ نے افادہ فرمایا خود درمحتار ابتدائے کلام اسی طر ح ہے اور اس کا حاصل جو شیخ قاسم نے انپی تصحیح میں بیان کیا الخ عبارت تصحیح کا صحیح مطلب کیا ہے یہ پہلے معلوم ہوچکا ہے ، اس خوبی تنقیح پر ساری حمد خداہی کے لئے ہے ۔
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
اتینا علی ماوعدنا من سرد النقول علی اقصدنا۔
اقــول : وبالله التوفیق ، ما ھوالمقرر عند ناقد ظھر من مباحثنا وتفصیلہ ان المسألۃ اما ان یحدث فیھا شیئ من الحوامل الست اولا
علی الاول الحکم للحامل وھو قول الامام الضروری المعتمد علی الاطلاق سواء کان قولہ الصوری بل وقول اصحابہ وترجیحات المرجحین موافقالہ اولا علما منا ان لوحدث ھذا فی زمانھم لحکموا بہ فقول الامام الضروری شیئ لانظر معہ الی روایۃ ولا ترجیح بل ھوالقول الضروری للمرجحین ایضا فـــــ ۱ولا یتقید ذلك بزمان دون زمان قال فی شرح العقود فان قلت العرف یتغیر مرۃ بعد مرۃ فلو حدث عرف اٰخرلم یقع فی الزمان السابق فھل یسوغ للمفتی مخالفۃ المنصوص
اب ہم اپنے مقصودوموعود ، ذکر نقول ونصوص پر آتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع