دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمان عورتوں کا وہ حال مشاہدہ کر تے جو ہم نے مشاہدہ کیا تو انہیں مسجد سے روك دیتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عورتوں کو روك دیا ، (احمد ، بخاری ، مسلم)

تنویر الابصار اور اس کی شرح در مختار میں ہے (قوسین میں متن کے الفاظ ہیں ۱۲م) (جماعت) اگر چہ جمعہ یا عید اور وعظ کی ہو (عورتوں کی حاضری مطلقًا) اگر چہ بڑھیا ہو ا گرچہ رات ہو (مکروہ ہے ہمارے مذہب پر) اس مذہب پر جس پر فساد زمان کی وجہ سے فتوٰی ہے اور کمال ابن الہمام نے بطور بحث فنا کے قریب پہنچنے والی بوڑھی عورتوں کااستثنا کیا ہے اھ۔

مذہب سے مراد مذہب متا خرین ہے اس پر صاحب بحر نے یوں رد کیا ہے کہ یہ فتوی حضرات امام وصاحبین سبھی کے مذہب کے خلاف ہے اس لئے کہ صاحبین نے بوڑھی عورتوں کے لے مطلقًا جواز رکھا ہے اور امام نے ظہر ، عصر اور جمعہ کے علاوہ میں جائز کہا ہے ، تو بوڑھی عورتوں کے لئے بھی نمازوں میں مما نعت کا

للکل فالمعتمد مذھب الامام اھ بمعناہ اجاب عنہ فی النھر قائلا فیہ نظر بل ھو ماخوذ من قول الامام وذلك انہ انما منعھا لقیام الحامل وھو فرط الشھوۃ بناء علی ان الفسقۃ لا ینتشرون فی المغرب لانھم بالطعام مشغولون وفی الفجر والعشاء نائمون فاذا فرض انتشارھم فی ھذہ الاوقات لغلبۃ فسقھم کما فی زماننا بل تحریھم ایاھا کان المنع فیھا اظھر من الظھر اھ قال الشیخ اسمٰعیل وھو کلام حسن الی الغایۃ اھ ش [1]

الــسـادسۃ فــــــ حامل اٰخر علی العدول عن قول الامام مختص باصحاب النظر وھو ضعف دلیلہ

اقول :   ای فی نظرھم وذلك لانھم        فتوی دینا سبھی کے خلاف ہے معتمد مذہب امام ہے اھ ،

نہر میں اس تردید پر جوابا یہ تحریر ہے ، یہ محل نظر ہے اس لئے کہ زیر بحث فتوی قول امام سے ہی ماخوذ ہے وہ اس لئے کہ  امام نے جن اوقات میں منع فرمایا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ با عث منع موجود ہے وہ ہے زیادتی شہوت ، اس لئے کہ فساق کھانے میں مشغولیت کی وجہ سے مغرب کے وقت راہوں میں منتشر نہیں رہتے اور فجر وعشا کے وقت سوئے ہوتے (اور دیگر اوقات میں منتشر رہتے ہیں ) تو جب فر ض کیا جائے کہ وہ غلبہ فسق کی وجہ سے ان تینوں اوقات میں بھی منتشر رہتے ہیں جیسے ہمارے زمانے کا حال ہے  بلکہ وہ خاص ان ہی اوقات میں نکلنے کی تا ك میں رہتے ہیں ، توان اوقات میں عورتوں کے لئے ممانعت ، ظہر کی ممانعت سے زیادہ ظاہر و واضح ہوگی ، اھ شیخ اسمعیل فرماتے ہیں ، یہ نہایت عمدہ کلام ہے اھ۔ (شامی)

مقدمہ ششم : قول امام چھوڑ نے کا ایك اور با عث ہے جو اصحاب نظر کے لئے خاص ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اس کی دلیل کمزور ہو ، اقول : یعنی  ان حضرات کی نظر میں کمزور ، ان کے لئے

 

فــــــ :   العدول عن قولہ بدعوی ضعف دلیلہ خاص بالمجتہدین فی المذھب و ھم لایخرجون بہ عن المذھب ۔

مأمورون باتباع مایظھر لھم قال تعالی “فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ(۲) [2] “ ولا تکلیف الا بالوسع فلا یسعھم الا العدول ولا یخرجون بذلك عن اتباع الامام بل متبوعون لمثل قولہ العام اذا صح الحدیث فھو مذھبی ،  ففی شرح الھدایۃ لابن الشحنۃ ثم شرح الاشباہ لبیری ثم ردالمحتار “ اذا صح الحدیث وکان علی خلاف المذھب عمل بالحدیث ویکون ذلك مذھبہ ولا یخرج مقلدہ عن کونہ حنفیا بالعمل بہ فقد صح عنہ انہ قال اذا صح الحدیث فھو مذھبی[3] ھ

اقول :   یرید فـــ الصحۃ فقھا ویستحیل معرفتھا الا للمجتہد                             

یہاں قول امام چھوڑنے کا جواز اس لئے ہے کہ انہیں اسی کی اتباع کا حکم ہے جو ان پر ظاہر ہو ، باری تعالی کا ارشاد ہے : اے بصیرت والو! نظر و اعتبار سے کام لو۔ اور تکلیف بقدر وسعت ہی ہوتی ہے ، تو ان کے لئے چھوڑنے کے سوا کوئی گنجائش نہیں ۔ اور وہ اس کے باعث اتباع امام سے باہر نہ ہونگے ، بلکہ امام کے اس طرح کے قول عام کے متبع رہیں گے ، اذا صح الحدیث فھو مذھبی جب حدیث صحیح ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے ابن شخنہ کی شرح ہدایہ ، پھر بیری کی شرح اشباہ پھر رد المحتار میں ہے جب حدیث صحیح ہو اور مذہب کے خلاف ہو تو حدیث پر عمل ہوگا اور وہی امام کا بھی مذہب ہوگا اس پر عمل کی وجہ سے ان کا مقلد حنفیت سے باہر نہ ہوگا اس لئے کہ خود امام سے بروایت صحیح یہ ارشاد ثابت ہیں کہ جب حدیث صحیح مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے اھ ،

اقول : یہاں صحت سے صحت فقہی مراد ہے جس کی معرفت غیر مجتہد کے لئے محال ہے

 

فـــ :  المراد فی اذا صح الحدیث فھو مذھبی ھی الحجۃ الفقھیۃ و لاتکفی الاثریۃ

لاالصحۃ المصطلحۃ عندالمحد ثین کما بینتہ فی الفضل الموھبی بدلائل قاھرۃ یتعین استفاد تھا قال ش فاذ ا نظر اھل المذھب فی الدلیل و عملوا بہ صح نسبتہ الی المذھب لکونہ صادرا باذن صاحب المذھب اذ لا شك انہ لو علم ضعف دلیلہ رجع عنہ واتبع الدلیل الاقوی ولذارد المحقق ابن الھمام علی بعض المشائخ (حیث) افتوا بقول الامامین بانہ لایعدل عن قول الامام الالضعف دلیلہ اھ[4]

 



[1]   ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۸۰ ، البحر الرائق باب الامامۃ ۱ / ۳۵۹ ونہر الفائق باب الامۃ الخ ۱ / ۲۵۱ قدیمی کتب خانہ کراچی

 

[2]   القرآن  ۵۹ / ۲

[3]   ردالمحتار  مقدمۃ الکتاب مطلب صح عن الامام انہ قال اذا صح الحدیث الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶

[4]   ردالمحتار مقدمۃ الکتاب مطلب صح عن الامام انہ قال اذا صح الحدیث الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن