30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام احمدرضابریلوی نے الله تعالٰی کی عظمت وجلالت کے خلاف لب کشائی کرنے پر بھرپورتنقید کی ، سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح(الله تعالٰی جھوٹ ایسے قبیح عیب سے پاك ہے)کے علاوہ امکان کذب کے رد پرپانچ رسالے لکھے ، الله تعالٰی کو جسم ماننے والوں کے ردمیں رسالہ مبارکہ قوارع القہار علی المجسمۃ الفجارتحریر کیا ، دین اسلام کے مخالف ، قدیم فلاسفہ کے عقائد پر ردکرتے ہوئے مبسوط رسالہ الکلمۃ الملہمۃ رقم فرمایا۔ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، صحابہ کرام ، اہل بیتِ عظام ، آئمہ مجتہدین اور اولیاء کاملین کی شان میں گستاخی کرنے والوں کاسخت محاسبہ کیا ، قادیان میں انگریز کے کاشتہ پودے کی بیخ کنی کی اور اس کے خلاف متعدد رسائل لکھے ، مثلاً
۱__ جزاء اللّٰہ عدوّہ لابائہ ختم النبوۃ
۲__قھرالدیان علی مرتد بقادیان
۳__المبین معنی ختم النبیین
۴__السوء والعقاب علی المسیح الکذاب
۵__الجراز الدیانی علی المرتدالقادیانی
امام احمدرضا نے اس دور میں پائی جانے والی بدعتوں کے خلاف جہاد کیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے تاروپود بکھیرکررکھ دئیے۔ مختصریہ کہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کی خاطر ہرمحاذ پرجہاد کیا اور تمام عمر اس کام میں صرف کردی۔
امام احمدرضابریلوی مروّجہ علوم دینیہ مثلاً تفسیر ، حدیث ، فقہ ، کلام ، تصوف ، تاریخ ، سیرت ، معانی ، بیان ، بدیع ، عروض ، ریاضی ، توقیت ، منطق ، فلسفہ ، وغیرہ کے یکتائے زمانہ فاضل تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ طب ، علمِ جفر ، تکسیر ، جبرومقابلہ ، لوگارثم ، جیومیٹری ، مثلث کروی وغیرہ علوم میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے۔ یہ وہ علوم ہیں جن سے عام طور پر علماء تعلق ہی نہیں رکھتے۔ انہوں نے پچاس سے زیادہ علوم وفنون میں تصانیف کاذخیرہ یادگارچھوڑا اور ہرفن میں قیمتی تحقیقات کااضافہ کیا ، غرض یہ کہ ایك فقیہ کے لئے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب امام احمدرضابریلوی کو حاصل تھے۔
امام احمدرضابریلوی مروّجہ علوم دینیہ مثلاً تفسیر ، حدیث ، فقہ ، کلام ، تصوف ، تاریخ ، سیرت ، معانی ، بیان ، بدیع ، عروض ، ریاضی ، توقیت ، منطق ، فلسفہ ، وغیرہ کے یکتائے زمانہ فاضل تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ طب ، علمِ جفر ، تکسیر ، جبرومقابلہ ، لوگارثم ، جیومیٹری ، مثلث کروی وغیرہ علوم میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے۔ یہ وہ علوم ہیں جن سے عام طور پر علماء تعلق ہی نہیں رکھتے۔ انہوں نے پچاس سے زیادہ علوم وفنون میں تصانیف کاذخیرہ یادگارچھوڑا اور ہرفن میں قیمتی تحقیقات کااضافہ کیا ، غرض یہ کہ ایك فقیہ کے لئے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب امام احمدرضابریلوی کو حاصل تھے۔
انہوں نے قرآن کریم کابہت گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا ، قرآن فہمی کے لئے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے ان پر انہیں گہرا عبور حاصل تھا ، شانِ نزول ، ناسخ ومنسوخ ، تفسیر بالحدیث ، تفسیرِ صحابہ اور استنباطِ احکام کے اصول سے پوری طرح باخبرتھے۔ یہی سبب ہے کہ اگر قرآنِ پاك کے مختلف تراجم کو سامنے رکھ کر مطالعہ کیاجائے
توہرانصاف پسند کوتسلیم کرناپڑے گا کہ امام احمدرضاکاترجمہ کنزالایمان ، سب سے بہترترجمہ ہے جس میں شان الوہیّت کااحترام بھی ملحوظ ہے اور عظمت نبوت ورسالت کاتقدس بھی پیش نظر ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مقلد ہونے کے باوجود عموماً مسائل پرمجتہدانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ پہلے قرآن کریم سے ، پھر حدیث شریف سے ، پھرسلف صالحین اور اس کے بعد فقہائے متاخرین کے ارشادات سے استدلال اور استناد کرتے ہیں۔
حضرت علامہ مولانا محمدوصی احمد محدّث سورتی نے ایك استفتاء بھجوایا جس میں سوال یہ تھا کہ کیامشرقی افق سے سیاہی نمودار ہوتے ہی مغرب کاوقت ہوجاتاہے ، یاسیاہی کے بلند ہونے پر مغرب کاوقت ہوگا؟ امام احمد رضانے جواب دیا کہ سورج کی ٹکیہ کے شرعی غروب سے بہت پہلے ہی سیاہی مشرقی افق سے کئی گزبلند ہوجاتی ہے۔ اس مسئلے پر استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “ اس پرعیان وبیان وبرہان سب شاہد عدل ہیں.....الحمدلله! عجائبِ قرآن منتہی نہیں... ایك ذراغور سے نظرکیجئے توآیہ کریمہ “ تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ٘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع