دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

اقول  :  اولا رحمك الله  فـــ ۱  ارأیت انکان الامام حیا فی الدنیا وھؤلاء احیاء وافتی وافتوا ایاکنت تقلد

وثانیا فــ ۲ انما کلام العلامۃ فیما فیہ الرجوع الی فتوی المشائخ حیث لاروایۃ عن الامام اواختلف الروایۃ عنہ او وجد شیئ من الحوامل الست المذکورۃ فی الخامسۃ فانہ عین تقلید الامام۔  

وانا آت فــ ۳ علیہ ببینۃ عادلۃ منکم ومن نفس العلامۃ قاسم فھو اعلم بمرادہ قلتم فی شرح فــ۴ عقودکم قال العلامۃ المحقق الشیخ قاسم فی تصحیحہ ان المجتھدین لم یفقدوا حتی                                        

علامہ شامی : بقول علامہ قاسم جیسے ان حضرات کی اپنی حیات میں فتوی دینے کی صورت میں ہوتا ۔

اقول : اولا خدا آپ پررحم فرمائے ، بتائے اگر امام دنیا میں باحیات ہوتے اور یہ حضرات بھی با حیات ہوتے ، پھر امام بھی فتوی دیتے اور یہ بھی فتوی دیتے تو آپ کس کی تقلید کرتے ؟

ثانیا : علامہ قاسم کا کلام صرف ان مسائل سے متعلق ہے جن میں فتوے مشائخ کی جانب ہی رجوع کرنا ہے اس لئے کہ ان مسائل میں امام سے کوئی روایت ہی نہیں ، یا امام سے روایت مختلف آئی ہے ، یا ان چھ اسباب میں سے کوئی سبب موجود ہے جن کا ذکر مقدمہ پنجم میں گزرا کہ یہ تو خود اما م ہی کی تقلید ہے ۔

میں اس پر آپ ہی کی اور خود علامہ قاسم کی شہادت عادلہ پیش کرتا ہوں انہیں اپنی مراد کا زیادہ علم ہے شرح عقود میں آپ رقم طر از ہیں کہ علامہ محقق شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں لکھا ہے مجتہدین ہمیشہ ہوتے رہے یہاں تك کہ انہوں نے

 

فــــ ۱ :  معروضۃ علیہ

فــــ ۲ :  معروضۃ علیہ

فــــ ۳ :  معروضۃ علیہ

فــــ ۴ :  معنی کلام العلامۃ قاسم علینا اتباع ما رجحوہ

نظر وافی المختلف و رجحو او صححوا فشہدت مصنفاتھم بترجیح قول ابی حنیفۃ والاخذ بقولہ الافی مسائل یسیرۃ اختاروا الفتوی فیھا علی قولھما او قول احدھما وانکان الاٰخر مع الامام کما اختاروا قول احمدھما فیما لانص فیہ للامام للمعانی التی اشار الیھا القاضی بل اختاروا قول زفرفی مقابلۃ قول الکل لنحو ذلك وترجیحا تھم وتصحیحا تھم باقیۃ فعلینا اتباع الراجح والعمل بہ کما لوافتوافی حیاتھم [1] اھ

وکلام الامام القاضی سیأتی عند سرد النقول بتوفیق الله  تعالی صرح فیہ ان العمل بقولہ رضی الله  تعالی عنہ وان خالفاہ الالتعامل بخلافہ او تغیرالحکم بتغیر الزمان                                                

مقام اختلاف میں نظر کر کے تر جیح وتصحیح کاکام سرانجام دیا ، ان کی تصنیفات شاہد ہیں کہ تر جیح امام ابو حنیفہ ہی کے قول کو حاصل ہے اور ان ہی کا قول ہر جگہ لیا گیا ہے ؛مگر صرف چند مسائل ہیں جن میں ان حضرات نے صاحبین کے قول پر ، یا صاحبین میں سے کسی ایك کے قول پر ، اگرچہ دوسرے صاحب امام کے ساتھ ہوں فتوٰی اختیار کیا ہے جیسے انہوں نے صاحبین میں سے کسی ایك کا قول اس مسئلے میں اختیار کیا ہے جس میں امام سے کوئی صراحت وارد نہیں ، اس اختیار کے اسباب وہی ہیں جن کی جانب قاضی نے اشارہ کیا ، بلکہ کسی ایسی ہی وجہ کے تحت انہوں نے سب کے قول کے مقابلہ میں امام زفر کا قول اختیار کیا ہے ، ان حضرات کی ترجحیں اور تصحیحیں آج بھی باقی ہیں تو ہمارے ذمے یہی ہے کہ راجح کی پیر وی کریں او راسی پر کا ربند ہوں جیسے ان حضرات کے اپنی حیات میں ہمیں فتوے دینے کی صورت میں ہوتا ، اھ۔

امام قاضی کا کلام جلد ہی بیان نقول کے سلسلے میں بتو فیقہ تعالی آرہا ہے ، اس میں یہ تصریح ہے کہ عمل قول امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر ہوگا اگرچہ صاحبین ان کے خلاف ہو ں مگر اس صورت میں جب کہ تعامل اس کے بر خلاف ہو یا تغیر زمان کی وجہ سے حکم بدل گیا ہو

فتبین ولله  الحمد ان قول العلامۃ قاسم علینا اتباع مارجحوہ انما ھو فیما لانص فیہ للامام ویلحق بہ ما اختلف فیہ الروایۃ عنہ اوفی احدے الحوامل الست فاحفظہ حفظا جیدا ففیہ ارتفاع الحجب عن آخرھا ولله  الحمد حمدا کثیرا طیبامبارکا فیہ ابدا وھذہ عبارۃ العلامۃ قاسم التی اوردھا السید ھھنا ملتقطا من اولہا واٰخر ھا لو تأملھا تما مالما کان لیخفی علیہ الامر وکثیرا ما تحدث امثال الامور لاجل الاقتصار وبالله  العصمۃ ۔

وثالثا  علی فــــ۱ فرض الغلط لواراد العلامۃ قاسم ما تریدون لکان محجوجا بقول شیخہ المحقق حیث اطلق الذی نقلتموہ وقبلتموہ من ردہ مرارا وعلی                    

تو بحمد ہ تعالی یہ روشن ہوگیا کہ علامہ قاسم کا ارشاد (ہمارے ذمہ اسی کی پیروی ہے جسے ان حضرات نے راجع قرار دے دیا ) صرف اس صورت سے متعلق ہے جس میں امام سے کوئی صراحت وارد نہ ہو ، او ر اسی سے ملحق وہ صورت بھی ہے جس میں امام سے روایت مختلف آئی ہو یا ان چھ اسباب میں سے کوئی ایك موجود ہو اسے خوب اچھی طر ح ذہن نشین کر لینا چاہئے اس لئے کہ اس سے سارے پردے بالکل اٹھ جاتے ہیں ، اور خدا ہی کے لئے حمد ہے کثیر ، پاکیزہ ، بابرکت ، دائمی حمد ۔ علامہ قاسم کی عبارت جو علامہ شامی نے اس مقام پر اول اقتصار کی وجہ سے پیدا ہوجاتا ہے ، وبالله  العصمۃ ، اور محفو ظ رکھنا خدا ہی سے ہے ۔

ثالثا : بفرض غلط اگر علامہ قاسم کا مقصود وہی ہوتاجو آپ مراد لے رہے ہیں تو یہ ان کے استا د محقق علی الاطلاق کے اس ارشاد کے مقابلہ میں مرجوع ہوتا جسے آپ نے بھی نقل کیا او رقبول کیا کہ انہوں نے قول صاحبین پر افتا کے

 

 



[1]    شرح عقود رسم المفتی ، رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور۱ / ۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن