30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فـاقول : ھذا فــــ غیر معقول ولا مقبول وکیف یظھر ضعف دلیلہ فی الواقع لضعفہ فی نظر بعض مقلدیہ وھؤلاء اجلۃ ائمۃ الاجتھاد المطلق مالك والشافعی واحمد ونظراؤھم رضی الله تعالی عنہم
اصطلاح محدثین والی صحت مراد نہیں ، جیساکہ میں نے الفضل الموھبی میں اسے ایسے قاہر دلائل سے بیان کیا ہے جن سے آگاہی ضروری ہے۔
علامہ شامی فرماتے ہیں ، جب اہل مذہب نے دلیل میں نظر کی او ر اس پر کار بند ہوئے تو مذہب کی جانب اسے منسوب کرنا بجا ہے اس لئے کہ یہ صاحب مذہب کے اذن ہی سے ہوا کیونکہ انہیں اگر اپنی دلیل کی کمزوری معلوم ہوتی تو یقینا وہ اس سے رجوع کر کے اس سے زیادہ قوی دلیل کی پیروی کرتے اسی لئے جب بعض مشائخ نے صاحبین کے قول پر فتوی دیا تو محقق ابن الہمام نے ان کی تردید فرمائی کہ امام کے قول سے انحراف نہ ہوگا سوا اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو۔
اقول : یہ ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے بعض مقلدین کی نظر میں دلیل کے کمزور ہونے سے دلیل امام کا فی الواقع کمزور ہونا کیسے ظاہر ہوسکتا ہے ؟ اجتہاد مطلق کے حامل یہ بزرگ ائمہ مالك ، شافعی ، احمد اور ان کے ہم پایہ حضرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش
یطبقون کثیرا علی خلاف الامام وھو اجماع منھم علی ضعف دلیلہ ثم لا یظھر بھذا ضعفہ ولا ان مذھب ھؤلاء مذھبہ فکیف بمن دونھم ممن لم یبلغ رتبتھم نعم ھم عاملون فی نظرھم بقولہ العام فمعذرون بل ماجورون ولا یتبدل فــــــ بذلك المذھب الاتری ان تحدیدا الرضاع بثلثین شھرا دلیلہ ضعیف بل ساقط عند اکثرالمرجحین ولا یجوز لاحدان یقول الاقتصار علی عامین مذھب الامام وتحریم حلیلۃ الاب والابن رضاعا نظر فیہ الامام البالغ رتبۃ الاجتھاد المحقق علی الاطلاق وزعم ان لا دلیل علیہ بل الدلیل قاض بحلھما ولم ارمن اجاب عنہ وقد تبعہ علیہ ش فھل یقال ان تحلیلھما مذھب الامام
بار ہا مخالفت امام پر متفق نظر آتے ہیں یہ ان حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس جگہ دلیل امام کمزور ہے ، پھر بھی اس سے واقعۃ اس کا کمزور ہونا ثابت نہیں ہوتا ، نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان حضرات کا جو مذہب ہے وہی امام کا بھی مذہب ہے ، جب ان کا یہ معاملہ ہے تو ان کا کیا حکم ہوگا جو ان سے فر و تر ہیں جنہیں ان کے منصب تك رسائی حاصل نہیں؟ ہاں وہ اپنی نظر میں امام کے قول عام پر عامل ہیں اس لئے معذور بلکہ ماجورا ور مستحق ثواب ہیں مگراس وجہ سے مذہب امام بدل نہ جائے گا ، دیکھئے مدت رضاعت تیس ماہ ٹھہرانے کی دلیل اکثر مرجحین کے نزدیك ضعیف بلکہ ساقط ہے پھر بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ دوسال پر اکتفا کرنا ہی مذہب امام ہے ، یوں ہی رضاعی باپ اور رضاعی بیٹے کی بیوی کے حرام ہونے کے حکم میں رتبہ اجتہاد تك رسائی پانے والے امام محقق علی الاطلاق کو کلام ہے ، ان کا خیال ہے کہ اس پر کوئی دلیل نہیں بلکہ دلیل یہ حکم کرتی ہے کہ دو نوں حلال ہیں ، میں نے اس کلام کا جواب کسی کتاب میں نہ دیکھا ، علامہ شامی نے بھی انہی کی پیروی کی ہے ، پھر بھی کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں کی حلت ہی مذہب امام
فــــــ : لایتبدل المذھب بتصحیحات المرجحین خلافہ۔
کلابل بحث من ابن الھمام ،
ولیس فـــ ۱ فیما ذکر عن ابن الھمام المام الی ما ادعی من صحۃ جعلہ مذھب الامام انما فیہ جواز العدول لھم اذا استضعفوا دلیلہ واین ھذا من ذاک۔
نعم فی الوجوہ السابقۃ تصح النسبۃ الی المذھب لاحاطۃ العلم بانہ لو وقع فی زمنہ لقال بہ کما قال فی التنویر لمسألۃ نھی النساء مطلقًا عن حضور المساجد علی المذھب وھذہ نکتۃ غفل فـــ ۲ منھا المحقق ش ففسر المذھب مذھب المتأخرین ھذا واما نحن فلم نؤمر لابا عتبار کاولی الابصار
ہے ؟ہر گز نہیں ! بلکہ یہ صرف ابن الہمام کی ایك بحث ہے ۔
علامہ شامی نے جو دعوی کیا کہ صاحب نظر جس پر عمل کر لے اسے مذہب امام قرار دینا بجا ہوگا اس کا امام ابن الہمام سے نقل کردہ کلام میں کوئی اشارہ بھی نہیں اس میں تو بس اس قدر ہے کہ اہل نظر کو جب قول امام کی دلیل کمزورمعلوم ہو تو ان کے لئے اس سے انحراف جائز ہے ، کہاں یہ ، اور کہاں وہ ؟
ہاں سابقہ چھ۶ صورتوں میں مذہب امام کی طر ف انتساب بجا ہے اس لئے کہ وہاں اس با ت کو پورے طور سے یقین ہے کہ وہ حالت اگر ان کے زمانے میں واقع ہوتی تو وہ بھی اسی کے قائل ہوتے ، جیسا کہ تنویر الابصارمیں مسجدوں کی حاضر ی سے عورتوں کی مطلقًا ممانعت کے مسئلے میں “ علی المذہب “ (بر بنائے مذہب) فرمایا محقق شامی کو اس نکتے سے غفلت ہوئی اس لئے انہوں نے مذہب کی تفسیر میں “ مذہب متاخرین “ لکھ دیا ، یہ ذہن نشین رہے ۔ اوپر کی گفتگواہل نطر سے متعلق تھی ، رہے ہم لوگ تو ہمیں اہل نظر کی طر ح نظر و اعتبار کا
فـــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ ۲ : معروضۃ علیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع