دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

عدم جواز صراحۃ واضح ہے (اور بحر میں فتوائے عرف کا وجوب مذکور ہے )اب رہا یہ کہ ایك ہی چیز سے دوسری چیز کی حرمت وحلت دونوں کیسے پیداہوسکتی ہیں ؟ اس کی تحقیق ہم مقدمہ سوم میں کر آئے ہیں ۔

خیر رملی : ہم یہ کہتے ہیں کہ غیر اہل اجتہاد سے جو حکم صادر ہوتا ہے وہ حقیقۃ افتا نہیں ۔

اقول : آپ کی اسی عبارت میں اعتراض کا جواب بھی تھا ، اگر آپ نے التفا ت فرمایاہوتا ،

خیر رملی ، وہ تو امام مجتہد سے صرف نقل و حکایت ہے ۔

اقول :  ایسا نہیں ملاحظہ ہو مقدمہ اول خیر رملی : غیر امام کے قول کی نقل وحکایت بھی جائز ہے۔

اقول : نقل وحکایت سے کوئی رکاوٹ نہیں اگر چہ مذہب سے باہر کسی کا قول ہو ، یہاں گفتگو تقلید سے متعلق ہے ، اور مجتہد مطلق

 

فــــ ۱  :  تطفل علی الخیر وعلی ش
فــــ
۲  :  تطفل علی الخیر وعلی ش
فــــ
۳  :  تطفل علی الخیر وعلی ش

المطلق احق بہ ممن دونہ فلم لا تجیزون الافتاء باقوال الائمۃ الثلثۃ بل ومن سوی الاربعۃ رضی الله  تعالٰی عنھم فان اجزتم ففیم التمذھب وتلك المشاجرات بل سقط المبحث رأساوانھدام النزاع بنفس النزاع کما سیأتی بیانہ ان شاء الله  تعالی ۔

قولہ فکیف یجب علینا الافتاء بقو ل الا مام ۔  

اقول :   لانا فــــ ۱  قلدناہ لامن سواہ وقد اعترف فـــ ۲ بہ السید الناقل فی عدۃ مواضع منھا صدر ردالمحتار قبیل رسم المفتی [1] اناالتزمنا تقلید

                                                اپنے سے فر و تر حضرات سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی تقلید کی جائے ، پھر آپ ائمہ ثلاثہ (مالك وشافعی واحمد رحمہم الله  تعالی) بلکہ ائمہ اربعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے علاوہ دیگر ائمہ کے اقوال پر فتوٰی دینے کو جائز کیوں نہیں کہتے ؟ اگر آپ اجازت دیتے ہیں تو مذہب امام کی پابندی کس بات میں ؟ اور یہ سارے اختلافات کیسے ؟ بلکہ صرف اس نزاع ہی سے سارا نزاع ختم اور وہ پوری بحث ہی سرے سے ساقط ہوگئی ، جیسا کہ اس کی وضاحت ان شاء الله  تعالی آگے آئے گی۔ خیررملی تو قول امام پر فتوی دینا ہم پر واجب کیسے ؟

اقول : اس لئے کہ تقلید ہم نے انہی کی کی ہے دوسرے کی نہیں ، اور سید ناقل (علامہ شامی)نے تو متعد د مقامات پر خود اس کا اعتراف کیا ہے ، ان میں دو مقام یہ ہیں ، (۱) رسم المفتی سے ذرا پہلے شرو ع رد المحتار میں لکھتے ہیں ، ہم 

فـــــ ۱ :  تطفل علی الخیر وعلی ش

فـــــ ۲ : علامہ شامی فرماتے ہیں ہم نے صرف تقلید امام اعظم اپنے اوپر لازم کی ہے ، نہ کسی اور کی ولہذا ہمارا مذہب حنفی کہا جاتا ہے نہ یوسفی وغیرہ امام ابویوسف کی نسبت وغیرہ سے۔

مذھبہ دون مذھب غیرہ ولذا نقول ان مذھبنا حنفی لایوسفی ونحوہ[2] اھ ای الشیبا نی نسبۃ الی ابی یوسف او محمد رضی الله  تعالی عنھم وقال فی شرح العقود الحنفی انما قلد ابا حنیفۃ ولذا نسب الیہ دون غیرہ[3] اھ

قولہ وانما نحکی فتواھم لاغیر [4]۔

اقول :   سبحن الله  فـــ ۱بل انما نقلد امامنا لاغیر ثم فـــ ۲ لیس افتاؤنا عندکم الاحکایۃ قول غیرنا فمن ذالذی حرم علینا حکایۃ قول امامنا و اوجب حکایۃ قول غیرہ من اھل مذھبنا

                                                نے انہی کے مذہب کی تقلید کا التزام کیا ہے دو سرے کے مذہب کا نہیں ۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب حنفی ہے ، یوسفی وغیرہ نہیں ، یعنی شیبانی بھی نہیں ، یہ امام ابو یوسف اور امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی طر ف نسبت ہے ، (۲) شرح عقود میں لکھتے ہیں ، حنفی نے بس امام ابو حنیفہ کی تقلیدکی ہے ، اسی لئے وہ انہی کی طر ف منسوب ہوتا ہے کسی اور کی طر ف نہیں ، خیر رملی حالاں کہ ہم تو صرف فتوائے مشائخ کے ناقل ہیں کچھ اورنہیں۔

 



[1]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن