30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بل بالسؤال والعمل بما یقولہ الامام غیر باحثین عن دلیل سوی الاحکام فان کان العدول للوجوہ السابقۃ اشترك فیہ الخواص و العوام اذ لا عدول حقیقۃ بل عمل بقول الامام وانکان لدعوی ضعف الدلیل اختص بمن یعرفہ و لذا قال فی البحر قد وقع للمحقق ابن الھمام فی مواضع الرد علی المشائخ فی الافتاء بقولہما بانہ لایعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ لکن ھو (ای المحقق) اھل للنظر فی الدلیل ومن لیس باھل للنظر فیہ فعلیہ الافتاء بقول الامام اھ [1]
السابعۃ فـــ اذا اختلف التصحیح تقدم قول الامام الاقدم فی ردالمحتار قبل ما یدخل فی البیع تبعا اذا اختلف
حکم نہیں بلکہ ہم اس کے مامور ہیں کہ احکام کے سوا کسی دلیل کی جستجو اور چھان بین میں نہ جاکر صرف قول امام دریافت کریں اور اس پر کاربند ہوجائیں ، اب اگر قول امام سے عدول و انحراف سابقہ چھ وجہو ں کے تحت ہے تو اس میں خواص وعوام سب شریك ہیں کیونکہ حقیقۃ یہاں انحراف نہیں بلکہ قول امام پر عمل ہے اور اگر ضعف دلیل کے دعوے کی وجہ سے انحراف ہو تو یہ اہل معرفت سے خاص ہے ، اسی لئے بحر میں رقم طراز ہیں کہ محقق ابن الہما م کے قلم سے متعد د مقامات پر قول صاحبین پر فتوی دینے کی وجہ سے مشائخ کا رد ہو اہے وہ لکھتے ہیں کہ قول امام سے انحراف نہ ہوگا بجز اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو ، لیکن وہ محقق موصوف دلیل میں نظر کی اہلیت رکھتے ہیں ، جو اس کا اہل نہ ہو اس پر تو یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوے دے اھ۔
مقدمۂ ہفتم : جب تصحیح میں اختلاف ہو تو امام اعظم کا قول مقدم ہوگا “ رد المحتا ر “ “ مایدخل فی البیع تبعا “ (بیع میں تبعا داخل ہونے والی چیزوں کا بیان ) سے
فـــ : عند اختلاف تصحیح یقدم قول الامام
التصحیح اخذ بما ھو قول الامام لانہ صاحب المذھب [2] اھ
وقال فی الدر فی وقف البحر وغیرہ متی کان فی المسألۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما[3] اھ فقال العلامۃ ش لا تخییر لوکان احدھما قول الامام والاٰخر قول غیرہ لانہ لما تعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام بل فی شہادات الفتاوی الخیریۃ المقرر عندنا انہ لایفتی ولا یعمل الا بقول الامام الاعظم ولا یعدل عنہ الی قولہما او قول احدھما او غیرھما الالضرورۃ کمسألۃ المزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما لانہ صاحب المذھب والامام المقدم[4] اھ
ومثلہ فی البحر پہلے یہ تحر یر ہے : جب تصحیح میں اختلاف ہو تو اسی کو لیا جائے گا جو امام کا قول ہے اس لئے کہ صا حب مذہب وہی ہے اھ ۔
د ر مختار میں ہے کہ ، البحر الرائق کتاب الوقف وغیرہ میں لکھا ہوا ہے کہ جب کسی مسئلہ میں دو قول تصحیح یا فتہ ہوں تودونوں میں سے کسی پر بھی قضا وافتا جائز ہے اھ ، اس پر علامہ شامی نے لکھا کہ یہ تخییر اس صورت میں نہیں جب دونوں قولوں میں ایك قول امام ہو اور دوسرا کسی اور کا قول ہو. اسلئے کہ جب دو نوں تصحیحوں میں تعا رض ہوا تو دونوں ساقط ہوگئیں اب ہم نے اصل کی جانب رجوع کیا ، اصل یہ ہے کہ قول امام مقدم ہوگا بلکہ فتا وی خیر یہ کتاب الشھادات میں ہے کہ ہمارے نزدیك طے شدہ امر یہ ہے کہ فتوی او ر عمل امام اعظم ہی کے قول پر ہوگا اسے چھوڑ کر صاحبین یا ان میں سے کسی ایك ، یا کسی اور کا قول اختیار نہ کیا جائے گا بجز صورت ضرورت کے ، جیسے مسئلہ مزار عت میں ہے ، اگرچہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہو کہ فتو ی قول صاحبین پر ہے ، اس لئے کہ وہی صاحب مذہب اور امام مقدم ہیں اھ ، اسی کے مثل بحر میں
وفیہ یحل الافتاء بقول الامام بل یجب وان لم یعلم من این قال[5] اھ
اذا عرفت ھذا وضح لك کلام البحر وطاح کل ما ردبہ علیہ وان شئت التفصیل المزید ، فالق السمع وانت شھید
قول ش رحمہ الله تعالی لا یخفی علیك مافی ھذا الکلام من عدم الانتظام[6]
اقول : بل ھو متسق النظام اٰخذ بعضہ بحجز بعض کما ستری ،
قول العلامۃ الخیر قولہ مضاد لقول الامام[7]
[1] بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۷۰
[2] ردالمحتار کتاب البیوع دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۳
[3] الدر المختار رسم المفتی مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴
[4] الدر المختار رسم المفتی دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۹
[5] البحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
[6] البحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۹
[7] شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع