دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

جب یہ معلوم ہوگیا کہ تقلید حقیقی کا مدار اس پر ہے کہ سرے سے کوئی دلیل نہ ہو(تو نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیا اجماع کی طر ف رجوع ) اگر چہ ہمیں تفصیلی طور پر اس کی دلیل معلوم نہ ہو جو رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا یا جو اہل اجماع نے کہا (اس سے نہیں) یعنی تقلید حقیقی نہیں ا سلئے کہ حجت شرعیہ موجود ہے اگرچہ اجمالا ہے (اسی طرح عامی) جو مجتہدنہیں (کامفتی )مفتی ، وہی ہے جو مجتہد ہو (کی طر ف ) رجوع ( اور قاضی کا عادل) گواہوں (کی طر ف ) رجوع ، اور ان کا قول لینا کسی طر ح تقلید نہیں ، نہ ہی نفس رجوع اور نہ ہی اس کے بعد عمل ، کوئی بھی تقلید نہیں ، (اس لئے کہ ان دو نوں پر ) یہ رجوع و عمل(نص نے واجب کیا ہے ) تو یہ ایك دلیل پر عمل ہوگا اگرچہ اجمالی دلیل پر جیسا کہ معلوم ہوا تقلید کی حقیقت تو یہی ہے (لیکن عرف اس پر ) جاری (ہے کہ عامی ، مجتہد کا مقلد ہے) قول مجتہد کی دلیل تفصیلی سے آشنائی کے بغیر اس پر عامی کے عمل کو اس کی تقلید قرار دیا گیا ہے ، اگر چہ مجتہد کی طر ف عامی

 

عــــہ تقدیرہ اولی من تقدیر دل کمالا یخفی اھ منہ غفرلہ۔  (م)

یہ لفظ مقدر ماننا لفظ دلالت مقدر ماننے سے اولی ہے جیسا کہ ظاہر ہے ۱۲منہ (ت)

 

فــــ  : معروضۃ علیہ۔

یرجع الیہ لانہ مامور شرعا بالرجوع الیہ و الاخذ بقولہ فکان عن حجۃ لابغیرھا وھذا اصطلاح خاص بھذہ الصورۃ فالعمل بقول النبی صلی تعالی علیہ وسلم وبقول اھل الاجماع لا یسمیہ العرف ایضا تقلیدا (قال الامام) ھذا عرف العامۃ (و) مشی (علیہ معظم الاصولیین) والاصطلاحات سائغۃ لا محل فیھا للتذییل بان ھذا ضعیف وذاك معتمد کمالا یخفی ھذا ھو التقریر الصحیح لھذا الکلام والله تعالی ولی الانعام۔

الثالثۃ اقول :   حیث علمت ان الجمھور علی منع اھل النظر من تقلید غیرہ وعندھم اخذہ بقولہ من دون معرفۃ دلیلہ التفصیلی یرجع الی التقلید الحقیقی المحظور اجماعا بخلاف العامی فان عدم معرفتہ الدلیل التفصیلی یوجب علیہ تقلید (المجتہد والالزم

اسی لئے رجو ع کرتا ہے کہ اسے شرعا اس کی جانب رجوع کرنے اور اس کا قول لینے کا حکم دیا گیا ہے ، تو یہ رجوع دلیل کے تحت ہے بلا دلیل نہیں ،  یہ ایك اصلاح ہے جو اسی صورت سے خاص ہے او رقول رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور قول اہل اجماع پر عمل کو تو عرف میں بھی تقلید نہیں کہا جاتا (امام نے فرمایا) یہ عرف عام ہے (اور اسی پر اکثر اہل اصول) گام زن (میں) اصطلاح کوئی بھی قائم کرنے لگے گنجائش ہوتی ہے تو سبھی اصطلاحیں روا ہوتی ہیں ان سے متعلق یہ نوٹ لگانا بے محل ہے کہ فلاں اصطلاح ضعیف ہے او رفلاں معتمد ہے ، جیسا کہ مخفی نہیں ، یہ ہے کلام مذکور کی صحیح تقریر ، او رخدائے تعالی ہی فضل وانعام کا مالك ہے ۔

مقدمۂ سوم : اقول :  معلوم ہوچکاہے کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اہل نظر و ا جتہاد کے لئے یہ جائز نہیں کہ دوسرے کسی مجتہد کی تقلید کر ے او ر وہ اگر دو سرے کا قول اس کی دلیل تفصیلی سے آگاہی کے بغیر لے لیتا ہے تو جمہور کے نزدیك یہ تقلید حقیقی میں شامل ہے جو بالا جماع حرام ہے ، عامی کا حکم اس کے بر خلاف ہے اس لئے کہ دلیل تفصیلی سے نا آشنائی اس پر واجب کرتی ہے کہ وہ مجتہد کی تقلید کرے ورنہ لازم آئیگا

 

فــــ  : معروضۃ علیہ۔

التکلیف بما لیس فی الواسع او ترکہ سدی ظھران عدم معرفۃ الدلیل التفصیلی لہ اثران تحریم التقلید فی حق اھل النظر وایجابہ فی حق غیرھم ولا غر وان یکون شیئ واحد موجبا ومحرما معالشیئ اٰخر با ختلاف الوجہ فعدم المعرفۃ لعدم الاھلیۃ موجب للتقلید ومعھا محرم لہ ،  

الرابعۃ فـــ الفتوی حقیقۃ وعرفیۃ فالحقیقۃ ھو الافتاء عن معرفۃ الدلیل التفصیلی واولٰئك الذین یقال لھم اصحاب الفتوی ویقال بھذا افتی الفقیہ ابو جعفر والفقیہ ابو اللیث و اضرابھما رحمھم الله تعالی والعرفیۃ اخبار العالم با قوال الامام جاھلا عنھا تقلیدالہ من دون تلك المعرفۃ کما یقال فتاوی ابن نجیم والغزی والطوری والفتاوی الخیریۃ وھلم                                                                                                                                                                        

کہ اسے ایسے امر(دلیل تفصیلی سے آگاہی) کا مکلف کیا جائے جو اس کے بس میں نہیں یا یہ کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے ، اس سے ظاہر ہوا کہ دلیل تفصیلی سے نا آشنائی کے دو اثر ہیں(۱) صاحب نظر کے لئے و ہ تتقلید کو حرام ٹہراتی ہے (۲) اور غیر اہل نظر کے لئے وہ ہی نا آشنائی تقلید کو واجب قرار دیتی ہے ، اوریہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایك ہی چیز کسی دو سری چیز کو الگ الگ وجہوں کے تحت واجب بھی ٹھہرائے اور حرام بھی ، تو یہی ناآشنائی فقدان اہلیت کے باعث تقلید کو واجب قرار دیتی ہے ۔ اور اہلیت ہوتے ہوئے تقلید کو حرام قرار دیتی ہے۔ مقدمہ چہارم : ایك حقیقی فتوٰی ہوتا ہے ، ایك عرفی فتوائے حقیقی یہ ہے کہ دلیل تفصیلی کی آشنائی کے ساتھ فتوٰی دیاجائے۔ ایسے ہی حضرات کو اصحاب فتوٰی کہاجاتا ہے اور اسی معنی میں یہ بولا جاتا ہے کہ فقیہ ابو جعفر ، فقیہ ابو اللیث اور ان جیسے حضرات رحمہم الله تعالی نے فتوٰی دیا ، اور فتوائے عرفی یہ ہے کہ اقوال امام کا علم رکھنے والا اس تفصیلی آشنائی کے بغیر ان کی تقلید کے طور پر کسی نہ جاننے والے کو بتائے ۔ جیسے کہا جاتا ہے فتا وی ابن نجیم ، فتا وی غزی ، فتا وی طوری ، فتا وی خیریہ ، اسی طرح زمانہ و

 

فـــ  :  الفتوٰی قسمان حقیقۃ مختصۃ بالمجتھدو عرفیۃ ۔

تنزلازمانا ورتبۃ الی الفتاوی الرضویۃ جعلھا الله تعالی مُرضیۃ مرضیۃ اٰمین

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن