دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

تو حد ہوگی ، اسی پرفتوی ہے ، خلاصہ لیکن تمام شروح میں تر جیح یافتہ قول امام ہی ہے تو اس پر فتوی اولی ہے ، یہ علامہ قاسم نے اپنی تصحیح میں لکھا لیکن قہستانی میں مضمرات سے نقل ہے کہ صاحبین ہی کے قول پر فتوی ہے۔ اھ

علامہ شامی فرماتے ہیں انکے لفظ “ تمام شروح “ پر یہ استدارك ہے اس لئے کہ مضمرات بھی شرو ح میں سے ہے ، اس پر کلام یہ ہے کہ جو عامہ شرو ح میں ہے مقدم وہی ہوگا ۔

یہا ں کتب فتاوی نے فتوی قول صاحبین پر رکھا ، بعض معتمد شروح نے بھی ان کی موافقت کی مگر اسے قبول نہ کیا گیا اس لئے کہ عامہ شروح نے دلیل امام کو ترجیح دی ۔ رہ گئی پہلی صورت (کہ دیگر مشائخ بھی اس مفتی کے ہم نوا ہیں جس نے بتایا کہ فتوی امام کے علاوہ کسی اور کے قول پر ہے ) یہ بلا شبہ مسلم ہے ، اور اس کا وجود ان ہی چھ صورتوں میں سے کسی ایك میں ہوگا ، اس صورت میں خود قول امام کی جانب رجوع ہوتا ہے ، اس سے انحراف نہیں ہوتا جیسا کہ معلوم ہوا ۔

ثانیا :  بطرز دیگر ، بتائے کہ اگر امام نے کوئی

 

فــــ ۱ :  معروضۃ علیہ

الامام قولا وخالفہ احد صاحبیہ ولا روایۃ عن الاٰخر فافتی احد من المشائخ بقول الصاحب فان وافقہ الباقون فقد مر اوخالفوہ فظاھر وکذا ان خالف بعضھم ووافق بعضھم لمامر فی السابعۃ

اما ان لم یرد عن الباقیین شیئ وھی الصورۃ التی انکرنا وقوعھا فھل یجب ح اتباع تلك الفتوی ام لا علی الثانی این قولکم علینا اتباع ما صححوہ کمالو افتوا فی حیاتھم فان فتوی الحیاۃ واجبۃ العمل علی المستفتی وانکان المفتی واحدا لم یخالفہ غیرہ ولیس لہ التوقف عن قبولھا حتی یجتمعوا اویکثروا

وعلی الاول لم یجب العدول عن قول الامام الی قول صاحبہ الا لترجح رأی صاحبہ بانضمام رأی                      

با ت کہی او رصاحبین میں سے ایك نے ان کی مخالفت کی ، دو سرے سے کوئی روایت نہ آئی اب مشائخ میں سے کسی نے اس ایك صاحب کے قول پر فتوی دیا ، تو اگر باقی مشائخ نے بھی موافقت فرمائی تو اس کا بیان گزرا یا د یگر حضرات نے مخالفت فرمائی تو اس کا حال ظاہر ہے ۔ یوں ہی اگر بعض نے مخالفت کی اور بعض نے موافقت کی ، وجہ مقدمہ سابعہ میں بیان ہوئی ،

لیکن اگر با قی حضرات سے کچھ وارد ہی نہ ہو ا یہی وہ صورت ہے جس کے وقوع سے ہم نے انکار کیا ، تو اس وقت اس فتوے کا اتباع واجب ہے یا نہیں ؟ بر تقدیر ثانی آپ کا وہ قول کہاں گیا کہ ہمارے ذمہ اسی کی پیروی ہے جسے مشائخ نے صحیح قرار دے دیا جیسے اس صورت میں ہوتا جب وہ ہمیں اپنی حیات میں فتوی دیتے اس لئے کہ زندگی کا فتوی مستفتی پر واجب العمل ہے اگرچہ مفتی ایك ہی ہو ، جس کا دوسرا کوئی مخالف نہ ہو ، اور مستفتی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس فتوے کو قبول کرنے سے تو قف کر ے یہاں تك کہ سب فتوی دینے والے مجتمع ہوجائیں یا کثیر ہوجائیں تب مانے۔

بر تقدیر اول (یعنی قول امام کو چھوڑ کر دیگر کو ترجیح دینے والے فتوے کی اتباع واجب ہے ) قول اما م چھوڑ کر ان کے شاگرد کے قول کو لینا کیوں واجب ہوا؟صرف اس لئے کہ

ھذا المفتی الیہ اذلیس ھذا الافتاء قضاء یرفع الخلاف بل ولا افتاء مفت لمن اتاہ من مستفت انما حاصلہ ان الرأی الفلانی ارجح عندی  ،  فاذن ترجح رأی احد الصاحبین بانضمام رأی الاٰخرا علی واعظم لان کلامنھما اعلم واقدم من جمیع من جاء بعدھما من المرجحین فکل ما خالف فیہ الامام صاحباہ وجب فیہ ترك قولہ الی قولھما وھو خلاف الاجماع  ،

وثالثا علی فــــ التسلیم معکم ابن الشلبی وانظرو امن معنا اٰخر الکلام

قولہ فلیس للقاضی ان یحکم بقول غیرا بی حنیفۃ فی مسألۃ لم یرجح فیھا قول غیرہ ورجحوا فیھا دلیل ابی حنیفۃ علی دلیلہ [1]۔

ان کے شاگرد کی رائے اس مفتی کی رائے سے مل کر راجح ہوگئی ، کیونکہ یہ فتوی کوئی اختلاف ختم کرنے والا فیصلہ قاضی نہیں ، بلکہ اس کی حیثیت اس افتا کی بھی نہیں جو آکر سوال کرنے والے کسی مستفتی کے لئے کسی مفتی سے صادر ہوا ، اس فتوے کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ فلاں رائے میرے نزدیك زیادہ راجح ہے جب ایسا ہے تو اگر صاحبین میں سے ایك صاحب کی رائے کے ساتھ دو سرے صاحب کی رائے بھی مل جائے تو اس کا راجح ہونا (کسی بعد کے مفتی کی رائے ملنے والی صورت کی بہ نسبت) زیادہ بالا تر اور عظیم تر ہوگا ، اس لئے کہ صاحبین میں سے ہر ایك اپنے بعد آنے والے تمام مرجحین سے زیادہ علم والے اور زیادہ مقدم ہیں تو یہ کہئے کہ جہاں بھی صاحبین نے امام کی مخالفت کی ہو وہاں امام کا قول چھوڑ کر صاحبین کا قول لینا واجب ہے ، یہ خلاف اجماع ہے (کوئی اس کا قائل نہیں )

ثالثا : بر تقدیر تسلیم آپ کے ساتھ صر ف ابن ا لشلبی ہیں ، او رآخر کلام میں دیکھئے ہمارے ساتھ کون لوگ ہیں۔
علامہ شامی : قاضی کو غیر امام کے قول پر کسی ایسے مسئلہ میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں جس میں غیر امام کے قول کو تر جیح نہ دی گئی ہو او رخود امام ابو حنیفہ کی دلیل کو دوسرے کی دلیل پر تر جیح ہو ۔

فــــ  :  معروضۃ علیہ

 



[1]   شرح عقود رسم المفتی ، رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۲۹ / ۱

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن